بانی پاکستان کی تصویر کا قضیہ، علی گڑھ شہر میں دفعہ 144 نافذ

اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین آفس میں طے کیا گیا ہے کہ پانچ دنوں تک کلاس سے لیکر دیگر تعلیمی سرگرمیوں سے طلاب دور رہیں گے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اگر طلاب کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے تو دوسری یونیورسٹیز کے طلباء کے ساتھ مل کر بھارت بھر میں احتجاج کریں گے۔
 بھارت کی معروف دانشگاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تصویر موجود ہونے لیکر جاری تنازعہ کے پیش نظر حکام نے علی گڑھ شہر میں دفعہ 144 کے تحت انٹرنیٹ خدمات کو فی الحال معطل رکھنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ ادھر ہندو مہا سبھا نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں موجود محمد علی جناح کو بھارت کی عظیم شخصیات اور فوج کی توہین قرار دیتے ہوئے اس یونیورسٹی کو ’’منی پاکستان‘‘ سے تعبیر کیا۔ ضلع افسران نے اے ایم یو میں موجودہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے منفی پروپیگنڈہ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے انٹرنیٹ سروس کی معطلی کا حکم صادر کیا ہے۔ اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین آفس میں طے کیا گیا ہے کہ پانچ دنوں تک کلاس سے لیکر دیگر تعلیمی سرگرمیوں سے طلاب دور رہیں گے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اگر طلاب کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے تو دوسری یونیورسٹیز کے طلباء کے ساتھ مل کر بھارت بھر میں احتجاج کریں گے۔ ادھر آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے قومی صدر سوامی چکرپانی نے ’’نیوز 18‘‘ سے بات چیت میں کہا ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہے۔ اے ایم یو ’’منی پاکستان‘‘ ہے، اسے شدت پسندوں کا گڑھ بھی کہا جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید زہر افشانی کرتے ہوئے کہا ’’مسلم یونیورسٹی میں شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’محمد علی جناح کا آزادی کی لڑائی میں جو بھی تعاون رہا ہے، لیکن وہ ملک کی تقسیم اور ہندوؤں کی موت کے ذمہ دار ہیں، اس لئے بھارت میں ان کی تصویر نہیں لگائی جا سکتی ہے‘‘۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful