آدھا تیتر آدھا بٹیر

خبر ہے کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کی بجاٸے آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر بات یہاں تک ہوتی تو ہم خیر مقدم کرتے ۔ کیونکہ بہت ساری کمزوریوں کے ساتھ ساتھ ہم آزاد کشمیر کے طرز کے سیٹ اپ کو قبول کر سکتے ہیں ۔ لیکن بڑی خبر یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں تماشاٸی کی کچھ سیٹیں بھی دی جاٸیں گی اور ساتھ میں جی بی کوآزا کشمیر طرز پر جی بی اسمبلی کے ایکٹ کی بجاٸے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے چلایا جاٸے گا۔ اس آدھا تیتر اور آدھا بٹیر سیٹ اپ کو جی بی یوتھ اس منافقانہ طرز عمل کا تسلسل سمجھے گی جس کے تحت گلگت بلتستان کو پچھلے 72 سالوں سے چلایا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو کلٸیر ہونا پڑے گا کہ جی بی کو کس طرح ٹریٹ کرنا ہے آیا اسے کشمیر کے طرز پر چلایا جانا ہے یا اسے مسٸلہ کشمیر کے حل تک کی شرط پر عبوری طور پر پاکستانی صوبوں کی طرح ؟ اگر جی بی کو کشمیر طرز پر چلایا جانا ہے تو جی بی آرڈر 2019 کو مکمل آٸینی ترمیم کے اختیارات کے ساتھ صدر , وزیراعظم کےعہدے , سٹیٹ سبجیکٹ ,جھنڈا اور ترانے کے ساتھ گلگت بلتستان کی اسمبلی کا ایکٹ بنا کر نافذ کرنا ہوگا ۔ بصورت دیگر سپریم کورٹ کے واضح فیصلےاور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے تناظر میں تمام ملکی آٸنی اداروں میں مستقل نماٸندگی کے ساتھ کشمیر کے ناممکن حل تک کیلٸیے تاقیامت “عبوری” صوبہ بناکر پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرز پر چلایا جانا ہوگا ۔ آج کی یوتھ 1947 کے لوگ نہیں جو کشمیر کے نام پر فاٹا طرز کے ایف سی آر پر خاموش رہیں گ ۔عجیب بات ہے کہ ایک ایسا علاقہ (گلگت بلتستان) جس کی ملک کیلٸیے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ایک صدی سے اپنے حقوق کی راہ دیکھ رہا ہے۔ دوسری طرف ایک ایسا علاقہ(مقبوضہ کشمیر) جو ایک دن بھی اس ملک(انڈیا) کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا مکمل اندرونی خومختاری کے ساتھ تمام ملکی آٸنی اداروں میں نماٸندگی کے مزے لے رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم ان کو اپنے ساتھ ملانے کیلٸیے تین جنگیں لڑ کر اپنا بہت کچھ کھو چکے ہیں جبکہ وہ علاقہ جو پہلے ہی خود جنگ لڑ کر اس ملک کے ساتھ شامل ہوچکا اسے 72 سالوں سے عجیب و غریب پیکیجز سے ٹرخایا جا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہم بے وقوف ہیں یا یہ پالیسی ساز جو اس محب وطن لوگوں کے خوبصورت علاقے کو اپنے ہاتھوں گنوانا چاہتے ہیں ۔ انڈیا پاکستان کا کشمیر پہ جھگڑا ہی بنیادی طور پر گلگت بلتستان کی وجہ سے تھا کیونکہ گلگت بلتستان ہی وہ علاقہ ہےجو پاکستان یا انڈیا (جس کابھی قبضہ ہو) کو چین وسطی ,ایشیا افغانستان اور روس وغیرہ سے ملاسکتا تھا اسی بنیاد پر ہی مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کو خودمختار رکھنا چاہتا تھا تاکہ ان راہدارہوں سے جو گلگت بلتستان سے نکلتی ہیں دونوں ملکوں کو دنیا سے جوڑے اور ریاست کشمیر دونوں ملکوں سے فاٸدہ حاصل کرے مگر ایسا ممکن نہیں ہوپایا ۔ خوش قسمتی سے یہ علاقہ یہاں کی آزادی کے متوالوں کی مرہون منت پاکستان کے ہاتھ لگا مگر آج بھی پاکستان وہ سب کچھ سوچنے سے قاصر ہے جو مہاراجہ ہری سنگھ ایک صدی پہلے سوچ رہا تھا ۔ اگر چاٸینہ سی پیک نامی دفاعی پروجیکٹ کا آغاز نہ کرتا اورگوادر جا بیٹھنے کا فیصلہ نہ کرتا تو یہ راہداریاں کسی کام کی نہ تھیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دفاعی اوراسٹرٹجیکلی اہم علاقے کے ساتھ کھلواڑبند کیا جاٸے اور اسے مکمل آزاد کشمیر طرز پر ایک ریاستی شکل دی جاٸے یامقبوضہ کشمیر طرز پر مکمل آٸنی صوبے کی شکل دیکر یہاں کی عوام کی ایک صدی پر محیط محرومیوں کا ازالہ کیا جاٸے۔ یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر کا کھیل بند کیاہونا چاہٸیے۔
تحریر :انجنٸیر شبیر حسین ترجمان جی بی اوٸیرنیس فورم

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔