ایران سے جنگ، ٹرمپ اور نیتن یاہو کی لمبی ڈینگ

تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

عراق، شام اور لبنان کی سکیورٹی صورتحال میں قابل توجہ حد تک بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ ان ممالک میں جن علاقوں پر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا قبضہ تھا اب فوج اور اس کی اتحادی فورسز کے زیر کنٹرول آ چکے ہیں۔ شام میں صرف چند علاقے دہشت گرد عناصر کے زیر قبضہ رہ گئے ہیں جن کے خلاف آرمی اور رضاکار فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ اگرچہ بیرونی قوتوں کی جانب سے شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی حمایت کا سلسلہ بدستور جاری ہے لیکن اب عراق، شام اور لبنان کے اندر یہ حمایت زیادہ موثر ثابت نہیں ہو رہی لہذا یہ قوتیں سیاسی عمل کی بات کرتی نظر آتی ہیں۔ انہیں حالات میں خطے کے دو اہم ممالک عراق اور شام میں پارلیمانی الیکشن قریب آ رہے ہیں جو بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ گذشتہ تین سال کی نسبت خطے کی سکیورٹی صورتحال بہت بہتر ہو چکی ہے۔

دوسری طرف عراق، شام اور لبنان میں امن و امان کے قیام میں موثر عوامل بھی واضح ہیں۔ مثال کے طور پر عراق میں پیدا ہونے والے شدید سکیورٹی بحران کے دوران ایران کے علاوہ کسی ہمسایہ ملک نے حتی زبانی حد تک عراقی حکومت اور عوام سے ہمدردی کا اظہار نہیں کیا۔ صرف ایران ایسا ملک تھا جس نے نہ صرف عراق کی قانونی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ عمل کے میدان میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت اور قوم کی بھرپور مالی اور فوجی امداد کی۔ شام میں جنم لینے والے سکیورٹی بحران میں بھی جو گذشتہ چند عشروں میں سب سے بڑا سکیورٹی بحران قرار دیا جاتا ہے، شام کے قریبی یا دور کے کسی ہمسایہ ملک نے اس کی حکومت اور عوام کی مدد نہیں کی بلکہ یہاں بھی صرف ایران ہی تھا جو شام کی قانونی حکومت اور مظلوم عوام کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔

شام میں بدامنی شروع ہونے کے بعد اس ملک کے اکثر علاقوں پر تکفیری اور دیگر دہشت گرد گروہوں کا قبضہ ہو گیا۔ شام کی شمالی، جنوبی اور جنوب مغربی سرحدیں تقریباً سات برس تک دہشت گرد عناصر کے قبضے میں رہیں۔ اس دوران ترکی، اردن اور اسرائیلی حکومتیں ان دہشت گرد عناصر کو مدد فراہم کرتی رہیں اور اب بھی بدستور مدد فراہم کر رہی ہیں۔ لبنان میں پیدا ہونے والے سکیورٹی بحران کی شدت عراق، شام اور یمن میں جنم لینے والے سکیورٹی بحرانوں سے قدرے کم تھی۔ یہاں بھی کسی حکومت نے لبنان کی قومی سلامتی کے تحفظ اور داعش کے خاتمے کیلئے کوئی اقدام انجام نہیں دیا۔ اس دوران نہ تو کسی ملک نے طرابلس، صیدا اور عرسال فوج بھیجی اور نہ ہی درہم اور دینار کی شکل میں لبنان کی مالی امداد کی۔ البتہ لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی کی برکت سے ایران کو عملی اقدام انجام دینے کی ضرورت پیش نہ آئی اور اگر ایسی ضرورت پیش آ جاتی تو ایران کسی اقدام سے دریغ نہ کرتا۔

خطے کے “انتہائی برے” حالات آج ایسے حالات میں تبدیل ہو چکے ہیں جن کی بدولت وہ ممالک جن کے اکثر علاقے ماضی قریب میں یا تو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے زیر قبضہ تھے یا قبضے کا خطرہ موجود تھا، جمہوری طرز پر الیکشن منعقد کرواتے نظر آ رہے ہیں۔ اس تبدیلی میں اسلامی جمہوریہ ایران کا کردار انتہائی واضح ہے۔ ہم مقامی مجاہدین کی جدوجہد کا انکار کئے بغیر یہ کہنے کے قابل ہیں کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران مرکزی کردار ادا نہ کرتا تو یقیناً تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ذریعے بنایا گیا منصوبہ کامیاب ہو جاتا۔ خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس منصوبے کو امریکہ، غاصب صہیونی رژیم، فرانس، برطانیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ترکی جیسے مملک کی مکمل حمایت اور مدد حاصل تھی۔ اگر ایران اپنا کردار ادا نہ کرتا تو عراق، شام، لبنان و دیگر ممالک میں مقامی مزاحمتی قوتوں کو شکست ہو جاتی۔

جب عراق اور شام میں سکیورٹی بحران اپنے عروج کو پہنچا اور مغربی اور عرب اور ترک ذرائع ابلاغ نے داعش کی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کیا تو ان ممالک میں شدت پسندی کی اس عظیم لہر پر کامیابی سے قابو پانے کی امید ماند پڑنے لگی جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہاں کی مقامی افواج اور مجاہدین میں داعش کو شکست دینے کی صلاحیت موجود تھی۔ ایران نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور فوجی مشاورت کے ذریعے ان کی مدد کی جس کے نتیجے میں ان میں خوداعتمادی پیدا ہوئی اور انہوں نے جنگ کا نقشہ تبدیل کرتے ہوئے داعش کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔ اس حقیقت کو ہر گز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ عراق اور شام میں داعش کے قابل شکست ہونے کا تصور اس وقت پیدا ہوا جب ایران نے بعض موثر اقدامات کے ذریعے داعش کے قابل شکست ہونے کو ثابت کیا اور اس کا رعب اور دبدبہ ختم کیا۔

عراق کے شہروں آمرلی، البلد، جرف الصخر، صلاح الدین وغیرہ میں ایرانی فورسز عراقی فورسز کے آگے آگے لڑ رہی تھیں اور عملی طور پر جنگ کی کمان اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی۔ ایران کے یہی اقدامات اس بات کا باعث بنے کہ بعد میں عراق آرمی اور رضاکار فورسز میں خود داعش کے خلاف لڑنے کی جرات اور ہمت پیدا ہو گئی جس کے بعد عراقی فورسز نے صوبہ الانبار اور صوبہ نینوا کے کلین اپ آپریشن کی کمان خود سنبھالی اور ایرانیوں سے حاصل ہونے والے تجربات سے عملی میدان میں بھرپور فائدہ اٹھایا۔ شام میں داعش کے خلاف جنگ میں ایران کا کردار عراق سے زیادہ اہم اور وسیع تھا۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ شام نے انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کیا ہے۔ ایک ایسا وقت بھی تھا جب شام کا 80 فیصد حصہ تکفیری دہشت گرد گروہوں داعش اور النصرہ فرنٹ کے قبضے میں تھا۔ دوسری طرف مغربی اور عرب ممالک کی جانب سے شدید پابندیوں کے نتیجے میں شام حکومت کھانے پینے کی اشیاء اور بنیادی ضروریات بھی پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہو چکی تھی جبکہ شام آرمی بھی بری طرح دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف تھی۔ اسی طرح دیگر ممالک خاص طور پر ترکی کی سرحد سے روزانہ بڑی تعداد میں دہشت گرد عناصر شام میں داخل ہو رہے تھے جس کے باعث حالات میں بہتری کی کوئی امید باقی نہیں بچی تھی۔

ایسے حالات میں ایران نے شام کے ساتھ مشترکہ سرحد نہ ہونے کے باوجود وہاں کی قانونی حکومت اور عوام کی مدد کیلئے اس ملک میں قدم رکھا اور درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے شام حکومت کو انقلابی طرز پر اقدامات انجام دینے کا مشورہ دیا۔ اگرچہ شروع میں شام حکومت زیادہ امیدوار دکھائی نہیں دیتی تھی لیکن چونکہ ان کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی تھیں لہذا ایران کے مشورے کو قبول کر لیا اور اس پر کام شروع ہو گیا۔ شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز میں ایرانی فورسز فرنٹ لائن پر موجود تھیں اور اکثر معرکوں میں کمان بھی ایرانی کمانڈرز کے ہاتھ میں تھی۔ ایرانی کمانڈرز نے انقلاب اسلامی کے دوران تجربات کی روشنی میں ایسے اقدامات انجام دیئے جس کے نتیجے میں انتہائی مختصر مدت میں زمینی حقائق تبدیل ہو گئے اور آج ہم ایسی جگہ کھڑے ہیں جب شام کے بہت مختصر علاقوں کے علاوہ پورا ملک دہشت گرد عناصر کے قبضے سے آزاد ہو چکا ہے۔

اگرچہ آج رقہ میں امریکہ، شمالی حلب میں ترکی اور مشرقی قنیطرہ میں غاصب صہیونی رژیم نے دہشت گردوں کی جگہ سنبھال رکھی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ آئندہ چند ماہ میں یہ علاقے شام حکومت کو واپس کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس بحرانی اور حساس صورتحال میں مغربی عربی عبری محاذ نے اچانک “ایران پر دباو” پر مبنی پالیسی کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا ہے۔ یہ دباو زیادہ تر شام میں ایران کے مبینہ اثرورسوخ کے بہانے انجام پا رہا ہے۔ یہ امر بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ تکفیری دہشت گردی اپنے روایتی ظاہر کے برعکس ایک جدید عمل ہے جس کی تشکیل میں امریکہ، اسرائیل اور خطے میں ان کے پٹھو ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز ملوث ہیں۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی تکفیری دہشت گرد عناصر پر کوئی کاری ضرب لگائی جاتی ہے ان کی حامی انٹیلی جنس ایجنسیز دہشت گرد عناصر کی مزید شکست روکنے کیلئے سرگرم عمل ہو جاتی ہیں۔

دوسری طرف ان کے اس ردعمل سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ایران نے شام میں ان کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر پر کس قدر کاری ضرب لگائی ہے۔ اس صورتحال کا مخاطب بھی معلوم ہے جو “اسرائیل” ہے۔ غاصب صہیونی رژیم شام کے موجودہ حالات کے پیش نظر خود کو سب سے بڑی ہاری ہوئی قوت خیال کرتی ہے چونکہ شام میں بحران کے آغاز میں صہیونی حکومت کا تصور یہ تھا کہ یا تو اس بحران کے نتیجے میں صدر بشار اسد کی حکومت سرنگون ہو جائے گی اور طولانی مدت کیلئے شام میں انارکی اور ہرج و مرج کی کیفیت طاری ہو جائے گی یا پھر شام حکومت اس قدر کمزور ہو جائے گی کہ اس کی جانب سے پیش کردہ ہر شرط کو ماننے پر تیار نظر آئے گی۔

شام میں بحران کے آغاز کے وقت ایسے تجزیہ کاروں کی کمی نہیں تھی جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس بحران میں سب سے بڑی جیت اسرائیل کو ہو گی اور سب سے بڑی ہار ایران کو ہو گی لیکن اب جبکہ شام میں سکیورٹی بحران اپنے اختتامی مراحل سے گزر رہا ہے تجزیہ کاروں کی رائے مکمل طور پر برعکس ہو چکی ہے اور وہ ایران کو جیتی ہوئی قوت جبکہ اسرائیل کو ہاری ہوئی قوت کے طور پر متعارف کروا رہے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے ہی امریکہ میں فرانس کے سفیر آرود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: “عدم استحکام کے باعث پورے خطے میں ایران کی طاقت اور اثرورسوخ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔”

اس وقت اسرائیلی حکام شام کے مستقبل اور اس ملک کے سکیورٹی امورمیں ایران اور حزب اللہ لبنان کا کردار جاری رہنے کے باعث شدید خوفزدہ اور پریشان ہیں۔ چند دن قبل امریکی صحافی گیرتھ پورٹر نے لکھا کہ اسرائیلی حکام ایران اور حزب اللہ لبنان کی جانب سے شام میں مستقل فوجی اڈے تشکیل دینے کی بابت شدید پریشان ہیں۔ حالات تیزی سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے نقصان میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیلی مسلح افواج کے سربراہ گیادی آئزنکوٹ کے پاس اس بحرانی صورتحال سے باہر نکلنے کیلئے کون سے آپشنز موجود ہیں؟ اور وہ کیا ممکنہ اقدامات انجام دے سکتے ہیں؟ چند ممکنہ اقدامات درج ذیل ہیں:

1)۔ اسرائیل کا ایک ممکنہ اقدام جو اس کے ماضی کے اقدامات سے بھی ہم آہنگی رکھتا ہے، جنگ کا آغاز ہے۔ اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ تقریباً تین ہفتے پہلے امریکہ اور اسرائیل کی مسلح افواج کے اعلی سطحی کمانڈرز نے نیٹو کے دفتر میں خفیہ ملاقات کی جس میں اسرائیلی فوج کے سربراہ آیزنکوٹ نے 14 اپریل کو امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے شام پر میزائل حملوں کو انتہائی غیر موثر قرار دیتے ہوئے اس پر گہری ناامیدی کا اظہار کیا اور شام میں اسرائیل کے قریب الوقوع اور زیادہ شدید حملوں کی خبر دی۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے 30 اپریل کو بڑا شور شرابہ مچاتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کے پاس 183 سی ڈیز پر ایسی ہزاروں دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے 2015ء سے پہلے اور اس کے بعد جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش جاری رکھی ہے۔ دوسری طرف غاصب صہیونی رژیم کے وزیر جنگ اویگڈور لیبرمین نے شام کے صدر بشار اسد کو دھمکی دی ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں۔

لہذا اسرائیل کی جانب سے ایک ممکنہ اقدام شام میں ایران اور حزب اللہ لبنان کے فوجی اڈوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانا ہے۔ لیکن کیا اسرائیل ایک شدید اور نامحدود جنگ کا آغاز کر سکتا ہے؟ اس کا جواب نہیں میں ہے کیونکہ اگر اسرائیل ایسا ارادہ رکھتا تو اسی جنگ شروع ہونے کے ابتدائی لمحے تک خفیہ حالت میں رکھتا تاکہ مدمقابل کو غفلت کی حالت میں نشانہ بنا سکے۔ مزید برآں، اسرائیل خود کو ایران اور حزب اللہ لبنان کے ساتھ نامحدود جنگ کے قابل نہیں سمجھتا۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ ایسا ممکن نہیں اسرائیل مسلسل جنگ کی دھمکیاں دیتا رہے اور آخرکار کوئی عملی اقدام نہ کرے لہذا ہمیں اسرائیل کی جانب سے جارحانہ اقدامات کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ غاصب صہیونی رژیم بخوبی جانتی ہے کہ حزب اللہ لبنان اور ایران ایسے میدان میں نہیں کھیلتے جسے انہوں نے خود تیار نہ کیا ہو اور جب بھی کسی انہونی صورتحال سے روبرو ہوتے ہیں اس کا جواب ایک نئی صورتحال پیدا کر کے دیتے ہیں۔

2)۔ اسرائیل کا دوسرا ممکنہ اقدام یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کو ایران کے خلاف میدان میں لے آئے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے جوہری معاہدہ ختم کر دینے کی ترغیب دلانے کا مقصد انہیں ایسے راستے پر ڈالنا ہے جس سے واپسی ممکن نہ ہو۔ دوسری طرف نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیلی حکام کے درمیان بھی ایران سے جوہری معاہدے کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں بہت گرم بحث چل رہی ہے۔ تقریباً دو ہفتے پہلے اسرائیلی فوج کے تیس کمانڈرز جن میں آرمی اسٹاف کے چار کمانڈرز بھی شامل تھے، نے ایران سے جوہری معاہدے کو باقی رکھنے پر زور دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے ایران سے جوہرے معاہدے کی بقا کے حق میں ہیں۔ مزید برآں، اسرائیل آرمی کے سربراہ نے بھی بائیں بازو کے اخبار ہارٹز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک اور ایران میں انجام پانے والا جوہری معاہدہ بعض نقائص کے باوجود مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر پر یہ معاہدہ ختم کرنے کیلئے دباو نہیں ڈال رہے بلکہ دیگر شعبوں میں بھی مشابہہ معاہدے انجام دینے پر زور دے رہے ہیں۔ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ کس حد تک ایران اور حزب اللہ لبنان کے خلاف اسرائیلی فوجی منصوبے کی حمایت کرنے کو تیار ہے؟ امریکہ کی جانب سے 14 اپریل کو شام کے خلاف محدود فوجی کاروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سکیورٹی و فوجی حکام ہر قیمت پر اسرائیل کی فوجی حمایت پر تیار دکھائی نہیں دیتے۔ اسی بنیاد پر حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ شام میں تین کم اہمیت والے مقامات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بارے میں ٹرمپ، بولٹن، سعودی عرب اور اسرائیل کی رائے قبول نہیں کی گئی بلکہ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کی رائے کو ترجیح دی گئی ہے۔ اگر 14 اپریل کے امریکی حملے کو امریکی فیصلوں اور عمل کے ایک معیار کے طور پر دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ امریکی فوج کی ڈاکٹرائن میں ایران اور شام کی مسلح افواج سے ٹکر لینا شامل نہیں۔ لہذا اس تناظر میں اسرائیل کی جانب سے امریکہ اور یورپی ممالک کو شام کی جنگ میں ملوث کرنے کا امکان کم نظر آتا ہے۔

3)۔ اس وقت امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور خطے میں امریکہ کے بعض دیگر پٹھو ممالک تشخیص کے بحران سے دوچار ہو چکے ہیں لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ ایران کے بارے میں حتی امریکی حکام کے درمیان متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شروع میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور خطے میں اس کا اثرورسوخ ختم کرنے کی باتیں کرتے تھے لیکن اب ایک سال بعد بعض یورپی سربراہان مملکت سے اپنی ملاقات کے دوران یہ کہتے نظر آتے ہیں: “ہم صرف ایران کو اس بات پر راضی کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بین البراعظمی میزائل نہ بنائے البتہ خود ایران بھی یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ ایسے میزائل نہیں بنائے گا۔” اسی طرح امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیتھر نائورت نے کہا ہے کہ یورپی حکام کی نسبت ہمارے بعض تحفظات دور ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف اخبار فنانشل ٹائمز لکھتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوپری حکام کو اس بات پر راضی کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے بین البراعظمی میزائل بنائے تو اس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

مذکورہ بالا مطالب سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ ایران کے بارے میں امریکہ سرگردانی کا شکار ہے اور کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ ایسی فضا میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ ایک سال تک ایران پر دباو ڈالیں تاکہ وہ میزائل ٹیکنالوجی اور خطے سے متعلق امور کے بارے میں بھی معاہدہ کرنے پر تیار ہو جائے۔ مختصر یہ کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم ایران کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھانے میں دو قسم کی محدودیتوں کا شکار ہے؛ ایک وقت کی محدودیت اور دوسری توانائی کی محدودیت۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful