ایک ناکام جرنیل کی کہانی

رضی الدین رضی۔۔۔۔۔

کوئی کچھ بھی کہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جنرل حمید گل کی پیشہ ورانہ زندگی ناکامیوں سے عبارت تھی۔اگرچہ انہوں نے اپنے ڈرائنگ روم میں دیوارِبرلن کا ایک ٹکڑا بھی سجارکھاتھا اوروہ اس دیوار کے ٹوٹنے کو اپنی کامیابیوں میں ہی شمارکرتے تھے لیکن حالات و واقعات پر نظررکھنے والوں کومعلوم ہے کہ بطور جرنیل انہیں کہاں کہاں ناکامیوں کاسامنا کرناپڑا اورکس طرح پسپائی اختیارکرناپڑی۔ وہ جنرل ضیاء کی فکر کے داعی تھے۔ان کے مشن کوآگے بڑھانا چاہتے تھے اور ان کے منظورنظر بھی تھے۔حمید گل کو ایک طاقتور جرنیل اور اسلام کے سپاہی کے طورپر پیش کیاگیالیکن حقیقت یہ ہے کہ طاقتور ہونے کے باوجودوہ پیشہ ورانہ محاذ پر مسلسل ناکامیوں سے دوچارہوئے اور اسلام کوبھی اپنے اس سپاہی کے ہاتھوں خاطرخواہ فائدہ نہ پہنچ سکا۔جنرل حمید گل کی پالیسیوں کے نتیجے میں دشمن کو تو کیا نقصان پہنچنا تھا سب سے زیادہ نقصان اسی پاکستان کوپہنچا جس کے دفاع کا انہوں نے حلف اٹھایاتھا۔جس کی وفاداری کاوہ دعویٰ کرتے تھے۔آج ہمیں جس دہشت گردی کاسامنا ہے اورجس کے نتیجے میں عالمی برادری میں پاکستان ہی نہیں اسلام کی نیک نامی پربھی حرف آیا اورمسلمانوں کو صرف اورصرف دہشت گرد ہی سمجھا جانے لگا۔یہ سب جنرل حمید گل کی پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے۔کہانی 1987ء سے شروع ہوتی ہے جب جنرل ضیاء نے حمید گل کو جنرل اخترعبدالرحمان کی جگہ آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل مقررکیا۔جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر یہ انتہائی اہم تقرری تھی۔افغانستان میں اس وقت جنگ کسی انجام کی طرف پہنچنے والی تھی۔ملک کی داخلی سکیورٹی کو یقینی بنانا حمید گل کے فرائض میں شامل تھا۔پہلی ناکامی انہیں اس وقت پیش آئی جب10اپریل1988ء کو اوجڑی کیمپ میں دھماکہ ہوااورسینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ دھماکہ افغان جنگ کیلئے بھیجے گئے امریکی کروز میزائلوں کے آڈٹ کو ناکام کرنے کیلئے کیاگیاتھا۔اصولی طورپر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے تھا لیکن اس دھماکے کی تحقیقات اور ذمہ داریوں کے تعین کے حوالے سے پیدا ہونیوالے اختلافات کے نتیجے میں جونیجو حکومت کو گھر بھیج دیاگیا۔اس واقعہ کے کچھ عرصے بعد ہی جنرل حمید گل کو دوسری ناکامی کاسامنا کرناپڑا۔17اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق سمیت بہت سے فوجی افسر اورامریکی سفیربہاول پور کے قریب طیارے کے حادثے میں لقمہ اجل بن گئے۔یہ حادثہ کیوں پیش آیا۔سکیورٹی کانظام کس طرح مفلوج کیاگیا اورکیسے ملکی اعلی ترین فوجی قیادت کو منظرسے ہٹادیاگیا۔یہ معمہ آج تک حل نہیں ہوسکا۔ڈی جی آئی ایس آئی اس وقت بھی حمید گل تھے لیکن انہیں کسی تادیبی کاروائی کا سامنا نہ کرناپڑا۔پھرعام انتخابات ہوئے اور حمید گل نے خالصتاً ملکی سلامتی کے تحفظ کیلئے بنائے گئے ادارے آئی ایس آئی کو پہلی مرتبہ سیاست میں دھکیل دیا۔بے نظیر بھٹو کو برسراقتدار آنے سے روکنے کیلئے حمید گل کی نگرانی میں آئی جے آئی تشکیل دی گئی۔آئی ایس آئی کے فنڈز سیاستدانوں میں تقسیم ہوئے۔ملک کی سب سے بڑی عدالت میں یہ سارے الزامات درست بھی ثابت ہوگئے لیکن حمید گل پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں تھا۔کسی نے ان سے یہ نہ پوچھا کہ تم نے ایک دفاعی ادارے کو سیاست میں کیوں دھکیلا۔دفاعی فنڈز سیاستدانوں میں بطور رشوت کیوں تقسیم کیے اور ملکی جمہوری نظام کو کیوں نقصان پہنچایا۔ناکامی کا سامنا انہیں یہاں بھی کرنا پڑا۔آئی جے آئی جس مقصد کے لئے بنائی گئی تھی وہ پورا نہ ہو سکا اور بے نظیر بھٹو برسرِاقتدار آگئیں۔جنرل حمید گل نے آئی جے آئی کی تشکیل اور فنڈز کی تقسیم کو ہمیشہ تسلیم کیالیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام انہیں اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر اٹھانا پڑا۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔حمید گل کوایک اور پیشہ ورانہ ناکامی کا سامنا 1989ء میں کرناپڑاجب روس کے انخلاء کے بعد افغانستان میں نجیب حکومت بحران کاشکارتھی۔ایسے میں حمید گل نے مجاہدین کی مدد سے جلال آباد فتح کرنے کا منصوبہ بنایا۔یہ بے نظیر بھٹو کا دورحکومت تھا۔گلبدین حکمت یار اور ان کے ساتھیوں کی مدد سے حمید گل نے جلال آباد پر چڑھائی کی۔گھمسان کی لڑائی میں ہزاروں افغان باشندے مارے گئے اور حمید گل کے مجاہدین کو پسپائی اختیارکرناپڑی۔اس ہزیمت کے بعد بہت سے لوگوں نے انہیں پیار سے’’ فاتح جلال آباد‘‘ بھی کہناشروع کردیا۔ناکامی کے بعد انہیں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا کر کورکمانڈرملتان بنادیاگیا۔1991ء میں انہیں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کاسربراہ مقررکیاگیا توانہوں نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکارکردیااورفوج سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے نجی حیثیت میں مجاہدین کی سرپرستی شروع کی۔

آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے مختلف گروپوں کے ساتھ روابط تھے۔ملا عمر سمیت تمام افغان رہنماؤں کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات تھے۔وہ ’’نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر‘‘ مسلمانوں کی حکمرانی چاہتے تھے۔وہ اقبال کے فلسفہ جہاد کے داعی تھے۔وہ اسلامی نشاۃ ثانیہ چاہتے تھے لیکن زمینی حقائق تبدیل ہو چکے تھے۔ جنرل حمید گل نے اس تبدیلی کو سمجھنے کی بجائے اپنا مشن جاری رکھا۔اس مقصد کیلئے انہوں نے کشمیر میں بھی مجاہدین بھیجے۔ افغانستان میں طالبان گروپوں کی بھی سرپرستی کی۔نتیجہ اس خون خرابے کی صورت میں نکلا جو آج وطن عزیز کا مقدرہے۔وہ آخروقت تک اپنے انٹرویوز اور تقریروں میں جہاد کی تلقین کرتے رہے۔وہ دفاع پاکستان کونسل کے لیڈر کے حیثیت سے بھی سرگرم رہے۔مختلف انتہا پسند گروپوں کے ساتھ ان کے روابط رہے اورانہیں ’’طالبان کا باپ ‘‘بھی کہا جانے لگا۔وہ طالبان کواپنے بچے کہتے تھے اورطالبان بھی ایک روحانی باپ اورفکری قائد کے طورپر ان کی عزت کرتے تھے۔یہ تمام ناکامیاں اپنی جگہ لیکن سب سے بڑی ناکامی یہ تھی کہ جس ادارے کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے جہاد کو فروغ دیا اور دہشت گردوں کی سرپرستی کی وہی ادارہ اس نتیجے پر پہنچا کہ حمید گل کی فکری سمت درست نہیں تھی۔دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب کے نام سے شروع کیاجانے والا آپریشن جنرل ضیاء کی فکری وارثت اور حمید گل کے خوابوں پر کاری ضرب بن گیا۔وہ بہت سی کہانیاں اور سوالات چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔جنرل امیر عبداللہ نیازی کی طرح انہیں بھی قومی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کر دیا گیا۔

 

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful