بھارت میں ’’تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کی سیاست عروج پر

 ایک سروے کے مطابق بھارت کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے سیاسی مفاد کے لئے مذہب اور ذات پات کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ بھارت میں دلتوں پر ہو رہے مظالم کے خلاف انہوں نے دو اپریل کو بھارت بند کی کال دی تھی۔ جس کے اگلے ہی دن راجستھان کے دو دلت اسمبلی ممبروں کے گھر جلا دئے گئے۔ ایسے واقعات یا دیگر فرقہ وارانہ فسادات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ بھارت میں ذات پات اور مذہب کی سیاست کس قدر عروج پر ہے۔ بابری مسجد کو لیکر بھی بی جے پی و کانگریس نے بڑے پیمانے پر مختلف ریاستوں میں فرقہ وارانہ فسادات کروائے اور سیاسی رہنماؤں نے اس پر خوب سیاسی روٹیاں سیکیں۔

آپ کو بتا دیں کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ایک انتہائی اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں سیاسی پارٹیاں مذہب کے نام پر ووٹ نہیں مانگ سکتی ہیں۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ اگر کوئی پارٹی مذہب، عقیدہ، ذات پات، نسل اور زبان کے نام پر ووٹ مانگے گی تو اس کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے 1996ء کے ہندوتوا کیس میں داخل متعدد درخواستوں پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا تھا۔ تین ججز نے چیف جسٹس کے موقف کی حمایت کی تھی اور تین نے اختلاف کیا تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا جماعت اسلامی ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ وغیرہ نے خیرمقدم کیا تھا۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.