آرمی چیف کے سیک کرنے کی افواہ اور خدشات

تحریر : لیفٹینٹ کرنل (ر)غلام جیلانی خان

چند روز پہلے افواہ اُڑی تھی کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو حکومت نے سیک کر دیا ہے، لیکن یہ افواہ اس لئے ادھوری تھی کہ ان کی جگہ لینے والے کا نام پردۂ اخفا میں رکھا گیا تھا۔ پھر فوراً ہی ہمارے وزیر داخلہ نے اس کی تردید کر دی، حالانکہ کام ان کا نہیں تھا، وزیر دفاع کا تھا۔ لیکن شائد وہ کہیں اور کسی اور اہم تر کام میں مصروف ہوں گے اس لئے یہ فریضہ چودھری نثار علی خان کو انجام دینا پڑا۔
افواہ خودبخود کبھی نہیں اڑتی، اڑائی جاتی ہے۔ یہ سوال6ملین ڈالر کا بن گیا ہے کہ کس نے اڑائی اور جس نے اڑائی اس کے عزائم کیا تھے۔ یہ کام تو انٹیلی جنس اداروں کا ہے کہ وہ اس کی تحقیق کریں کہ اس افواہ کا اصل منبع(سورس) کہاں ہے۔ میرا خیال ہے کہ جن کے بارے میں یہ افواہ اڑائی گئی تھی، وہ اس کے ’’اثراتِ نیک و بد‘‘ سے غافل نہیں ہوں گے اور تفتیش کا عمل جاری ہو گا۔۔۔سوچنے کا مقام یہ ہے کہ جو کام آرمی چیف گزشتہ ڈیڑھ برس سے انجام دے رہے ہیں، کیا وہ اتنا ہی قابلِ گرفت تھا کہ حکومت کا نام لے کر اسے بدنام کرنا پڑا۔۔۔ اس افواہ کو کسی دیوانے کی بڑ سمجھ کر ہر گز نظر انداز نہیں کر دینا چاہئے۔ دیکھنا چاہئے کہ جس دیوانے نے بھی یہ دیوانگی دکھائی ہے اس میں فرزانگی کا تناسب کیا ہے۔
جنرل ایوب سے لے کر جنرل راحیل شریف تک کوئی ایسا آرمی چیف نہیں گزرا، جس کے بارے میں یہ گمان کیا جائے تو وہ سول اور ملٹری سوسائٹی دونوں میں یکساں مقبول رہا ہے۔ ماضی میں عنانِ اقتدار باری باری ملٹری اور سول افراد کے ہاتھوں میں آتی رہی ہے، لیکن مجھے یاد نہیں کہ کسی سویلین حکمران کے بارے میں بھی یہ افواہ اڑائی گئی ہو کہ اس کو کسی دوسری سویلین قوت نے سیک کر دیا ہے۔ سیک کرنے کی قوت تو صرف آرمی کے پاس ہوتی ہے، اس لئے جب آرمی نے کسی سویلین حکمران کو سیک کرنا ہوتا ہے تو وہ چھپ چھپا کر یہ کام نہیں کرتی، علی الاعلان کرتی ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو موجودہ سویلین سربراہ حکومت کا ٹریک ریکارڈ ایسا ہے کہ ان سے توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ اپنے آرمی چیف کو سیک کر دیں، اس لئے جس کسی نے بھی یہ افواہ اڑائی اُس نے میاں صاحب کے ماضی کے ر ول کو فراموش نہیں کیا ہو گا! مگر ماضی قریب و بعید کے18،19مہینوں میں تو کبھی کوئی ایسا وقت نہیںآیا کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان کسی اختلاف کی کوئی معمولی سی خبر یا افواہ بھی سامنے آئی ہو اس لئے یہ افواہ نہ صرف فوج کے لئے باعث حیرانی ہے، بلکہ خود سویلین حکومت کے لئے بھی تعجب کا باعث ہو گی کہ وہ اپنے ہر دلعزیز آرمی چیف کو سیک کر دے۔
قیاس کے گھوڑے اگر دوڑائے جائیں تو افواہ کا منبع خود فوج ہو سکتی ہے۔۔۔۔ اس کی وجوہات بظاہر حیران کن ہوں گی، لیکن اگر ان کا تجزیہ کیا جائے تو شاید میرے اس ’’الزام‘‘ میں صداقت کا کوئی پہلو نکل ہی آئے۔آرمی کے اندر آرمی چیف (اور ان کے ساتھ پوری ہائر آرمی کمانڈ) کا تیا پانچہ کرنے کی روائت کوئی نئی نہیں۔ راولپنڈی سازش کیس سے لے کر جنرل پرویز مشرف پر حملوں کی برسات تک کا ایک ریکارڈ موجود ہے۔ ان حملوں کی وجوہات ہر دور میں مختلف رہی ہیں۔ کبھی سنیارٹی، کبھی عقیدہ، کبھی ڈسپلن اور کبھی سیاست، ملٹری حکمرانوں کے خلاف ’’کود تاؤں‘‘ کا باعث بننے والے عوامل رہے ہیں، لیکن جہاں تک موجودہ آرمی چیف کا تعلق ہے، تو ان کے ’’جرائم‘‘ کی نوعیت اور تعداد ماضی کے آرمی چیفس کے مقابلے میں سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔۔۔ مَیں اس کی تھوڑی سی وضاحت کرنی چاہوں گا۔ درج ذیل پہلو قابلِ غور ہیں:
(1) کیا کسی گزشتہ آرمی چیف نے حاضر سروس سینئر آرمی آفیسرز کو بہ یک بینی و دو گوش سیک کیا ہے؟ کیا آج تک کسی (ریٹائرڈ ہی سہی) جرنیل کو بدعنوانی کی یہ سزا دی گئی ہے کہ اس سے نہ صرف اس کا رینک واپس لے لیا جائے، بلکہ اس کی دیگر مراعات بشمول میڈیکل سہولیات تک بھی ضبط کر لی جائیں؟
(2) کیا کسی گزشتہ آرمی چیف نے اپنے پیشرو کو مُلک سے باہر جانے سے روکا ہے؟ (افواہ یہ بھی ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پر مُلک چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی ہے)
(3) کیا کسی سابقہ آرمی چیف کے بھائیوں پر غبن، بدعنوانی اور بددیانتی کے مقدمات کی تفتیش آج تک کسی حاضر سروس آرمی چیف نے کروائی ہے؟
(4) کیا آج کل بہت سے حاضر سروس/ ریٹائرڈ سینئر افسروں کے خلاف نیب کا ادارہ ضرورت سے زیادہ سرگرمِ عمل نظر نہیں آتا؟
(5) کیا نیب پر یہ دباؤ نہیں ہے کہ وہ جلد از جلد فوجی افسروں کے خلاف تحقیقات مکمل کرے اور رپورٹ افسرانِ متعلقہ کو پیش کرے؟
(6) کیا ان سب مقدموں کی تحقیقات کے نتائج، ممکنہ ملزمان کو نظر نہیں آ رہے؟
(7) اگر آ رہے ہیں تو کیا وہ چین سے ’’فارغ‘‘ بیٹھ سکتے ہیں؟
(8) کیا ان ممکنہ ملزموں کی تعداد اگر زیادہ ہو تو وہ اپنے ماضی کے ان درجنوں دوستوں کے تعاون کا سہارا نہیں لے سکتے، جو آج فوج کے کلیدی مناصب پر فائز ہیں؟
(9) کیا جنرل راحیل شریف کے یہ اقدامات کہ وہ پہلے اپنے ادارے کا احتساب کرنا چاہتے ہیں، کوئی ڈھکی چھپی بات ہے؟
(10) کیا اس استدلال میں کوئی شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ اگر فوج کے اعلیٰ افسران کو قرار واقعی سزائیں دی جا سکتی ہیں تو سویلین حضرات کو کیوں نہیں؟۔۔۔بلکہ ان کے زد میں آنے کا جواز تو زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
(11) کیا ایسے میں سول انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز بہت سے بیورو کریٹس ،بہت سے سیاست دان اور بہت سے اعلیٰ عدلیہ کے فاضل جج صاحبان بھی اگر مجرم پائے جائیں تو سزا سے بچ سکیں گے؟
(12) کیا موجودہ حالات میں، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے وہ لوگ خواہ کتنے ہی اعلیٰ مناصب پر فائز ہوں اگر کسی جرم میں ملوث پائے جائیں اور ان کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ جائیں تو وہ احتساب کے گھیرے میں نہیں آئیں گے؟
(13) کیا معروف و مشہور میڈیا ہاؤسز کو معلوم نہیں کہ ان کے اپنے کیا کیا راز ہائے سر بستہ مُلک کی سویلین اور ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس ہیں؟
(14) کیا آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس ، انٹیلی جنس بیورو یاFIA وغیرہ کے پاس اُن حضرات و خواتین کی پرسنل فائلوں کا انبار موجود نہیں، جو مُلک کے مختلف محکموں میں کسی نہ کسی ایسی بدعنوانی کے مرتکب ہوئے، جن کا منظر عام پر آنا، ان کے لئے زندگی اور موت کا سوال بن سکتا ہے؟
قارئین گرامی!دیکھا جائے تو گزشتہ سات عشروں میں کوئی ادارہ/ شخصیت (چھوٹی یا بڑی) ایسی نہیں، جس سے کوئی بے قاعدگی/ بے ضابطگی سرزد نہ ہوئی ہو۔ لیکن بعض بے ضابطگیاں/ بدعنوانیاں شائد کسی نہ کسی حوالے/ بہانے سے قابل معافی ہوں، لیکن بہت سی ایسی بے ضابطگیاں اور بدعنوانیاں بھی ہوں گی، جو زیادہ بھیانک، خوفناک اور دور رس اثرات کی خالق ہوں گی۔ان کو کوئی معاشرہ نظر انداز نہیں کر سکتا۔۔۔۔ یہ ایک بہت Huge موضوع ہے، جس میں احتساب کا دائرہ بھی بہت وسیع اور Huge ہے۔۔۔ کیا جنرل راحیل شریف اس گندگی کے دلدل کی صفائی میں اترنا چاہیں گے؟۔۔۔ فوجی عدالتوں کو سپریم کورٹ نے بے شک آئینی قرار دے دیا ہے، لیکن اگر فوجی عدالتیں صرف اپنے فوجی اداروں کو ہی دیکھیں تو ان کی سفید چادر پر بڑے بڑے سیاہ داغ کسی نہ کسی کونے میں موجود ہو سکتے ہیں۔ میڈیا والے متعلقہ اور متاثرہ لوگوں کے انٹرویو کریں، ان سے پوچھیں کہ ان کی آنکھوں نے کیا دیکھا اور کیا سُنا۔ فوج میں ہر چیز کا تحریری ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔اس کا اپنا نظامِ احتساب ہے، اُس سے باہر نکل کر اگر کوئی فوجی آفیسر (خواہ اس کا رینک کوئی بھی ہو) اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کر سکتا ہے تو کرے اور اس کا ثبوت لائے۔
میرا خیال سرا سر غلط بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر جنرل صاحب کے خلاف کسی نے ان کے سیک کئے جانے کی افواہ اڑائی ہے تو وہ ایسے اشخاص ہوں گے جن کو اپنا انجام نوشتۂ دیوار معلوم ہو رہا ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے کیسوں کی تفتیش جلد مکمل ہو۔ایسے اشخاص کسی بھی حد تک سوچ سکتے ہیں، اور کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ان سے خبردار رہنا ہو گا۔مجھے یقین ہے جنرل صاحب ان ’’دوستوں‘‘ سے بے خبر نہیں ہوں گے۔ لیکن مَیں کون ہوتا ہوں ان کو خبردار کرنے والا؟ میرے پاس کیا وسائل ہیں کہ اپنے خدشات کے درست یا غلط ہونے کی تحقیق یا تفتیش کر سکوں۔ مَیں تو دِل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں، سو کر رہا ہوں۔
مجھے ایک انجانا سا خدشہ محسوس ہو رہا ہے کہ جنرل صاحب کی مخالفت، ان کے ادارے کے اندر سے زیادہ ہو گی، باہر سے کم۔۔۔ باہر کے ’’لوگ‘‘ بھی اگرچہ ’’منتظر‘‘ تو ہوں گے لیکن کہتے ہیں کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھانے میں باہر کے بھیدی سے زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ مُلک اور قوم نے ماضی میں کئی بار فوج اور فوجی آمروں سے کئی امیدیں لگائیں اور وہ پوری نہ ہو سکیں۔ جنرل صاحب ایک اور فوجی آمر بننے کو تیار نہیں، تاہم ان لوگوں سے خبردار رہیں جن پر زد پڑنے والی ہے۔ اگر ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی اور ان کے جرائم کی نوعیت بھی ہشت پہلو بن کر سامنے آئی تو پاک فوج کا وہ انٹرنیشنل امیج جو آج ساری دُنیا کی افواج میں مسلم ہے، کسی بڑے سکیل پر مجروح ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ بات بھی غلط نہیں کہ دُنیا کی کوئی فوج ایسی نہیں، جس کا ماضی اور حال یکساں شہرت کا حامل رہا ہو۔ ہاں ان اقدار میں کمی بیشی ہو سکتی ہے اور ہوتی رہتی ہے۔۔۔ ذرا دوسری جنگ عظیم سے پہلے1930ء کے عشرے میں روس کی ریڈ آرمی کی تاریخ پڑھ کر دیکھیں، مارشل سٹالن نے اپنے 70فیصد سینئر جرنیلوں کو بیک جنبشِ قلم ڈسچارج کر دیا تھا یا ان کے سر قلم کروا دئے تھے۔ یہ تطہیر (Pruge) تاریخِ عالم میں یادگار رہے گی کہ اسی کی بدولت رشین/سوویت آرمی نے دوسری عالمی جنگ میں اتحادیوں کی فتح میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ اور چین میں بھی تو آج کل یہی کچھ کیا جا رہا ہے

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful