ایک گائے = ایک ہندو کنیا ۔۔۔ ہندو ”مولوی“ نے نیا انکشاف کر دیا

نئی دہلی : گائے کو ہندو مت میں احترام حاصل ہے اور انتہا پسند ہندو ہر گائے کو اپنی ماں قرار دیتے ہیں لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ گائے کی حرمت انسان کے برابر ہے۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں آر ایس ایس کے ایک ترجمان جشنو باسو کے مطابق، ”کسی گائے کو جان سے مارنا یا اس کی سمگلنگ کرنا ایک ہندو کنیا کے ساتھ جنسی زیادتی یا ایک ہندو مندر کو مسمار کرنے کے مترادف ہے۔“ اسی وجہ سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جو انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کی حمایت سے برسراقتدار آئے ہیں بنگلہ دیشی سرحد پر تعینات 30 ہزار بھارتی فوجیوں کو اب یہ ذمہ داری بھی سونپ دی ہے کہ گائیوں کو غیر قانونی طور پر مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش لے جانے سے روکیں۔ بھارت میں مسلمان پہلے ہی گائے کے ذبیحے پر پابندی سے مشکلات کا شکار ہیں لیکن اب اس پابندی کے بعد نہ صرف بنگلہ دیش میں بڑے گوشت کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں بلکہ اس فیصلے سے وہ بھارتی مسلمان بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جو گائیں پالنے اور بیچنے کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے۔ سماجی ماہرین کے مطابق ازمنہ قدیم سے ہی ہندو مت میں گائے کو تقدس حاصل ہے لیکن اس تقدس کی ایسی توجیہہ پہلی بار سامنے آئی ہے کیونکہ تاریخ میں پہلی بار انتہا پسند ہندوﺅں کو اقتدار ملا ہے اور وہ اپنے مذہبی نظریات کو بھارت ہی نہیں خطے کی دیگر اقوام پر بھی ٹھونسنے کے لیے پر عزم نظر آرہے ہیں۔ بھارت کے سیاسی مبصرین اس رجحان کو ملک کے سیکولر تصور کے لیے نہایت خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان تاریخی طور پر سیکولر تھا لیکن اب یہ صحیح معنوں میں ہندوستان بن رہا ہے جس میں دیگر مذاہب اور اقوام کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق مویشیوں کی سمگلنگ کرنے والوں کے خلاف یہ کریک ڈاو¿ن دراصل بھارتی سرکار کی پالیسیوں میں ہندو قوم پرستوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کا ثبوت ہے۔ یاد رہے کہ ہر سال تقریباً 20 لاکھ مویشی بھارت سے بنگلہ دیش سمگل کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ قریب چار دہائیوں سے جاری اس کاروبار کا سالانہ حجم اس وقت 600 ملین امریکی ڈالرز تک پہنچ گیا ہے اور ڈھاکہ حکومت اس کاروبار کو قانونی تصور کرتی ہے۔ ہندو قوم پرست رہنما نریندر مودی کی حکومت جو انتہا پسند ہندو قوم پرست راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی مدد سے اقتدار میں آئی، اس سلسلے کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے رواں برس موسم بہار میں بنگلہ دیشی سرحد کا دورہ کیا اور سرحدی فورسز کو حکم دیا کہ وہ مویشیوں کی سمگلنگ کا سلسلہ روکیں تاکہ بنگلہ دیش کے لوگ گائے کا گوشت کھانا بند کر دیں۔ یاد رہے کہ مغربی بنگال کی 2216 کلومیٹر طویل سرحد بنگلہ دیش کے ساتھ لگتی ہے۔ اب تک بھارتی سرحدی افواج نے 90 ہزار مویشیوں کے بنگلہ دیش میں داخلے کو روکا ہے اور 400 بھارتی اور بنگلہ دیشی سمگلرز کو گرفتار بھی کیا ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے سیاسی مشیر ایچ ٹی امام کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کی گوشت اور کھالوں کی صنعت متاثر ہو رہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش سے بیرون ممالک گوشت برآمد کنندگان بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

 

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful