ایک مکروہ ایجنڈا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک مکروہ ایجنڈا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلگت بلتستان میں ہر غیر متنازعہ لیڈر یا فورم کو متنازعہ بنانے کی مہم میں ایک گروہ سرگرم ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کس کا ایجنڈا ہو سکتا ہے اس پر سوچا جانا ضروری ہے۔
گندم سبسڈی کی تحریک چلتی ہے۔ پورا جی بی منظم ہوجاتا ہے۔ تحریک کےنتیجے میں مولانا سلطان رٸیس جی بی لیول پہ لیڈر بن کر ابھرتے ہیں ۔عوام ویلکم کرتے ہیں ۔ سکردو میں آغا علی رضوی کی ولولہ انگیز قیادت تحریک کی کامیابی کا سبب بنتی ہے ۔ دونوں مذہبی شخصیات کی مشترکہ جد وجہد جی بی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا سبب بنتی ہے۔ دیامر اور گلگت ریجن سے قیادت لیول کے وفود کا بلتستان اور بلتستان سے وفد کا دیامر غذر اور گلگت کا دورہ ہوتا ہے۔ سالوں کی علاقاٸی اور فرقہ وارانہ نفرتیں محبتوں میں بدل جاتے ہیں ۔ ایک گروہ کو یہ سب اچھا نہیں لگتا اور وہ اپنے نصف درجن لوگوں کو لیکر الگ “تحریک” بنا لیتا ہے۔ سلطان رٸیس کو کسی کا پلانٹڈ یا ایجنٹ ثابت کر کے متازعہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ان کی یہ کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں اور انہیں سلطان رٸیس اور آغا علی کی قیادت ایک بار پھر اینٹی ٹیکس مومنٹ میں کامیابی کے جھنڈےگاڑتی ہے۔
اب باری آغا علی کی آتی ہے۔ وہ آغا علی جنہوں نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو اپنے حق کیلٸے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا ۔ شیڈول فور جیسے کالے قوانین کو پیروں تلے روند دیا ۔ انہیں وہ لوگ جو زندگی میں چھ بندے یادگار پہ اکھٹے نہ کر سکے ان کو سبق پڑھانٕے کی کوشش کرنے لگ گٸے ساتھ میں گلگت کا تقسیمی برگیڈ شامل ہوگیا اور اپنا قدبڑھانٕے کی کوشش میں لگ گٸے اور آغاصاحب کو متنازعہ بنانے کی کوششوں میں جت گیا۔ لیکن اگلی تحریک پھر سے ثابت کرے گی کہ تقسیمی ایجنڈے کے حامل ناکام ہوٸے ہیں۔
پھر گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں نے جی بی اوٸیرنیس فورم کےپلیٹ فارم سے جی بی کی یوتھ کو اکٹھا کیا اور جی بی کی آواز نیشنل أور انٹرنیشنل میڈیا تک پہنچایا ۔ جی بی کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم دیا اور یوتھ اور پارٹیوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوٸےوفاقی اور لوکل لیڈرشپ کو یوتھ کے روبرو کیا تاکہ وہ ایک دوسرے کے موقف کو سمجھیں اور ساتھ میں جی بی کے ایک مشترکہ قومی بیانیٸے کی جدوجہد کی ۔ کراچی ,لاہور اسلام آباد اور سکردو میں سیمینارز اسلام آباد میں آل پارٹیزکانفرنس کراکے قوم کو متفقہ موقف اور بیانٸے پہ اکٹھی کرنے کی کوشش کی ۔ یہی برگیڈ پھر سے گوبر سے کیڑوں کی مانند نکل آیا اور اس قومی فورم کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی اور کسی کا پیدا کردہ ایجنٹ بنانےکی اپنی سابقہ روایت کو دہرایا مگر اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ خود ایکسپوز ہو گٸیے ۔ ان تمام تر باتوں سے یہ اندازہ لگابالکل بھی مشکل نہیں کہ یہ سب کسی خاص ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ اس ایجنڈے کا اصل مقصد کسی متفقہ اور غیر متنازعہ لیڈرشپ کے ابھر آنے میں رکاوٹ ڈالنا اور تقسیم در تقسیم اور ایک صدر اور ایک جنرل سیکریٹری پر مشتمل گروہوں کے قیام کی پرانی روایت کو برقرار رکھنا اور اپنی اپنی دو دو انچ کی دکانیں چالو رکھنا ہے۔ اس گروہ کا أیجنڈا یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام میں کسی غیر متنازعہ لیڈر یا فورم کے کردار کی وجہ سے جی بی عوام کو حقوق نہ ملے بلکہ ان کے احساس محرومی اور حقوق کے حوالے سے فرسٹریشن میں اضافہ ہو اورلوگ ان کے پھیلاٸے منفی پراپیگنڈے کےزیر اثر ایک انتہاٸی قدم کی طرف بڑھے مگر ان شإ اللہ جی بی کی مخلص اور غیر متنازعہ قیادت ,پڑھی لکھی جی بی یوتھ کا متحرک ترین فورم ان کے ان مقاصد کی راہ میں دیوار بن کر جی بی کو حقوق دلانے اور جی بی عوام کی معیار زندگی کی بہتری کے ساتھ ساتھ جی بی کے لوگوں کو حق حکمرانی دلانے میں اپنا بھریور کردار ادا کرتا رہے گا۔
انجنٸیر شبیر حسین

About VOM

وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔