بھارت مقبوضہ کشمیر کوعبوری اسٹیٹس دے سکتا ہے تو ہم گلگت بلتستان کو عبوری اسٹیٹس کیوں نہیں دے سکتے، جسٹس اعجازالاحسن کے گلگت بلتستان سے متعلق کیس میں ریمارکس

اسلام آباد(ابرار حسین استوری)سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کے اسٹیٹس سے متعلق حکومت سے 14 روز میں موقف اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر جواب طلب کر لیا.جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایک طرف بھارت مقبوضہ کشمیر کو عبوری سیٹ اپ دے سکتا ہے تو ہم گلگت بلتستان کو عبوری سیٹ اپ کیوں نہیں دے سکتے ہیں،عدالت نے یکم نومبر تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے حکومت سے رپورٹ طلب کرلی

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ڈاکٹر عباس اور بار کونسل کی درخواست پر گلگت بلتستان کی بنیادی و آئینی حقوق اور عدالتوں کے دائرہ اختیار سمیت 32 مختلف مقدمات کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سات رکنی لاجر بینچ نے کی. سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیس کے آغاز سے پہلے تاریخ اور قوانین بتائے جائیں. معلوم ہونا چاہیے گلگت بلتستان کا قانونی آئینی پس منظر کیا ہے.

چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ مختلف اداروں کی مختلف درخواستیں ہیں. اس لیے سب سے پہلے قانونی نکات جاننا عدالت کے لیے لازم ہے. جس پر گلگت بلتستان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے سابقہ حکومت نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی. کمیٹی کا 29 اکتوبر 2015 کو باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوا. کمیٹی کی سفارشات کے بعد گلگت بلتستان کی عوام کو پاکستانی شہریوں کا درجہ دے دیا گیا ہے. گلگت بلتستان اب مکمل طور پر پاکستان کے کنٹرول میں ہے. اس میں خودمختاری کا اب کوئی ایشو نہیں ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے وکیل سلمان اکرام راجا سے استفسار کیا کہ گلگت بلتستان ایکٹ کا اب جموں کشمیر سے کیا تعلق ہے؟ جس پر وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کا جموں کشمیر سے کوئی تعلق نہیں.

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کے دورے کے دوران گلگت بلتستان کے رہائشیوں کے مسائل سامنے آئے. مسائل پر وزیراعظم نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ہے۔ اپ ہمارے پاس کمیٹی کی سفارشات پر عمل کروانے کے لیے آتے ہیں. لیکن اس رپورٹ پر ہمارے سامنے حکومت کا کوئی موقف نہیں یے. یہ تو مکمل انتظامیہ کا معاملہ ہے۔ جس پر سلمان اکرام راجا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے بھی اس رپورٹ کو تسلیم کیا ہے. چیف جسٹس کہا. کہنا تھا کہ حکومت کا تسلیم کرنا کہاں سے ثابت ہوتا ہے. کیونکہ نہ اس رپورٹ پر عملدرآمد کا معاملہ وفاقی حکومت کو بھیج دیا جائے۔ اس میں حکومت کا موقف بھی آنا لازمی ہے۔اگر حکومت رپورٹ کا کچھ حصہ مسترد کرتی ہے تو انکو پھر آپ بھی عدالت لاسکتے ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے کہا گلگت بلتستان کےرہائشی اب پاکستان کے شہری بھی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کیا گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیا گیا ہے۔ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی سفارشات کی روشنی میں آرڈر 2018 جاری کیا گیا. چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی طرف مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی حکومت نے بنائی تھی کیا حکومت کے پاس ٹائم نہیں اپنی سفارشات کا جائزہ لے۔

جسٹس گلزار احمد نے سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی کی رپورٹ پر ہم چل پڑے. یہ لوگ پاکستان کے پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں اور مراعات بھی لیتے ہیں۔انڈیا نے دوسری جانب عبوری سٹیٹس کا لفظ آئین میں لکھ دیا ہے۔گلگت بلتستان کے لوگ خود کو پاکستانی تصور کرتے ہیں اور کیا چاہیے.

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اگر انڈیا مقبوضہ کشمیر کوعبوری اسٹیٹس دے سکتا ہے تو ہم گلگت بلتستان کو عبوری اسٹیٹس کیوں نہیں دے سکتے .
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ انڈیا کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کے لیے آرٹیکل 370 ختم کرنے کا سوچ رہا ہے. جسٹس عمر عطا بندیال بولے گلگت بلتستان کے لوگوں کی پاکستان سے محبت کو بین الاقوامی طور پر اجاگر کرنے کی ضروت ہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حکومت سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ کو تسلیم کرے تو پھر عدلیہ کا کردار نہیں رہے گا. اٹارنی جنرل نے عدالت سے مزید مہلت کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت سے کہیں باقی سارا کام چھوڑ دیں یہ بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے.

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان اسٹیٹس سے متعلق حکومت سے 14 روز میں موقف اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر بھی جواب طلب کر لیا. کیس کی سماعت 1 نومبر تک ملتوی

About یاور عباس

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful