امریکا نے حملہ کیا توہم کس کونشانہ بنائیں گے؟ ایران نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

تہران(ویب ڈیسک)ایرانی انقلاب گارڈزکے سینئرکمانڈر امیرعلی نے کہا ہے کہ امریکا نے حملہ کیا توہم ان کے سر کونشانہ بنائیں گے ماضی کا یہ خطرہ اب ہمارے لیے ایک موقع بن گیا ہے۔ خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے پرایرانی انقلاب گارڈزکے سینیر کمانڈر امیرعلی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے حملہ کیا

تو ہم ان کے سر کونشانہ بنائیں گے ماضی کا یہ خطرہ اب ہمارے لیے ایک موقع بن گیا ہے،50طیاروں، 6ہزارفوجیوں سے لیس بحری بیڑہ ماضی میں ہمارے لیے خطرہ ہوتا لیکن خلیج میں امریکی فوج کی موجودگی اب ایران کیلیے خطرہ نہیں بلکہ موقع ملتے ہی جواب دیں گے ۔ دوسری جانب خبر کے مطابق اسرائیل کے وزیر توانائی یووال سٹائنٹز نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی صورت میں ایران حکومت اسرائیل پر حملے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ خلیج کے خطے میں معاملات گرم ہو رہے ہیں جو خطرناک ہیں،ایرانی حکومت حزب اللہ اور اسلامی جہاد نامی عسکری تنظیموں کو اسرائیل کے خلاف سرگرم کر سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے وزیر توانائی یووال سٹائنٹز نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی صورت میں ایران حکومت اسرائیل پر حملے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ خلیج کے خطے میں معاملات گرم ہو رہے ہیں جو خطرناک ہیں۔ ایرانی حکومت حزب اللہ اور اسلامی جہاد نامی عسکری تنظیموں کو اسرائیل کے خلاف سرگرم کر سکتی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر نے مزید کہا کہ جنگی صورت حال پیدا ہونے کے بعد ایرانی حکومت حزب اللہ اور اسلامی جہاد نامی عسکری تنظیموں کو اسرائیل کے خلاف سرگرم کر سکتی ہے۔ اس وقت اسرائیلی حکومت ایرانی و امریکی تناؤ کے دوران خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے حالانکہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات کی پرزور حامی ہے ۔ اسٹائنٹز وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے رکن بھی ہیں۔

اب اس وقت دنیا کی سپر پاور امریکہ ہے اسے بھی طاقت کا نشہ ہے وہ کبھی عراق تو کبھی افغانستان کبھی ویت نام تو کبھی کہیں طبع آزمائی میں مصروف رہتا ہے۔ افغانستان سے منہ کی کھانے کے بعد اب یہ بدمست ہاتھی ایران کی طرف جانا چاہ رہا ہے مگر اب کی بار امریکہ ایک ایسے ملک کے ساتھ پنجہ آزمائی کا منصوبہ بنا چکا ہے جو کہ نیوکلیئر پاور ہے اور وہ بھی امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت رکھتا ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ امریکہ کو دیگر سپر پاور سے سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ بھی پاش پاش ہوئے ہیں۔ ایران پر تیل کی پابندی لگانا اور اس پر حملے کامنصوبہ بناتے ہوئے سمندر میں بحری بیڑے اتارنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ امریکا کو سوچنا چاہیے کہ عراق میں ا س نے کون سی فتح حاصل کی ہے یا پھر افغانستان میں کون سی جنگ جیت لی ہے جو اب ایران میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ انہوں نے بات جای رکھتے ہوئے کہا کہ جمی کارٹر نے خود کہا تھا کہ امریکہ کی اڑھائی سو سالہ تاریخ میں12سال امن کے ہیں باقی سارا عرصہ جنگ میں گزرا ہے۔کبھی امریکہ کے اندر خانہ جنگی ہے تو کبھی دوسرے ممالک کے ساتھ نبردآزما ہے۔امریکہ کی انہی جنگی پالیسیوں کی وجہ سے چین کو سر پاور بننے کاموقعہ ملا ہے۔اب اگر ایران کے ساتھ ٹکر لینے کی امریکہ نے کوشش کی تواس بار حالات کچھ اور ہوں گے اور امریکہ خسارے میں جائے گا۔تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تناؤمیں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.