بحرین کا ایران پر شرمناک الزام عائد

خلیجی ریاست بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ کے بقول عرب ریاستوں میں تخریبی سرگرمیوں کی تائید و حمایت کے باعث اس خطے کے لیے ایران بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے جتنا کہ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش۔

مناما سے ہفتہ اکتیس اکتوبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق بحرین کے وزیر خارجہ نے یہ بات آج ملکی دارالحکومت میں ہونے والی ایک علاقائی سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ شیخ خالد الخلیفہ کے مطابق خلیج کی عرب ریاستوں میں ایران کی طرف سے تخریبی کارروائیوں کی جو حمایت کی جاتی ہے، وہ خطے کے لیے اتنا ہی شدید خطرہ ہے، جتنا کہ شام اور عراق میں وسیع تر علاقوں پر قابض جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کی سرگرمیاں۔

روئٹرز کے مطابق بحرین کے وزیر خارجہ نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ (ایرانی) اقدامات اس خطرے سے کم شدت اور نوعیت کے نہیں ہیں، جو داعش کی وجہ سے پیدا ہو چکا ہے۔‘‘ شیخ خالد الخلیفہ نے اپنے خطاب میں ایران پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ بحرین میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا مرتکب ہو رہا ہے۔

مناما میں اس کانفرنس سے اپنے خطاب میں بحرینی وزیر خارجہ نے یمنی تنازعے کے بارے میں کہا، ’’یمن میں حوثی ملیشیا کا کوئی مستقبل صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ خود کو غیر مسلح کرتے ہوئے تنازعے کے سیاسی حل کی تلاش کے عمل کا حصہ بنے۔‘‘

یمن میں  حوثی  باغیوں کے خلاف خلیج کی عرب ریاستیں سعودی عرب کی قیادت میں ایک عسکری اتحاد کی صورت اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس اتحاد میں اسرائیل بھی شامل ہے .خلیجی عرب ریاستوں کا الزام ہے کہ حوثی شیعہ یمن میں ایران کی ’پراکسی جنگ‘ لڑ رہے ہیں۔ اس الزام کی خود حوثیوں کے علاوہ تہران کی طرف سے بھی تردید کی جاتی ہے۔

 Außenminister Saudi-Arabien al-Jubeir in Kairoیمنی تنازعہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، سعودی وزیر خارجہ

سعودی عرب کی امید

روئٹرز کے مطابق مناما کی اسی سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آج سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ تہران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے کے بعد اب آئندہ جب تہران پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی، تو سعودی عرب یہ امید کرتا ہے کہ پھر تہران خود کو حاصل ہونے والے نئے مالی وسائل کو ’جارحانہ پالیسیوں‘ کے لیے استعمال کرنے کی بجائے اپنی اقتصادی ترقی کے لیے بروئے کار لائے گا۔

عادل الجبیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ہمسایہ ملک یمن میں جو تنازعہ پایا جاتا ہے، اس میں ریاض حکومت ان فورسز کی حمایت کر رہی ہے، جو ایران نواز حوثیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ الجبیر نے کہا کہ سعودی قیادت میں عسکری اتحاد کی فوجی کامیابیوں کے باعث یمن کا تنازعہ اب اپنے ’آخری مرحلے‘ میں داخل ہو رہا ہے۔

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful