امریکہ کا پاکستانی حکومت سے مدارس بند کرنے کا مطالبہ

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی ایک کمیٹی نے پاکستانی حکومت سے ایسے مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں اور پاکستان پر امریکی پالیسی میں تبدیلی کا بھی مشورہ دیا ہے۔ایوان نمائندگان میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ایڈ رائس نے الزام لگایا کہ خلیجی ممالک سے آنے والے پیسوں سے چلنے والے پاکستان کے دیوبندی مدارس نفرت کا وہ پیغام پھیلا رہے ہیں جس سے وہاں کے طلبہ میں دہشت گردی کا رجحان بڑھتا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ اس میں کوئی حیرت والی بات نہیں ہے کہ سان برنارڈینو کی حملہ آوروں میں سے ایک تاشفین ملک ایسے ہی پاکستانی مدرسے میں زیر تعلیم تھیں جہاں ایک خاص طرح کی شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ایڈ رائس نے یہ بیان کانگریس میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر ہونے والی ایک خاص بحث کے دوران دیا ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب پاکستان پشاور کے سکول کے بچوں پر حملے کی برسی منا رہا ہے اور امریکہ کے کئی حلقوں میں شدت پسندی کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کی تعریف بھی ہوئی ہے۔دوسری جانب پاکستان کا ایک فوجی وفد امریکی فوج کے اہلکاروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے واشنگٹن میں ہے۔ایڈ رائس کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے حق میں ہیں لیکن امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت ایک بات یہ ہو سکتی ہے کہ جو پاکستانی اہلکار شدت پسندی سے منسلک اداروں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہوں ان پر معاشی پابندیاں اور ان کی آمد و رفت پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھاکہ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان اور امریکہ صحیح معنوں میں اس وقت تک سٹریٹیجک پارٹنرز نہیں بن سکتے جب تک پاکستانی فوج دہشت گرد اداروں سے اپنے تعلقات پوری طرح سے ختم نہیں کرتی۔کمیٹی کے تقریبا سبھی ارکان نے پاکستان کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھیں حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ سمیت تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔بعض ارکان نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ہتھیار غلط ہاتھوں، خاص طور سے القاعدہ اور دوسرے دھڑوں تک پہنچ سکتے ہیں۔امریکی دفتر خارجہ کی کمیٹی کی طرف سے پاکستان کو ایف 16 جنگی طیارے فروخت کرنے کی پالیسی پر بھی تنقید کی گئی اور کچھ ارکان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج ان کا استعمال دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ بھارت کے خلاف اور بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے کر رہی ہے۔کمیٹی کے ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پاکستان اور افغانستان پر امریکہ کے خاص سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہت سے معاملات پر ایک رائے نہیں ہے لیکن امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے اس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا اہم ہے۔اولسن کا کہنا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ برس میں پاکستان کی پالیسی میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں اور دہشت گردی کی وجہ سے ان کے اپنے 2000 فوجیوں اور ہزاروں شہریوں کی جانیں گئی ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ’انھوں نے لشکر طیبہ پر لگام ڈالی ہے لیکن ابھی اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔اولسن حال تک پاکستان میں امریکہ کے سفیر تھے اور انھوں نے افغانستان پاکستان پر امریکہ کے خاص سفیر کے طور پر اپنا نیا عہدہ حال ہی میں سنبھالا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و امان بحال کرنے کے لیے، خاص طور سے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں، پاکستان ایک مثبت کردار ادا کر رہا ہے لیکن پاکستان کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر انھوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھاکہ ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ ان ہتھیاروں کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں ایک روایتی جنگ جوہری جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اور اس معاملے پر ہم اعلیٰ سطح پر بات کر رہے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ جس طرح کا جوہری معاہدہ کیا ہے اس طرح کا معاہدہ پاکستان کے ساتھ ہونے کے کوئی امکان نہیں ہیں۔پاکستان کو ہتھیار اور دوسری معاشی امداد دینے کے لیے امریکی انتظامیہ کو کانگریس سے منظوری لینی ہوتی ہے اور اس طرح کے بحث و مباحثے انتظامیہ پر خاصا دباؤ ڈالتے ہیں لیکن دفترخارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ فی الحال ان کی پاکستان کے متعلق پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار نہیں ہیں۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful