تازہ ترین

تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکنے والے پوسٹر بوائے شہید وانی کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے، مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ

سرینگر ( مانیٹرنگ ڈیسک ) تحریک آزادی کشمیر کو نئی زندگی بخشنے والے ہیرو برہان مظفر وانی شہید کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے۔ برہان وانی کی برسی کے موقع پر ان کے آبائی علاقے ترال سمیت مقبوضہ کشمیر کے جنوبی علاقوں میں دہشتگرد بھارتی فورسز کی جانب سے کرفیو نافذ کیا گیا ہے جبکہ کشمیر کے باقی علاقوں میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ بھارتی حکومت نے نہتے کشمیریوں کے سینے چھلنی کرنے کیلئے 20 ہزار مزید پیشہ ور قاتل فوجی بھی تعینات کردیے ہیں جبکہ کشمیریوں نے بھی اپنے حق آزادی کیلئے بھرپور ریلیوں کا اعلان کر رکھا ہے۔
تفصیلات کے مطابق برہان مظفر وانی شہید 14 ستمبر 1996 کو ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں ہائر سیکنڈری سکول کے پرنسپل مظفر احمد وانی کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے 15 سال کی عمر میں ہی بھارتی قبضے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور دہشتگرد فورسز کے خلاف مسلح جد و جہد کا آغاز کردیا۔ انہوں نے بھارتی فورسز کو نہ صرف اپنی گوریلا کارروائیوں کے ذریعے ناکوں چنے چبانے پر مجبور کیا بلکہ انہوں نے آزادی کا نعرہ بلند کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا بھی لیا اور پوری دنیا کو کشمیر میں جاری انسانیت سوز مظالم کی داستان سنائی۔شہید برہان وانی کو چھوٹی سی عمر میں ہی کشمیر میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی اور انہیں تحریک آزادی کا ’ پوسٹر بوائے‘ کہا جانے لگا۔ گزشتہ سال داد سرا کے علاقے میں درندہ صفت فورسز نے اس خوبصورت نوجوان کو شہادت کے مرتبے پر فائز کرکے ہمیشہ کیلئے امر کردیا۔
برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد جب ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی تو لاکھوں کشمیری اس میں شرکت کیلئے جوق در جوق ان کے آبائی علاقے ترال پہنچے۔ اس دوران دہشتگرد فورسز کے اندر کے سانپ نے پھن پھیلایا اور 38 معصوم زندگیوں کو ڈس لیا۔ برہان وانی اور ان کے جنازے میں شریک لوگوں کی شہادتوں کے بعد تحریک آزادی کو ایک نئی زندگی ملی اور لوگ دیوانہ وار آزادی کیلئے نکل آئے۔
بھارتی فورسز نے ریاستی دہشتگردی کا بد ترین مظاہرہ کرتے ہوئے نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال شروع کردیا۔ بی بی سی کے اعداد و شمار کے مطابق برہان وانی کی شہادت کے بعد ریاستی مظالم کے نتیجے میں 133 افراد شہید جبکہ 20 ہزار سے زائد کشمیری زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمیوں میں سے ایک ہزار 247 ایسے افراد بھی ہیں جن کی پیلٹ گنز کے ذریعے آنکھوں کی بینائی چھین لی گئی۔ تحریک آزادی کے اس نئے فیز کے دوران 5 ہزار لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن میں سے 300 لوگوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات بنا کر جیلوں میں بند کردیا گیا ہے۔
آج (ہفتہ کو) شہید برہان مظفر وانی کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے۔ ان کی برسی سے دو روز پہلے ہی بھارت نے پہلے سے موجود 8 لاکھ درندہ صفت دہشتگرد فوجیوں کی مدد کیلئے مزید 20 ہزار پیشہ ور قاتل فوجی میدان میں اتار دیے جبکہ پوری مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سروس ، ٹرین سروس سمیت ذرائع آمد ورفت کے تمام وسائل پر قدغن لگا دی گئی ۔ برہان وانی شہید کے آبائی علاقے ترال سمیت کشمیر کے جنوبی علاقوں میں مکمل کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جبکہ باقی وادی میں دفعہ 144 نافذ کرکے لوگوں کی زندگیاں عذاب بنا دی گئی ہیں۔جمعہ کے روز دہشتگرد فورسز نے سری نگر کی جامعہ مسجد میں نماز جمعہ ادا نہ کرنے دی ، یہ تیسرا جمعہ تھا جو کشمیریوں کو ادا نہیں کرنے دیا گیا۔ ترال میں واقع خانقاہ فیض میں بھی نماز جمعہ پر قدغن لگائی گئی۔
دوسری جانب کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا ہے ۔ کشمیریوں نے جمعہ کو مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کی جبکہ آج برہان وانی کی برسی کے موقع پر بھی وادی میں مکمل ہڑتال ہے ۔ کشمیریوں نے آزادی مانگنے اور شہید وانی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے تمام تر پابندیوں کے باوجود بھرپور ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ بھارت جتنے مرضی مظالم کرلے ، کشمیریوں کو اپنا حق لینے سے نہیں روک سکتا۔

About VOM URDU

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful