بھا رتی جاسوس

بھارت کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نام نہاد جمہوریہ کے پیچھے بھارت کا مکروہ چہرہ چھپا ہوا ہے ۔بھارت خودکو خطے کا چھودھر ی گردانے کیلے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔اور انسانیت کا قتل عام کرنا بھی پڑے تو بھارت اس سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا ۔بھات اپنے مزموم مقاصد کے حصول کیلے ہمسائیہ ممالک کے کیخلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے ۔جو کسی بھی طرح خطے کے مفا د میں نہیں ۔بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے ۔اگر چہ بھارت پاکستان کا ہمسائیہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے مابین تجارتی سرگرمیاں بھی روز اول سے جا ری ہیں ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان دونوں ممالک کے مابین صیح تعلقات ہیںایسا ہر گز نہیں ہے ۔کیونکہ بھارت کی ہٹ دھر می سے دونوں ممالک کے حالا ت کسی بھی کشیدگی کا شکار ہو سکتے ہیں ۔بھارت نے پاکستا ن کو ابھی تک اپنے پورے وجود کے ساتھ تسلیم نہیں کیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنے ان مقاصد کے حصول کیلے پاکستان کے اندر ونی معالات میں مداخلت کرتا ہے ۔اس بات میں کسی قسم کی شک کی کوئی گنجایش نہیں کہ پاکستان میں بدامنی ،دہشتگردی ،فرقہ واریت ،قتل و غارت گری،دھماکوں اور بم بلاسٹ میں ملوث ہے ۔ اس کے واضح ثبوت بھارت کے وہ جاسوس ہیں جنہیں پاکستان میں بدامنی کی غرض سے بھیجاگیا اورپاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گئے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔کلبھوشن جادھو جنہیں مارچ ۲۰۱۶ میں سر زمین بلوچستان سے پکڑا گیا ۔کلبھوشن جادھو ایران کی سرزمین سے پاکستان میں داخل ہو ئے اور اس کا مقصد بلوچستان میں علٰحیدگی پسندوں کو فنڈنگ کرنا اور ان سے ملا قات کرنا تھا۔جو کہ بھارت ااس پہلے بھی ان کی امداد کر رہاہے ۔کلبھوشن جادھو کی جاری کی گئی ویڈیومیں بھی وہ اس بات کا اعتراف کر تے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جس میں انہوں اس بات کا اعترف کر کرلیا ہے کہ وہ انڈین نیوی کے حاضر سروس آفیسر ہیں ۔انہیں پاکستان میں بدامنی پھیلانے اور علٰحید گی پسندوں کی پشت پناہی کیلے بھیجا گیا تھا ۔کلبھوشن جا دھو نے حسین مبارک پیٹل کا نا م اختیا ر کیا ہوا تھا۔ ۔کلبھوشن جا دھو وہ پہلے ہندوستانی جاسوس تھے جو پنجاب سے باہر پکڑے گئے ۔ماضی میں اکثر بھارتی جاسوس پنجاب سے پکڑے گئے ہیں اور ان میں سے اکثریت کا تعلق بھارتی پنجاب سے تھا ۔سزائے موت سنائے جا نے وا لے کلبھوشن جادھو وہ پہلے ہندوستانی جا سوس نہیں بلکہ پیچھلے چار عشروں میں ایک درجن سے زیا دہ بھاتی جاسوسوں کو سزاہوئی اور ان میں سے بعض کو سزائے موت بھی سنائی گئی ۔لیکن ابھی تک کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں کیاجا سکا ۔البتہ کئی لوگ جیل میں ہی مر گئے ۔آئیے ان میں سے چند ایک کا مختصر زکر کر تے ہیں ۔

کشمیر سنگھ :پہلے بھارتی جاسوس۔ کشمیر سنگھ ۱۹۷۳میں پاکستانی خفیہ اداروں کے ہا تھ لگ گئے۔کشمیر سنگھ پاکستان میں بدامنی اور پاکستا ن کو غیر مستحکم کر نے کے ایجنڈے پر کا م کر رہے تھے ۔کشمیر سنگھ کو اسی جرم کی پاداشت میں پاکستانی جیلوں میں ۳۵ سال گزانے پڑے ۔۲۰۰۸ میں ان کو رہاکیا گیا ۔کشمیر سنگھ کی رہائی میں انسانی حقوق کے کارکن انصار بر نی کی کوششوں کا بہت عمل دخل تھا۔جب کشمیر سنگھ رہائی کے بعد انڈیا پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کر کے بھارت نے یہ واضح پیغام دیا کہ وہ دہشتگردوں کی سر پرستی کر نے والا ملک ہے۔پاکستان میں موجودگی کے دوران کشمیر سنگھ نے اپنے آپ کو بے قصور قرار دیا لیکن جوں ہی انڈیا میں قدم رکھا انہوں نے اعتراف کر لیا کہ وہ بھارت کے جاسوس تھے ۔

ونود سانھی :۱۹۷۷میںگرفتار کیا گیا اورگیارہ برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد۱۹۸۸میں رہائی ملی ۔

سربجیت سنگھ :اگست ۱۹۹۰میں پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گئے ۔سر بجیت سنگھ فیصل آباد اور لاہور میں دھماکوں میں ملوث تھے ۔انہیں الزاما ت کی بنیاد پر سر بجیت سنگھ کو سزائے موت سنائی گئی ۔لیکن اس کے اوپر عمل درآمد نہیں ہو ا۔سر بجیت سنگھ ۲۰۱۳ میں کوٹ لکھت جیل میں قیدیوں کے ایک حملے میں زخمی ہوئے اور جانبر نہ ہو سکے ۔سر بجیت سنگھ کی لاش کو انڈیا کے حوالہ کیا گیا اور انڈیا کی حکومت نے سر کا ری اعزاز کے ساتھ دفن کر کے ایک بار پھر یہ بتا یا کہ پاکستا ن ان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور پا کستان کی تر قی کبھی قبول نہیں ۔

رویندرا کوشک :رویندرا کوشک ۲۵ سال تک پاکستان میں رہے ۔جب انہیں بھارتی اداروں نے بھرتی کیا تو وہ ایک آرٹسٹ تھے ۔اردوزبان اور مذہب اسلا م کے با رے میں بارے میں خصوصی تعلیم دینے کے بعد انہیں نبی احمد شاکر بنا کر پاکستان بھیجا گیا ۔رویندرا کوشک کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں بھی کامیا ب ہو گئے ۔رویندرا کوشک پاکستان میں مسلمانو ں کے درمیان تفرقہ بازی پھیلانے کے عمل میں سر گرم تھے ۔رویندرا کوشک کو گرفتا ر کر نے کے بعد ان کو کئی پاکستانی جیلوں میں رکھا گیا ۔۲۰۰۱ میں ان کی موت جیل میں ہوئی ۔

رام راج : ۲۰۰۴ میں لاہور سے گرفتار ہونے والے رام راج شاید وہ پہلے بھا رتی جاسوس تھے جو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار ہو گئے ۔انہیں چھ سال کی قید کی سزا ہوئی اور سزا کاٹ کر جب واپس انڈیا پہنچے تو بھارتی اداروں نے انہیں پہچانے سے ہی انکار کرادیا ۔لیکن رام راج نے کئی دفعہ انڈین میڈیا کو بتایا کہ وہ پاکستان میں جاسوس بن کر گئے تھے انڈین خفیہ ایجنسی را کی جا نب سے ۔

سرجیت سنگھ :۳۰ سال پاکستانی جیلوں میں گزانے کے بعد ۲۰۱۲لاہور کی کوٹ لکھت جیل سے رہائی ملی اور ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو اکہ انڈیا کے خفیہ اداروں نے انہیں پہچانے سے انکا ر کردیا ۔جس پر وہ چیلاتے رہے اور پریس کا نفرنس کر تے رہے کہ میں پاکستان جب جا سوسی کیلے گیا ہواتھا تو انڈین حکومت میرے گھر والوں کو مہینہ وار فنڈنگ کر رہی تھی ۔اس نے بھارت کے مکروہ چہرے کو عیا ں کیا کہ خفیہ اداروں کی سر پرستی میں، میں پاکستان گیا اور وہا ں جا کر انڈیا کیلے کا م کرتا رہا اور لوگوں کو پاکستان کیخلاف اکساتا رہا ۔

گر بخش رام :پاکستان میں شوکت علی کے نا م سے کا م کر رہے تھے ۔۱۹۹۰ میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا جا رہے تھے لیکن پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گئے ۔۱۸ برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد ۲۰۰۶میں ان کو رہائی ملی ۔

مزکورہ زکر ان بھارتی جاسوسوں کا ہے جو حاضر سروس آفیسرز تھے ان کے علا وہ کئی اور بھارتی جا سوس پکڑے جا چکے ہیں ۔ان تما م ثبو توں کے بعد بھی بھارت اگر خود کو جمہوری ملک قرار دیتا ہے تو ایسا ہی ہے کہ چور ی کرے اور بھر ے مجموعے میں چوری کیخلاف تقاریر کرے ۔بھارت چاہیے جو بھی مرضی کرے لیکن یہ یا د ضرور رکھے پاکستان مٹنے کیلے نہیں بنا ۔بھارت تو چھوڑدو دنیا کی کوئی طاقت بھی پاکستان کا بال بھی بیکا نہی کر سکتی اور ان قریب وہ وقت دور نہیں بھارت کے اندر کئی دیش وجود میں آینگے اور دنیا ضرور وہ دن دیکھے گی۔

بقول اقبال نہ سمجھو گے تو مٹ جا ووگے اے ہندوستاں والو

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

عبدالحسین آزاد

email:abdulazad286@gmail.com

 

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful