anjum

اب تو ہوش کے ناخن لے لو حکمرانو۔۔

 مودی نے یوم آذادی جیسے اہم ترین دن موقع پر اپنے خطاب میں گلگت بلتستان کے عوام کی طرف سے انہیں شکریہ ادا کرنے کا ذکر کیا۔ میں سوچ رہا ہوں عوام سے مطلب کیا ہے؟ ہمارے عوام تو مصلحتوں کے پیچھے اتنے مجبور ہیں کہ ہمارے اوپر آئینی اور قانونی حقوق کا مطالبہ کرنے پر بھی غداری کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے لیکن وہ نڈر عوام کون تھے ہم سب کو سوچنے اور تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بیان کے بعد پاکستان کے سیاسی اور سیکورٹی اداروں میں یقیناًکھل بلی مچ گئی ہوگی کیونکہ پاکستان جو کل تک بلوچستان کیلئے پریشان تھا حالانکہ بلوچستان آئینی طور پر پاکستان کا صوبہ ہے لیکن گلگت بلتستان کے حوالے سے تو پاکستان کا واضح موقف ہے کہ یہ خطہ آئینی اور قانونی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ مسلہ کشمیر سے منسلک متنازعہ علاقہ ہے۔ اس کے برعکس بھارت کا دعویٰ ہے کہ نہیں گلگت بلتستان قانونی طور پر ہمارا حصہ ہے لیکن پاکستان کی خوش قسمتی اور اسلامی ملک ہونے کا یہ فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے عوام کی وفاداریاں بھارت کے بجائے پاکستان کے ساتھ ہیں بلکہ ہم تو مطالبہ کرتے ہیں کہ لداخ بھی چونکہ ماضی میں بلتستان کاتھا لہذا لداخ کو بھی واپس کیا جائے۔ مودی کا بیان پاکستانی حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جس خطے سے آپکے عسکری معاشی اور جعرافیائی حوالے کثیر مفادات وابستہ ہیں لیکن اس خطے کے عوام کے ساتھ آپ نے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہے۔ اور اس سوتیلے پن سے بھی آپکا دل نہ بھرا تو آپ نے قانون ساز اسمبلی کے نام پر ایسے افراد کو ہمارے عوام پر مسلط کیا ہوا ہے جو تخت پنجاب کے غلام ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پنجاب سے ٹیکس کھاتے ہیں لہذا ہمیں احسان مند ہونا چاہیے۔ ان لوگوں نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ ہمارے وسائل پر ہم وفاق نے ہمیں کتنا رائلٹی دینا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس بے حسی میں اگر وفاق پاکستان سمجھتے ہیں کیونکہ تخت گلگت چونکہ ہمارے ماتحت ہیں لہذا یہاں سے ہماری رٹ کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتے۔ یہ ایک غلط سوچ ہے اس سوچ اور روئے کو بدلنے کی ضرورت ہے ورنہ واقعات رونما ہونے میں دیر نہیں لگتا ایسا نہ ہو کہ کل کو گلگت بلتستان میں بھی کوئی شیخ مجیب الرحمٰن نکل آئے اور آپ خوش فہمی کے کشتی کو سمندر میں غرق جائے۔ اور کوئی اور جنرل نیازی آپ کیلئے شرم کا باعث بنے۔لہذا مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے ہمارے خطے میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی کو روک دیا جائے خالصہ سرکار کے نام پر عوامی زمینوں کو حکومتی ملکیت میں لینا ترک کریں اور عوامی فیصلے عوام کو کرنے دیں ۔ہمیں بین الاقوامی قوانین کے تحت حقوق دیا جائے۔یہی ہمارا مطالبہ بھی ہے اور آپکی بھلائی کیلئے گزارش بھی۔

از- شیر علی انجم

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

One comment

  1. we r pakistani and i think that all the pople of gilgit baltistan love our home land. we rejected modi

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful