بلوچستان دہشتگردی: پاکستان کا 14 شہریوں کے قتل پر ایران سے باضابطہ احتجاج

پاکستانی حکومت نے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں دہشت گردی کے نتیجے میں 14 شہریوں کے قتل پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں ایک احتجاجی مراسلہ اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارتخانے کو بھیجا ہے، جس میں کہا گیا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے بھی ایران سے کئی مرتبہ مطالبہ کیا جاچکا ہے۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ ایف سی یونیفارم میں ملبوس 15 سے 20 دہشتگردوں نے اورماڑہ میں گوادر کے قریب 3 سے 4 بسوں کو روکا، جو کراچی سے گوادر کوسٹل ہائی وے پر سفر کر رہی تھیں۔

احتجاجی مراسلے میں مزید کہا گیا کہ دہشتگردوں نے بسوں کو روکا اور بسوں میں مسافروں کی شناخت کے بعد مسلح افواج کے 14 اہلکاروں کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان بارہا ایران کو ان بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے تربیتی کیمپوں اور سرحد پار لاجسٹک بیسز سے آگاہ کر چکا ہے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے باوجود ان دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پاکستان نے دہشت گردی کے اس واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے ایران سے دہشتگرد تنظیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ 18 اپریل 2019 کو صوبہ بلوچستان میں مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب مسلح افراد نے 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.