تصویر کا دوسرا رخ : مشال خان کی 807 ٹویٹس میں کیا لکھا تھا ؟ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) مشال خان نے اگست 2012 سے اپریل 2017 تک اپنے ٹویٹر پر کُل 807 ٹویٹس کیے تھے اور اگلی ٹویٹ سے پہلے ہی طالب علموں کے ہجوم نے ٹویٹ کرنے والی انگلیاں توڑ ڈالیں۔ ان ٹویٹس میں آپ کو فیض صاحب، پشتون شعراء غنی خان، صاحب شاہ صابر اور ایوب صابر کی شاعری ملے گی۔

نامور صحافی عبدالحئی کاکڑ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک طرف باراک اوبامہ کے اس لئے پرستار ہیں کہ وہ امریکا کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے تو دوسری طرف فیدل کاسترو کی نظریات اور جدوجہد سے متاثر ہیں۔ ایسے ٹویٹس بھی ہیں جن میں وہ عورتوں، ٹرانس جنڈرز، پسے ہوئے طبقات اور جانوروں کے حقوق بات کرتے ہیں۔ ٹویٹر پر اپنے دوستوں کو اس سے بھی آگاہ کرتے ہیں کہ وہ اس وقت کے ایل سہگل اور پرانے انڈین گیتوں سے لطف اندوز ہورہےہیں۔ زیادہ تر ٹویٹس میں وہ سماجی انصاف کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے فیس بک اکاونٹ بنایا لیکن جلد ہی دلبرداشتہ ہوگئے اور ٹویٹ کی ۔۔ ”سوچا تھا کچھ سیکھ لوں گا لیکن یہاں تو مجنون اکٹھے ہوئے ہیں جو بس ایک دوسرے کا رونا رو رہے ہیں“ ۔۔ ایک ایسی تصویر بھی ملتی ہے جس میں ایک بچہ کتے سے پیار کرتا ہے۔ مشال خان نے کیپشن دیا ہے، ”جانور انسان دوست اور انسان، انسان دشمن۔ سوچتا ہوں جنت انسان کے لئے کس کھاتے میں بنایا گیا ہے“ مشال خان کے والد اقبال لالا کہتے ہیں کہ وہ مطالعے کے انتہائی شوقین تھے۔ ٹویٹر پر اس کی ایک جھلک موجود ہے۔ وہ کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں اس کے بارے میں بھی دوستوں کو آگاہ کرتے ہیں۔

ان میں رچرڈ ڈاکنز کی مشہور کتاب The God delusion، تھامس ہارڈی کی Tess of the d’Urbervilles اور چمپا کلی شامل ہیں۔ ٹویٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جوانی کی دھلیز پر کھڑا یہ نوجوان اپنی ذات، کائنات، انسان، انسانیت اور اس کے گرد بُنے ہوئے سیاسی اور عقیدوی سوالات کو سوچنے اور کھوجنے کی تگ دو میں ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ” میں بشر دوست ہوں“ ۔۔ ایک اور ٹویٹ ہے ” انسانیت ہماری شہریت ہے“ ۔۔ اپنے ہمسائے سے محبت کرو کے عنوان سے ٹویٹ ہے۔ ”اپنے مسلمان، عیسائی، یہودی، ملحد، نسل پرست، کالے، گورے، بے گھر، ہم جنس پرست پڑوسی سے پیار کریں“ مشال خان سوچتے تھے، سوال اٹھاتے تھے، مزاحمت کرتے تھے۔ شاید اکثریت کی روایتی سوچ سے ہٹ کر سوچنا، سوال اٹھانا اور مزاحمت کرنا ہی بلاسفیمی تھی جس کے مشال خان مرتکب ہوئےتھے۔ الگ سوچنے اور مزاحمت کرنے کی قیمت کیا ہوتی ہے اس کا ادراک مزاحمت کرنے والے شخص کو بخوبی ہوتا ہے۔ مشال خان کو بھی اس تاریخی جبر کا ادراک تھا۔ شاید اسی لئے انہوں نے فیض صاحب کا یہ شعر ٹویٹ کیا تھا،جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ جان سلامت رہتی ہے۔۔ یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں۔۔ مشال خان نے یہ پشتو شعر ٹویٹ کیا تھا،ما پہ دار کړ‎ی چی منصور خلکو تو یاد شی۔۔ مودی وشوی څوک پہ دار نہ دی ختلی ۔۔ ( مجھے مصلوب کردو تاکہ منصور کی یاد تازہ ہوجائے، طویل عرصے سے کوئی تختہ دار پر چڑھا نہیں ہے) ۔۔ صوابی کے اس منصور کی قبر اب مزار میں بدل چکی ہے۔ وہ بول رہے تھے، انہیں خاموش کیا گیا لیکن ابدی خاموشی سے تقریباً ایک سال پہلے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا تھا، ” آوازیں خاموش ہوجاتی ہیں لیکن خاموشی ہمیشہ تازہ دم رہتی ہے“ اپنی ہلاکت سے تقریبا 14 ماہ قبل فیض صاحب کا یہ شعر ٹویٹ کیا تھا۔۔ ”ہم جو نیم تارک راہوں میں مارے گئے“

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful