اٹک، میانوالی اور چکوال میں تیل کے ذخائر کی تلاش کے لیے کویتی کمپنی کو لائسنس جاری

کراچی کے سمندر میں کیکڑا-1 سے تو تیل و گیس کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر دریافت نہیں ہوئے لیکن حکومت نے ہمت نہیں ہاری اور اب پیٹرول ڈویژن نے کویت کی ایک کمپنی کوفپیک کے ایک ذیلی ادارے کیرتھر پاکستان کو اٹک میں مکھڈ بلاک میں تیل کی تلاش کا لائسنس جاری کر دیا ہے۔

وزارت پیٹرولیم کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز کے مطابق، حکومت نے مذکورہ کمپنی کے ساتھ ایکسپلوریشن لائسنس اور پیٹرولیم کنسیشن معاہدہ کیا ہے۔

معاہدے پر سیکرٹری پیٹرولیم اسد حیائوالدین اور کویتی کپنی کوفپیک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شیخ نواف سعود الصبح نے دستخط کیے جب کہ اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان بھی موجود تھے۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ایکسپلوریشن لائسنس اور پیٹرولیم کنسیشن معاہدے پر عملدرآمد سے پیٹرولیم سیکٹر میں سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ ہوگا جب کہ توانائی کے شعبہ میں موجود طلب و رسد کے فرق میں بھی کمی آئے گی۔

major-oil-gas-reserves-discovered-in-attock-1507153940-9931-300x225

عمر ایوب خان نے یہ ضرور کہا کہ اگلے چند برسوں کے دوران یہ فیصلہ ضرور رنگ لائے گا اور ملک میں ہائیڈروکاربن کے اضافی ذخائر دستیاب ہوں گے۔

مکھڈ بلاک کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں کہ یہ بلاک صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع اٹک میں موجود ہے جو پنجاب کے اضلاع میانوالی اور چکوال تک پھیلا ہوا ہے اور یہ ایک ہزار 592 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق، کوفپیک مکھڈ بلاک میں قریباً 80 کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ کرے گا جب کہ کویتی کمپنی علاقے میں سماجی سکیموں پر سالانہ 30 ہزار ڈالر خرچ کرنے کی پابند ہو گی۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔