اقوام متحدہ قوموں کی خواہشات کی ترجمانی نہیں کرتا: احمدی نژاد

گذشتہ ہفتے ایران کے صدر حسن روحانی کا دورہ نیویارک دیکھنے والے لاکھوں ایرانیوں میں سے صرف تین کو معلوم ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک ایرانی رہنما کے طور پر خطاب کرنا کیسا لگتا ہے۔

عرش عزیزی

ان رہنماؤں میں ایک آیت اللہ خامنہ ای شامل ہیں جنہوں نے 1987 میں سربراہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اب وہ ملک کے طاقتور ترین رہبر اعلیٰ ہیں۔ دوسری شخصیت محمد خاتمی ہیں نے جنہوں نے دو مرتبہ (1998 اور 2001)میں عالمی ادارے میں تقریر کی اور اب وہ حزب اختلاف کے اصلاح پسند رہنما ہیں جن پر قومی ذرائع ابلاغ میں آنے پر پابندی ہے۔

محمود احمدی نژاد پہلے ایرانی رہنما ہیں جنہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کی۔ اس سے پہلے محمد خاتمی واحد ایرانی رہنما تھے جو ایک سے زیادہ بار اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ (اس ضمن میں شاہ ایران کے دورے شمار نہیں کیے گئے جن میں عام بحث کے دوران روسٹرم پر کھڑے ہو کر بولنا کبھی شامل نہیں تھا۔)

اپنے عہدہ صدارت کے دوران محمود احمدی نژاد نے ہر سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔ وہ 2005 سے 2012 تک کل آٹھ بار اجلاس میں شریک ہوئے۔ وہ ہمیشہ متنازع رہے اور جرمن آمر ایڈولف ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی (ہولوکاسٹ) اور ایران میں ہم جنس پرستوں کی موجودگی کا انکار کر کے بعض اوقات انہیں بدنامی بھی مول لینی پڑی۔ (اس وجہ سے نہیں کہ ان کے زیادہ آزاد خیال پیشرو کہیں زیادہ بہتر تھے۔ سابق ایرانی صدر محمد خاتمی نے 2006 میں امریکہ کا دورہ کیا اور مسلمان ملکوں میں ہم جنس پرستوں کو عدالتوں کی جانب سے سزا کا دفاع کیا)

احمدی نژاد نے اس امر کو یقینی بنایا کہ ان کے دورے خبروں کے اعتبار سے اہمیت کے حامل ہوں۔ صدر حسن روحانی اور ان کی ٹیم کے برعکس انہوں نے ایران کے اختلاف رائے رکھنے والے ذرائع ابلاغ کے صحافیوں کا خیرمقدم کیا اور انہیں وسیع تر رسائی دی۔

احمدی نژاد اگر اس وقت ایران کے صدر ہوتے تو کیا کرتے؟لازمی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے بڑے بڑے کمروں میں صدر حسن روحانی کے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور فرانیسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ گھل مل جانے کی ویڈیو دیکھ کر یہ سوال اپنے آپ سے پوچھتے۔تہران میں سابق ایرانی صدر احمدی نژاد نے ٹیلی فون پر مجھ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ’احمدی نژاد اس سے کچھ مختلف کرتے۔ صرف میں ہی ذاتی طور پر نہیں بلکہ کوئی بھی اقوام عالم اور آج زنجیروں میں جکڑی انسانیت کی بات کرکے اقوام متحدہ میں ماحول تبدیل کر سکتا تھا۔‘ان الفاظ نے ہماری گفتگو کا انداز طے کر دیا۔ ہم نے تقریباً ایک گھنٹہ بات کی لیکن انہوں نے موجودہ یا ماضی کی اپنی پالیسیوں کے حوالے سے مخصوص سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا۔ اس کی بجائے انہوں نے عالمی نظام کے بارے میں باتیں اور ’مطلق آزادی‘ سے متعلق اپنے خیالات دہرائے اور زور دیا کہ ان کا اطلاق پوری دنیا پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ عالمی نظام کے مرکز کے طور بنائی گئی تھی لیکن آج عالمی تعلقات میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ عالمی ادارہ قوموں کی خواہشات کی ترجمانی نہیں کرتا۔‘

حزب اختلاف کا سخت گیر رہنما؟اپنی مدت صدارت کے دوران احمدی نژاد زیادہ تر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی پسندیدہ شخصیت رہے۔ سپریم لیڈر نے ان کی کسی خاص انداز میں تو تعریف نہیں کی۔ ان کے سیاسی حریف آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کے خلاف احمدی نژاد کی مؤثر انداز میں توثیق سے سپریم لیڈر کی غیرجانبداری متاثر ہوتی۔ رفسنجانی اسلامی جمہوریہ ایران کے بانیوں میں شامل ہیں جنہوں نے 2005 کے صدارتی الیکشن میں جوان اور نڈر احمدی نژاد سے شکست کھانے کے بعد ان سے ماتھا لگایا۔نڈر سابق میئر تہران سپریم لیڈر کے لیے سخت جو ثابت ہوئے۔ احمدی نژاد کھلم کھلا آیت اللہ خامنہ ای سے الجھے اور اپنے بعض قریبی مشیروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی سپریم لیڈر کے ہدایت ماننے سے انکار کر دیا۔ ان مشیروں میں پہلا اور سب سے بڑا نام متنازع نائب صدر اسفندیار رحیم مشائی کا تھا۔تصوف، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیا میں دوبارہ آمد کے عقیدے اور متروک ایرانی قوم پرستی پر فخر کرنے والے مشائی جلد ہی ایران کی مذہبی ایسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مسترد کر دیے گئے۔ احمدی نژاد نے ڈٹ کر ان کی حمایت کی اور2013 میں اپنی مدت صدارت ختم ہونے پر ان کی اپنے جانشین کے طور پر توثیق کی۔ پیش گوئی کے مطابق جانچ پڑتال کرنے والے ایرانی اداروں نے صدر کے عہدے کے لیے مشائی اور رفسنجانی دونوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ بعد میں احمدی نژاد حکومت کے دیگر کئی رہنماؤں کی طرف مشائی بھی جیل پہنچ گئے۔قسمت نے احمدی نژاد کا ساتھ دیا اور رہبر اعلیٰ نے انہیں ایران کے مجمع تشخیص مصلحت نظام (Expediency Council) کا رکن مقرر کر دیا۔ (یہ ایک حد تک بااختیارادارہ ہے)اس وقت احمدی نژاد حزب اختلاف کی مؤثر شخصیت ہیں۔ایران کے سخت گیر سابق صدر احمدی نژاد کو اصلاح پسند اور روحانی انتظامیہ کے ٹیکنوکریٹس دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ قدامت پسندوں کی اکثریت بھی انہیں پسند نہیں کرتی۔ سابق صدر نے گذشتہ برس ایرانی صدر،عدلیہ اور پارلیمان کے استعفوں کا مطالبہ کرکے ہلچل پیدا کر دی۔ اس سال کے شروع میں انہوں نے نیا سیاسی منشور جاری کرنے کے لیے اپنے حامیوں کو اکٹھا کیا۔احمدی نژاد نے میرے ساتھ بات چیت میں اس منشور کو انقلاب کی بنیادیں قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’ہمارا عوامی انقلاب انسان دوست انقلاب ہے۔ نہ صرف ایرانی عوام  بلکہ تمام قوموں کے انسانی حقوق کے لیے بڑی قربانی دی گئی ہے۔ ہمارا نیا منشور صرف ایران نہیں بلکہ نسل، جغرافیے، رنگ اور یہاں تک کہ مذہب سے قطع نظر پوری دنیا کے لیے ہے۔‘

کیا احمدی نژاد کی واپسی ہوگی؟میں انٹرویو کا اختتام اس سوال پر کر رہا ہوں جس پر کئی لوگ غور کر چکے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ احمدی نژاد کو موقع دیا گیا تو کیا وہ صدارتی الیکشن لڑیں گے؟احمدی نژاد نے کہا: ’ہمارا بنیادی فرض معاشرے کی اصلاح ہے۔ ایران میں اور بین الاقوامی سطح پر۔ اس کے لیے کسی عہدے کی جانب دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘’ہم اپنے لوگوں کی خواہشات پر عمل کریں گے جسے وہ چاہیں انچارج بنا دیں۔‘میں نے ان سے پوچھا کہ اگر وہ لوگ ان کی سیاست میں واپسی کا مطالبہ کریں جن سے وہ ملتے ہیں تو ان کا جواب کیا ہوگا؟ اس سوال پر ایران کے سابق صدر کی گرمجوشی نمایاں تھی۔ انہوں نے کہا: ’انہوں نے ہمیشہ ایسا چاہا ہے۔ انہوں نے اس پر اصرار کیا ہے۔ بعض اوقات وہ مجھے واپسی کا حکم دیتے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ انشااللہ ہم مل کر کچھ کریں گے۔‘

About VOM

Avatar
وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔