اب کوئی آرڈر نہیں ،اپنا آئین اور جھنڈا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن ایک پیچ پر

گلگت: گلگت متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان اسمبلی کیپٹن(ر) محمد شفیع، جاوید حسین، نواز خان ناجی، عمران ندیم اور بی بی سلیمہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں گلگت بلتستان سے متعلق جو فیصلے ہوئے ہیں ان میں گلگت بلتستان کے عوام کی اجتماعی خواہشات شامل نہیں ہیں. وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان ایک پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ یہ گلگت بلتستان کا قومی مسلہ ہے

جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے. اگر یک طرفہ کوئی فیصلہ ٹھونسے کی کوشش کی گئی تو ہم اس کے خلاف احتجاج کرینگے اور ہمیں ایسا کوئی فیصلہ منظور نہیں جس میں قومی اتفاق رائے شامل نہ ہو.

انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں اپنا آئین، اپنا جھنڈا اور اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار چاہیئے.اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں لوکل اتھارٹیز کو بااختیار بنانا ہے تو یہاں سے وفاقی اداروں کا انخلا لازمی ہوگا. یہاں لوکل اتهارٹیز بااختیار نہیں ہیں. جس طرح کشمیر بااختیار ہے اسی طرح گلگت بلتستان بھی بااختیار ہونا چاہیے.

اس وقت گلگت بلتستان اسمبلی کی حیثیت وفاقی ڈپٹی سیکرٹری کے برابر بھی نہیں.انہوں نے مذید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اب ہم اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے پڑینگے.

۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمنٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کو مزید کسی آرڈر کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا

ان کا مزید کہنا تھاکہ جی بی کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنا تو جی بی کے عوامی نمائندوں اور منتخب اسمبلی ممبران کو اعتماد میں لینا ضروری ہے

تکہ عوامی نمائندے اپنے عوام کی خواہشات اور جذنات کو ملک کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچائیں۔

ٹیکس نظام اور گندم سبسڈی میں بی الحال کسی قسم کی تبدیلی یا چھیڑ چھاڑ کی گنجائش نہیں۔

 

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔