اپنا آئین اپنا جھنڈا اور اپنی حکومت۔۔۔۔ مگر کیسے ؟

گلگت  بلتستان پہ مسلط ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت قائم کٹ پتلی اسمبلی میں اپوزیشن ممبران نے آخرکار ایک جرات مندانہ فیصلہ کرکے یہ برملا اعلان کیا ھے کہ ریاست پاکستان اپنا غیر آئینی و غیر قانونی کنٹرول ختم کرکےجی بی عوام کو اپنے وطن پہ اپنے بنائے ھوئے ایک آئین کے ذریعے حکومت کرنے کا اختیار دیا جائے۔ اپوزیشن رہنماوں کا یہ مطالبہ یو این او کے چارٹر اور یو این سی آئی پی کی 13 اگست 1948ء کی قراردادوں کے عین مطابق ھے اگر یو این او کے غیر موثر کردار اور 13 اگست کی قرارداد کے قابل عمل نہ ھونے کی تنقید کو درست بھی مان لیا جائے تو بھی ریاست کشمیر کا تاریخی حصہ ھونے کے ناطے اور خود جی بی کی صدیوں پرانی جغرافیائی قومی ثقافتی لسانی اور تہزیبی پس منظر کی بنیاد پہ اس خطے کے عوام کا یہ پیدائشی حق ھے کہ وہ اپنے وطن کے تمام داخلی و خارجی معاملات کسی بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعےخود چلائے یہ بنیادی حق جی بی عوام سے دنیا کی کوئی طاقت
چھین نہیں سکتا۔
مگر سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ جی بی عوام کی اس غصب شدہ حق کو کیسے حاصل کیا جائے؟ کیا موجودہ مفلوج اور بے بس اسمبلی کا حصہ رہتے ہوئے اور ریاست پاکستان کی مراعات سے مستفیض ھوتے ھوئے محض میڈیا پہ مطالبہ کرنے سے یہ مسلئہ حل ھو گا تو جواب نفی میں ھے کیا محض اسلام آباد کے حکمرانوں سے بات چیت کے ذریعے حل ھو گا یا عدالتوں کے ذریعے حل ھو گا تو بھی جواب نفی میں ھے کیونکہ یہ سارے طریقے بار بار آزمائے جا چکے ہیں
دنیابھر میں مظلوم و محکوم اقوام اور کچلے ھوئے محنت کش طبقات نے اجتماعی جدوجہد اور بھرپور مزاحمت کے ذریعے ہی اپنے حقوق حاصل کئے ہیں اور جی بی میں تو گزشتہ 72 سالوں سے ایک بدترین نوآبادیاتی نظام مسلط ھے اسے مسمار کرنے کیلئے جی بی عوام کی ایک مسلسل طویل جدوجہد کی ضرورت ھے
اسلئے آج ضرورت اس بات کی ھے کہ جی بی کے اپوزیشن ممبران ابتدائی اقدام کے طور پہ اس کٹ پتلی اسمبلی سے استفی دیکر اور حکومتی مراعات کو مسترد کرکے واپس عوام کے پاس آ جائیں اور سیاسی پارٹیوں نوجوانوں اور طلبا کی تنظیموں کے ساتھ ایک الائینس کی شکل میں متحد ھو کر قومی حق خودارادیت کے بنیادی مطالبے کے ساتھ جی بی کے 99 فیصد کچلے ھوئے عوام اور نوجوانوں کے بنیادی حقوق پہ مبنی ایک ٹھوس چارٹر آف ڈیمانڈز کی بنیاد پہ ایک بھرپور مزاحمتی تحریک کا آغاز کریں۔تاکہ ایک موثر مزاحمتی تحریک کے زور پہ اسلام
آباد کے حکمرانوں پہ زبردست دباو ڈال کر جی بی سے نوآبادیاتی نظام کی زنجیریں لپیٹ کر جی بی عوام کو اپنے دیس پہ خود حکمرانی کرنے کیلئے اپنا آئین اپنا جھنڈا اور اپنی خودمختار آئینی حکومت قائم کرنے کا بنیادی حق حاصل کیا جا سکے۔

احسان علی ایڈوکیٹ
چیئرمین عوامی ایکشن تحریک

About VOM

وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔