انتہا پسندمسلح یہودیوں نےشیرخوارفلسطینی بچہ زندہ جلا دیا،امریکہ اوراقوام متحدہ بھی چیخ اٹھے

مقبوضہ بیت المقدس(اوصاف ویب ڈیسک)۔۔۔۔۔۔مغربی کنارے کے علاقے میں انتہا پسندمسلح یہودی آبادکاروں کے فلسطینی خاندان پر حملے کے دوران ایک شیرخوارفلسطینی کو زندہ جلا دیا گیا جس پر امریکہ اور اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق یہودی آبادکاروں نے پہلے ایک فلسطینی خاندان کے مکان کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے لکھے اور پھر اس پر آگ لگانے والے بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجہ میں ڈیڑھ سالہ بچہ جاں بحق اورتین افراد شدید زخمی ہوگئے۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق یہ واقعہ یہودی بستی مگ دالیم کے قریب نابلس کے گاؤں دوما میں پیش آیا۔

حملہ آوروں نے چہروں پرنقاب چڑھارکھے تھے۔حملہ میں زخمیوں میں شیرخواربچے علی سعد دوباساکا4 سالہ بھائی احمد، والدسعد اوروالدہ ریحام شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینی گاؤں دوما پر گذشہ رات ہونے والے ظالمانہ دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ایک اخباری بیان میں محکمہ خارجہ کے معاون ترجمان، مارک ٹونر نے کہا ہے کہ امریکہ دوابشہ خاندان کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے، اور ہم زخمی ہونے والوں کی مکمل صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔

محکمہ خارجہ نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو جاری کیے گئے احکامات کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں قاتلوں کو پکڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کے لیے کہا گیا ہے۔

ترجمان نے تمام فریقین سے تحمل سے کام لینے کے لیے کہا ہے، تاکہ اس افسوس ناک واقع کے نتیجے میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔

قوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ مقبوضہ غرب اردن میں فلسطینی بچے کے قاتلوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

بان کی مون کے ترجمان نے کہا کہ یہودی آباکاروں کے جرائم کو بار بار نظر انداز کیے جانے اور ان کو سزا سے بری قرار دیے جانے کی وجہ سے یہ پرتشدد واقعات ہوئے ہیں اور اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امن کی بحالی کی کوششوں کی عدم موجودگی، اسرائیل کی آبادکاری کی ناجائز پالیسی اور بقول ان کے فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرنے کی ان کی سخت اور غیر ضروری عادت کی وجہ سے دونوں جانب پرتشدد انتہا پسندی پروان چڑھی ہے۔

بان کی مون نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہاکہ یہ ہر لحاظ سے دہشت گردی ہے اور اسرائیلی ریاست دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق سخت اقدامات کرتی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک کہ فلسطین کے علاقے میں یہودیوں کی ناجائز بستیاں آباد ہیں جبکہ فلسطینی حکام نے فلسطینی بچے کے جل کر ہلاک ہونے کے واقعے کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

دوسری جانب فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن پی ایل او کا کہنا ہے کہ فلسطینی بچے علی سعد دوآبشاہ کے وحشیانہ قتل کی ذمہ داری مکمل طور پر اسرائیلی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے بیان میں مزید کہا ہے کہاسرائیلی حکومت کی جانب سے کئی دہائیوں سے یہودی آبادکاروں کی دہشت گردی کو دی گئی آزادی کی وجہ سے یہ نتائج برآمد ہوئے ہیں

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful