Yawar

تنازعہ کشمیراور پاک بھارت تعلقات

عالمی تنازعات میں سرفرست تنازعہ مسلہ کشمیر آج ۷۰سال گزرنے کے باوجود پہلے سے بھی زیادہ بڑا مسلہ بنتا جارہا ہے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں اس مسلے کو حل کرنے میں بے بس نظرآ تی ہیں۔ جس سے گمان غالب ہو تا ہے کہ وہ اس مسلے کو یا تو حل نئی کر سکتے یا پھر حل کرنا ہی نہیں چاہتے۔ 1948 میں جب مسلہ کشمیر پر پاک بھارت جنگ لڑھی گئی اور آدھا کشمیر فتح کر لیا گیاتو بھارت اس مسلے کو اقوام متحدہ لے گیا اور جنگ بندی کی درخواست کی ۔جس پر اقوام متحدہ نے فورن جنگ بندی کا اعلان کیااورجلد استصواف رائے کرانے کا وعدہ کیا ۔مگر آج تک استصو اف راے نہ ہو سکی۔ جس کی وجہ سے پاک بھارت مابین کئی جنگیں لڑھی گئی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور آج تک اس مسلے کے پر امن حل پر کوئی سنجیدگی نظر نہیںآ رہی۔ ساؤط ایشیاء کے دو ایٹمی طاقطو ں کے درمیا ن اس مسلے کو زیادہ دیر لڑھکائے رکنا مستقبل میں ایٹمی جنگ کے خطرات کو ہوا دینے کے مترادب ہوگا۔ بھارتی ہٹ درمی اور LOC پر اشتعال انگیزی وبلااشتعال فائیرنگ سے درجنوں فوجیوں اور عام شہر یوں کی شہادت پر دنیا خامو ش تما شائی بنی ہوی ہے۔اور ہم عالمی طاقتوں ا ور بین الاقوامی اداروں پر آس لگائے ہو ئے بیٹھے ہیں کہ کوئی آئے اور ہمارے مسلے حل کرے۔ ہمیں اس خوش فہمی سے باہر نکلنا ہوگا ۔اور ہماری قیادت کو بین الاقوامی سیاست کے تغیرات کو بھانپنا ہوگا۔
دنیا ہمیشہ دو نظریا ت کے تحت چلی ہے۔نظریہ حقیقت پسندی اور نظریہ مثالیت پسندی ۔ نظریہ حقیقت پسندی کی تعریف یہ ہے کہ اپنے مفادات اور عزائم کو حاصل کرنے کے لیے مناسب وقت پر پوری طاقت کے سا تھ کسی بھی کمزور ملک پر چڑھائی کی جاسکتی ہے اور اپنے سے ہزار گناہ کمزور ملک بھی کیو ں نہ ہو اخلاقی اور معاشرتی قدروں کو روند کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔۸۰ کی دہائی میں روس اور اب امریکہ کا افغانستان و عراق پر قابض ہو نا نظریہ حقیقت پسندی کی ہی مثالیں ہیں۔جب کہ نظریہ مثالیت پسندی اس کے بر عکس ہے۔جس میں جنگ ایک جرم اور گناہ کی ایک شکل سمجھی جاتی ہے۔مگر ایسی جنگ جو دفع میں لڑی جائے اس کے قائل ہیں۔ چین اور ایران نظریہ مشالیت پسندی کے بڑے پیروکار نظر آتے ہیں۔
امریکہ اور بھارت حقیقت پسند ممالک ہیں ۔اور اسی نظریے کے تحت ہی امریکہ میں ٹرمپ اور بھارت میں مودی کامیا ب ہوئے ہیں۔اسی لیے بین الاقوامی تعلقات کے کئی ماہرین نے ٹرمپ اور مودی کی کامیابی کو نظریہ حقیقت پسندی کی فتح قرار دیاہے۔ اور اسی لیے جب سے امریکہ میں ٹرمپ اور بھارت میں مودی آئے ہیں دنیاکی سیاست کا رخ تشدد کی جانب بڑھاہے۔بھارت میں مودی سرکارکے بر سر اقتدار آ نے سے کشمیر کے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنادی گئی ہے ۔ سینکڑں شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کی آزادی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔مودی سرکار اس تحریک کو دبانے کے لیے کبھی بھارت میں تو کبھی پاکستان میں دھماکے کراتا ہے اور دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لیے اوچھے ہتکنڈو ں سے کام لیتاہے۔ بکلاہٹ کاشکار مودی سرکار نے بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کاجینا دو بھر کر دیا ہے۔ گائے کے گوشت کھانے پر مکمل پابندی ہے اور کسی کو کھاتے پکڑا تو زندہ جلادیا جاتا ہے ۔ اسی طرح کی صورتحال امریکہ میں بھی نظر آرہی ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری مسلم دنیا کو دہشت گرد گردانتے ہوئے سات مسلمان ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔جب کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ اسلام اور دہشت گردی کا قطعی تعلق ہے۔
دنیا بھر کی بدلتی اس سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوے وطن عزیز میں ایسی کوئی تبدیلی نظر نہیںآتی جس سے ملک کا مستقبل محفوظ نظر آئے۔ہمارے حکمر انوں کو نظریہ حقیقت پسندی کا ادراک ہو نا چاہیے۔اور مودی و ٹرمپ جیسے حقیقت پسند نظریات رکھنے والے ظالم حکمرانوں کے شر سے بچنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اسلام حقیقت پسندی جیسے نظریات کی اجازت نہیں دیتا۔لہازہ ہمیں نظریہ مثالیت پسندی کو اپنانا چاہیے کیونکہ یہ نظریہ اسلامی اقدار سے میل کھاتا ہے بہ ایں ہمہ ہمیں نظریہ مثالیت پسندی سے کام لیتے ہوے اپنے دفع کو مظبوط ومستحکم بنانا چاہیے۔اور ملک کے اندرونی و بیرونی خطرات ومعمالات سے نمٹناچاہیے۔
ملک کو اس وقت دو محازوں پرخطرات کا سامنا ہے۔ایک اندرونی اور دوسرا بیرونی محاز۔ ہمیں پہلے اندرونی معمالات و خطرات سے نمٹنا ہوگا۔ بیرونی معمالات تب ہی حل ہو سکتے ہیں جب اندرون خانہ معمالات حل ہوں۔ ملک میں سیاسی بحران ہے اور اس بحران کے ساتھ بیرونی تنازعات حل نئی ہو سکتے۔ ہمیں ملک کے اندر سیاسی تبدیلی لانی ہوگی۔ ہمارے ہاں رنگ ،نسل ،فرقہ اور صوبا ئیت کے بنیاد پر حکمران آتے ہیں۔اور فرقے و صوبائیت کے بل پر آئے ہوے حکمران قومی اور بین الاقوامی سطح کے تنازعات حل نہیں کر سکتے بلکہ نسلی اور صوبائی معمالات تک ہی محدود رہتے ہیں۔ہمیں کرفٹ اور بیرون ملک دولت کے انبار پر بیٹھے حکمرانوں سے جان چوڈھانا ہو گااور سیاسی بصیرت اور تنازعات سے پاک قیادت کو لانا ہو گا۔ہمیں اس بات کابھی علم ہے کہ ہمارے حکمران پنامہ جیسے کرفشن اسکیڈل میں کس قدر لتڑھے ہوئے ہیں۔ پنامہ کرفشن اسکینڈل میں دنیا کے کئی ممالک کے بیشتر رہنماوں کے نام آئے جس میں کئی نے استفع دیا اور کئی عوامی احتجاج پر ہٹے ۔مگر ہمارے حکمران ٹس سے مس نئی ہیں۔پنامہ زدہ حکمران اور کرفشن و اقرباپروری میں ڈوبا ہوا ملک اور اس کی قیادت کشمیر جیسے مسلے کو حل نئی کرسکتی۔لہازہ ملک کے اندر سیاسی انقلاب ناگزیر ہو چکاہے۔

(یاور عباس ہولہ، گلگت بلتستان)

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful