بہاولپور ’مذہب مخالف‘ خیالات کی بنیاد پر شاگرد کے ہاتھوں استاد قتل

بہاولپور کے ایس ای کالج کے طالب علم خطیب حسین کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ڈی پی او دفتر کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی ایف آئی آر کاٹنے کے لیے انہیں درخواست موصول ہو گئی ہے اور آج ہی اس قتل کا مقدمہ خالد حمید کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا جائے گا۔

دوسری جانب بہاولپور میں ریجنل پولیس آفیسر کے ترجمان ریحان گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘طالب علم خطیب حسین نے آج صبح چھریوں کے وار کر کے اپنے پروفیسر کو قتل کیا ہے جس کے بعد انہیں موقع سے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ کالج میں رواں ہفتے منعقد ہونے والی ایک الوداعی پارٹی کی مخالفت کر رہے تھے’۔

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق پولیس نے بتایا کے خالد حمید ایس ای کالج کے شعبہ انگریزی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے اور جس وقت ان پر حملہ ہوا وہ کالج میں ہی موجود تھے۔ واقعے کے بعد وہاں موجود لوگوں نے طالب علم کو پکڑ لیا اور ان کے بیان کی ویڈیو بھی بنائی۔

بہاولپور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر امیر تیمور نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دی ہے، جو ‘قتل کے محرکات کی تحقیق کرے گی اور دیکھے گی کہ آیا اس قتل میں مزید افراد ملوث ہیں یا نہیں’۔

اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک خط بھی گردش کر رہا ہے جس میں کسی طالب علم کا نام لکھے بغیر ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی گئی ہے کہ کالج میں سالانہ فن فیئر کی ریہرسل جاری ہے، جسے رکوایا جائے’۔ اس فن فیئر کو ‘غیر اسلامی’ کہا گیا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ایسا کوئی خط ڈی سی دفتر میں موصول نہیں ہوا اور معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب خالد حمید کے رشتہ دار اور قریبی دوست زاہد علی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے جو ‘معاشرے میں پھیلتی عدم برداشت’ کی وجہ سے ‘اس شخص کے ساتھ پیش آیا جو کبھی کسی سے بلند آواز میں بات نہیں کرتے تھے، وہ نہایت تحمل مزاج، رحمدل اور کالج کے طلبا و طالبات میں نہایت مقبول استاد تھے’۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اپریل 2017 میں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو جامعہ کے طلبہ نے ان پر توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد چارسدہ میں اسلامیہ پبلک کالج کے ایک طالب علم نے اپنے پرنسپل پر مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگا کر انہیں قتل کر دیا تھا۔

جبکہ میں پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں 2016 میں پندرہ سالہ لڑکے نے اس وقت اپنا ہاتھ کاٹ دیا جب انہیں لگا کہ انھوں نے توہین رسالت کی ہے۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.