ایرانی جوہری پروگرام پر تاریخی معاہدہ ’طے پا گیا‘

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

جوہری پروگرام محدود کرنے پر ایران کے خلاف عائد عالمی اقتصادی پابندیاں نرم کر دی جائیں گی۔

اس معاہدے کا باقاعدہ اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے وزرا منگل کو مقامی وقت کے مطابق دن ساڑھے دس بجے پھر ملاقات کر رہے ہیں جس کے بعد پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

بات چیت سے منسلک ایک سینیئر سفارتکار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ معاہدے کی راہ میں حائل آخری رکاوٹیں دور کر لی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ اس سمجھوتے پر تیار ہو گئے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ایرانی کی فوجی تنصیبات کے دوروں کا مطالبہ بھی کر سکیں گے۔

تاہم اے پی کے مطابق اس معاہدے کے تحت ایران کو اقوامِ متحدہ کے نگرانوں کی درخواست چیلنج کرنے کا حق حاصل ہوگا اور اس صورت میں فیصلہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کا ثالثی بورڈ کرے گا۔

اگرچہ معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے معائنے کے حوالے سے سخت شرائط تسلیم کر لی ہیں۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے نمائندوں کی ایران حکام سے بات چیت کا عمل پیر کو رات بھر جاری رہا تھا۔

مذاکرات کا یہ حالیہ دور 17 دن سے جاری ہے اور پیر کی شب ہونے والی اس بات چیت کے بعد اشارے ملے کہ معاہدے کا اعلان آنے والے چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایران کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے کہا ہے کہ جوہری مذاکرات کی تکمیل پر مشترکہ بیان منگل کی دوپہر جاری کیا جائے گا۔

ایرانی ٹی وی پر نشر کی گئی ایک رپورٹ کے مطابقہ ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ فیڈریکا مغیرینی ایک ’مشترکہ بیان‘ پڑھ کر سنائیں گے۔

رپورٹ میں بیان کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا گیا تاہم یہ ضرور کہا گیا کہ منگل کو بات چیت کی ’12 سالہ میراتھن کے آخری چند قدم باقی ہیں‘۔

پیر کو سفارت کاروں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق متازع امور کو حل کرنےکے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

ان متنازع امور میں ایران کا یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ کہ ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر عائد پابندی ختم کر دی جائے اور اس کے جوہری پروگرام کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔

امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس کا بھی یہی کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں معاہدے کے سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم کچھ معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے پیر کی شب کہا کہ ’ بات آگے بڑھی ہے‘ تاہم اہم معاملات طے ہونا باقی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے رہنماؤں کو ’کچھ سخت‘ فیصلے کرنے ہوں گے۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے جبکہ ایران اس بات پر مصر ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful