امداد برائے فوٹو سیشن

یہ تصویر ہنزہ علی آباد کی ہے. اطلاعات کے مطابق ان تمام خواتین کو “کنگ عبداللہ رمضان پیکیج” کا امدادی سامان دینے کے بعد تصویری سیشن کے لیے میدان میں بٹھایا گیا ہے.

کیا امداد دینے کے بعد لوگوں کی عزت نفس کو اس طرح مجروع کرنا ضروری ہے؟ 100 فیصد شرح خواندگی اور سیاحوں کی جنت کہلانے والی اس وادی کے لوگوں کے ساتھ یہ سنگین مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟

آپ اس تصویر کو غور سے دیکھئے کئی خواتین نے سامان کے پیچھے خود کو چھپانے کی کوشش کی ہے کچھ خواتین نے دوپٹے سے منہ چھپایا ہے.ہم نے اب تک اس خطے کے لوگوں کو ہنزہ خود دار، خودکفیل، ہنرمند، سنجیدہ ، باوقار اور تعلیم یافتہ دیکھا ہے. کہاں گئی ان کی سنجیدگی, وقار, تعلیم اور ہنر… کہ خواتین گھنٹوں امدادی سامان حاصل کرنے کے بعد دھوپ میں تصویری سیشن کا انتظار کرتی رہیں؟؟پہلے تصویر پہ نظر پڑتے ہی مجھے لگا تھا کہ یہ کسی NGOکا کام ہے. ابھی اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ پاکستان بیت المال نے یہ سب کیا ہے. گلگت بلتستان کے احباب خصوصا ہنزہ والوں سے گزارش ہے کہ اس عمل کے خلاف اپنی آواز بلند کریں تاکہ آئندہ لوگوں کی عزت نفس کو اس طرح مجروع نہ کیا جائے اور لوگوں کی غربت اور مفلسی کا مذاق نہ بنایا جائے.
تحریر:علی احمد جان

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.