ایرانی سپریم لیڈر نے ایسا فتویٰ دے دیا کہ شیعہ مسلک کے بارے میں بڑی غلط فہمی دور ہوگئی، جان کر ہر مسلمان داد دینے پر مجبور ہوجائے گا

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) مسالک کے درمیان تلخیوں اور اختلافات کی ایک بڑی وجہ وہ لوگ بھی ہیں جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے لئے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں۔ برطانیہ فرار ہوجانے والا ایک نام نہاد مذہبی سکالر بھی ایک ایسی ہی مثال ہے جس نے برطانیہ کے تعاون سے ایک ٹی وی چینل قائم کیا اور اس چینل پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شان میں گستاخی کی اور اس بد عمل کو شیعہ عقائد کا حصہ قرار دیا۔ اس واقعے کے تناظر میں سعودی عرب کے الاحسا ریجن سے تعلق رکھنے والے شیعہ علماءاور دانشوروں کے ایک گروپ نے یہ مسئلہ ایرانی سپریم لیڈر کے سامنے رکھا۔ ویب سائٹ  khamenei.ir کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے انتہائی واضح الفاظ میں ایک فتویٰ جاری کردیا ہے جس میں حضرت عائشہؓ کی شان میں گستاخی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ فتوے میں مزید کہا گیا ہے کہ ”سنی مکتبہ فکر کے لئے قابل احترام کسی بھی علامت یا شخصیت، بشمول حضرت عائشہ صدیقہؓ ، کی شان میں گستاخی ممنوع قرار دی جاتی ہے۔ اس میں تمام انبیاءکی پاک ازواج شامل ہیں، اور خصوصاً نبیوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج۔“
ویب سائٹ کے مطابق اس سے پہلے بھی ایرانی سپریم لیڈر کی طرف سے قرار دیا جاچکا ہے کہ حضرت عائشہؓ کی شان میں گستاخی پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی ہے۔ انہوں نے یہ بات رواں سال ایک کانفرنس میں کہی جس کا انعقاد حضرت خدیجہؓ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔

About وائس آف مسلم

Avatar
وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.