امام کعبہ کا دورہ پاکستان، دوہرا معیار اور فکری تضادات

تحریر: ابو فجر لاہوری

امام کعبہ شیخ صالح بن محمد آل طالب مرکزی جمعیت اہلحدیث کی دعوت پر اس سال پھر لاہور آئے۔ گذشتہ برس بھی امام کعبہ علامہ ساجد میر کے ہی مہمان تھے، اس بار انہوں نے جہاں جمیعت اہلحدیث کی کانفرنس میں شرکت کی، وہیں وہ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی کے عصرانے میں بھی شریک ہوئے۔ امام کعبہ جامعہ اشرفیہ بھی گئے اور وہاں نماز کی امامت کروائی۔ امام کعبہ نے وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف سے ملاقات بھی کی۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں وزیراعلٰی سے ہونیوالی اس ملاقات میں امام کعبہ نے لاہور کی خوبصورتی، نئی سڑکوں اور فلائی اوورز کی تعریف کی۔ امام کعبہ نے کالا شاہ کاکو میں ہونیوالی “آل پاکستان اہلحدیث کانفرنس” میں جمعہ بھی پڑھایا اور اپنے خطبے میں دہشگردی کو اسلام کی غلط تشریح سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے، مگر اس کی غلط تشریخ کے باعث دہشتگردی اور انتہا پسندی کو فروغ ملا اور اس سے اسلام بدنام ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دنیا میں دہشتگردی اور فساد کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا، جو دشمن بھی سامنے آئے گا “اسلامی فوجی اتحاد” اس کا مقابلہ کرے گا۔ امام کعبہ نے یہ وضاحت نہیں کی دہشتگردی کون پھیلا رہا ہے اور اسلام کی غلط تشریح کس نے کی۔؟

امام کعبہ کو علم ہونا چاہیے کہ دنیا بھر کی بدامنی کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہیں اور امام صاحب کا اپنا ملک سعودی عرب ان دونوں عالمی دہشتگردوں کا بہترین دوست ہے۔ امام کعبہ کو علم ہونا چاہیے کہ جس اسلامی فوجی اتحاد کی انہوں نے بات کی، اس میں صرف “وہابی” ممالک ہی شامل ہیں۔ پوری دنیا میں انہیں کوئی شیعہ ملک دکھائی نہیں دیا، جس کو وہ اپنے اتحاد میں شامل کرکے یہ واضح کرسکتے یہ “وہابی” نہیں “اسلامی” اتحاد ہے۔ امام کعبہ نے دہشتگردی کی مذمت کی، لیکن یمن میں ان کا اپنا ملک جو کچھ کر رہا ہے، کیا وہ دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا؟؟ نہتے اور بے گناہ شہریوں پر بمباری، سکولوں اور ہسپتالوں کو کھنڈروں میں تبدیل کرنا، یہاں تک کہ مساجد کو بھی نہ بخشنا کون سا اسلام ہے؟ یمن کے عوام کا “جرم” صرف یہ ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے یار کو اپنا صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک دوست کی خوشنودی کیلئے سعودی عرب نے نہ صرف معصوم بچوں کو کلسٹر بمبوں کا نشانہ بنایا بلکہ مساجد پر حملے کرکے قرآن کی توہین کیساتھ ساتھ بیت اللہ کی تباہی کا بھی سامان کر دیا، حالانکہ یمن کے حوثی شیعہ نہیں اہلسنت ہیں۔

فلسطین میں اسرائیل مسلمان خواتین کی عصمت دری سے لے کر چھوٹی چھوٹی بچیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے مگر ریاض اور تل ابیب کی گہری دوستی ہے۔ بھارت کشمیر میں مسلمانوں کو اپنے ستم کا نشانہ بنا رہا ہے مگر سعودی عرب میں مودی کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ امام کعبہ پاکستانی قوم کو “انسانیت کا درس” دینے سے پہلے اپنے گھر سے اس “انقلاب” کا آغاز کرتے تو ان کی بات میں وزن بھی ہوتا۔ امام کعبہ نے دورہ لاہور کے موقع پر میاں نواز شریف کی طرف سے ناشتے کی دعوت سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ سیاسی لوگوں سے نہیں ملیں گے، جبکہ انہوں نے اس بات پر بھی دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا۔ نواز شریف سے ملاقات سے انکار کر دیا لیکن ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف سے ملنے ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے۔ امام کعبہ نے کہا کہ ان کا دورہ لاہور صرف مذہبی ہے لیکن انہوں نے صرف مخصوص “وہابی فرقے” کے افراد سے ہی ملاقاتیں کی۔ حالانکہ کعبہ صرف وہابیوں کا نہیں تمام مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔ اگر وہ اتحاد و وحدت و بھائی چارے کا پیغام لے کر آئے تھے تو انہیں اہلسنت اور اہل تشیع رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنی چاہیں تھیں۔ وہ وہابیوں کیساتھ ساتھ سنیوں اور شیعوں سے بھی ملتے تو دنیا اس اقدام کو سراہتی کہ امام کعبہ نے اتحاد کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن انہوں نے اپنے مذہبی دورے کو اپنے ہم مسلک افراد تک ہی محدود رکھ کر ثابت کیا کہ وہ اتحاد کیلئے نہیں بلکہ اپنے ہی ہم مسلک افراد کے جلسے میں شرکت کیلئے لاہور آئے تھے۔

امام کعبہ نے علماء پر زور دیا کہ وہ مسلمانان عالم کی درست رہنمائی کرکے انہیں بھٹکے ہوئے اور گمراہ لوگوں کی شرانگیزیوں سے بچائیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ امام کعبہ نے علماء کو جن گمراہ اور بھٹکے ہوئے لوگوں سے بچانے کی تلقین کی ہے، ان گمراہ اور بھٹکے ہوئے لوگوں کی سرپرستی اور مالی امداد سعودی عرب ہی کر رہا ہے۔ یہ ریکارڈ پر ہے کہ داعش کو بنانے میں سعودی عرب کا نمایاں کردار ہے، آج امام کعبہ اسی داعش کو گمراہ اور بھٹکے ہوئے قرار دے رہے ہیں۔ امام کعبہ اپنے گھر سے “صفائی” کا عمل شروع کریں، جب ان کا اپنا “گھر” صاف ہوگیا، مسلم دنیا میں خودبخود تبدیلی آ جائے گی۔ اُمت مسلمہ کے اتحاد کی بات کرنیوالولے عالمی مسلم دشمن ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ تو بیٹھ جاتے ہیں اور ایران کیساتھ ہاتھ ملانا بھی گورا نہیں کرتے۔ یہ دوہرا معیار ہی ہے جس کے باعث اُمت مسلمہ مسائل اور پریشانیوں کا شکار ہے۔ جس دن سعودی عرب نے نیک نیتی سے امت مسلمہ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا، اس دن سے ہی امت مسلمہ مسائل کی دلدل سے نکل آئے گی۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، یہ دنیا کا واحد ملک ہے، جس کی بنیاد کلمہ طیبہ کی پر رکھی گئی۔

پاکستان کو اپنے لوگوں کو جائے امان کے طور پر لے کر دینے کی جدوجہد کرنیوالوں نے اس کیلئے ریاست مدینہ کا نقشہ ذہن میں رکھا تھا، ایک ایسی ریاست جہاں کا نظام اسلام کے اساسی نظریات کے مطابق وضع کیا جانا تھا، دستور پاکستان میں اسی کی روشنی میں یہاں بسنے والوں کو مساوی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج یہی خطہ عام انسانوں کیلئے مقتل بنا کے رکھ دیا گیا ہے۔ مذہبی جنونیوں نے اپنے خود تراشیدہ نظریات کو اسلامی تعلیمات کا رنگ دے کر دوسرے انسانوں پر زندگی تنگ کرنے کا حربہ اختیار کر لیا گیا، جس کی وجہ سے دہشتگردی نے جنم لیا۔ تفرقے بازوں نے اسے تعصبات کی چنگاری دکھائی اور ہم اس بھڑکتی ہوئی آگ میں بھسم ہو رہے ہیں۔ اس جہنم زار سے نکلنے کا طریقہ صرف ایک ہے کہ ہم اسلام کی اساس کی جانب لوٹ جائیں، جو پیام امن ہے، درس اخوت ہے، باہم رواداری، محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ ہمیں بلاتفریق شیعہ، سنی، دیوبندی، وہابی کے سوچنا ہوگا کہ ہم صرف مسلمان ہیں، جس دن ہم نے ان فرقہ بندی کے حصاروں کو توڑ دیا، وہ دن مسلم امہ کی کامیابی و کامرانی کا دن ہوگا۔

 

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful