جج کی غیر قانونی تعیناتی کی بحث سپریم کورٹ میں دوبارہ شروع, سنئیر وکیل احسان ایڈوکیٹ عدالت میں پھٹ پڑے

اسلام آباد(ابرار حسین استوری) سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کی آئینی حثیت سے متعلق عملدرآمد کا معاملہ، قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، سپریم کورٹ نے وزارت امور کشمیر کی دائر درخواست پر اٹارنی جنرل سمیت فریقین کو نوٹسس جاری کر دیا،

سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت دیا جائے. جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے پہلے ہی عدالت میں جو تجویز جمع کرائی تھی کہ حکومت ایکٹ آف پارلمنٹ کے ذریعے عملدرامد کرائیں گی اس کا کیا بنا. جس پر اٹارنی جنرل انوار منصور نے عدالت کو بتایا کہ اسی تجویز پر عملدرآمد کے لیے وقت درکار ہے اور اسی پر ہی یہ درخواست دی ہے.

دروان سماعت گلگت بلتستان سے آئے ہوئے وکلاء روسڑم میں کھڑے ہوئے تو اٹارنی جنرل نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے انہیں بیٹھنے کا کہا تاہم احسان ایڈوکیٹ، جاوید اقبال اور کمال حسین روسٹرم پر ہی کھڑے رہے اور احسان ایڈوکیٹ نے عدالت سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ہم گلگت بلتستان سے آئے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومت نے عدالت کے 2019 کے آرڈر پر عمل کرنے کے بجائے سابق انتظامی حکم 2018 کے تحت گلگت بلتستان میں چیف جسٹس تعینات کر دیا ہے. اسی وجہ وہاں جوڈیشل نظام بھی خراب ہونے کا خطرہ ہے،

جس پر قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ اب تو وہاں جج بھی تعینات ہوا ہے، جس پر احسان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ جج کی تعیناتی کے خلاف احتجاج شروع ہو چکے ہیں،

جسٹس عظمت سعید نے گلگت بلتستان سے آئے ہوئے وکلاء کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے تو ان تمام فریقین کو نوٹس جاری کر رہے ہیں تاکہ اپ سمیت سب کو سنے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے. جس کے بعد کیس کی مزید سماعت اگلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی، سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل گلگت بلتستان محمد اقبال بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے.

یاد رہے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی لاکر بینچ نے 17 جنوری 2019 کو تاریخی فیصلے میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے آئینی حقوق دینے کا حکم دیا تها جس پر عملدرآمد کے بجائے وزارت امورکشمیر و گلگت بلتستان نے درخواست میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت کی استدعا کی تهی. سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 14 دن کا وقت دیا تها. تاہم وزارت امور کشمیر و گلگت_بلتستان فیصلے پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی تھی.

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.