جعلی شادیوں کا سکینڈل ، سیالکوٹ اوروزیر آباد میں بھی گروہ کی موجود گی کا انکشاف جانتے ہیںقبول اسلام کے سرٹیفکیٹ کس مشہور مسجد سے تیار کروائے جاتے ہیں؟

اسلام آباد(سی پی پی) چینی نوجوانوں سے پا کستانی لڑکیوں کی شادی کرانے والے گر وہ سیالکوٹ اور وزیرآباد میں بھی سامنے آگئے ہیں ، غر یب والدین کو سہانے مستقبل کا خواب دکھا کر سیالکوٹ کے 3 غر یب گھرانوں کی لڑکیاں چینی لڑکوں سے بیاہ دی گئیں، شادی کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔ ماہ جنوری میں محلہ بڈھی بازار کی زنیرہ ایک چینی لڑکے کی دلہن بنی جبکہ محلہ اراضی یعقوب کی مریم خان کی 9 مارچ کو چینی لڑکے سے شادی ہوئی، اسی طرح تیسری دلہن کا نام حمیرا بتایا گیا ہے جس کا نکاح چینی لڑکے سے پڑھایا گیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رشتے کروانے والے غریب والدین کو پیسوں کا لالچ دے کر کم عمر بیٹیوں کی شادی چینی لڑکوں سے کرواتے ہیں اور ان سے بھاری رقم وصول کرتے ہیں، وزیرآباد میں اب تک 13 لڑکیوں کی چینی باشندوں سے شادیاں ہو چکی ہیں جن میں سے 2 لڑکیاں چینی باشندوں کے تشدد سے تنگ آکر لاہور سے فرار ہو کر واپس وزیرآباد اپنے گھر پہنچ گئی ہیں، 4 لڑکیاں چین پہنچا دی گئی ہیں جبکہ 7 پاکستان کے اندر ہی مختلف ٹھکانوں پر ہیں، ان میں بھٹہ مزدور کی 2 کمسن بیٹیاں بھی شامل ہیں، کمسن لڑکیوں کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور پولیس رپورٹ غیر قانونی طور پر چینی باشندوں کے نام پر بنائی جا چکی ہیں، مختلف محکموں کے اہلکار ایک ہفتے میں کاغذات تیار کرکے پہنچا دیتے ہیں، چینی باشندوں کے قبول اسلام کے سرٹیفکیٹ بادشاہی مسجد لاہور کے تیار کردہ ہیں، چینی باشندے وزیرآباد کے مختلف علاقوں میں آزادانہ گھومتے پھرتے رہتے ہیں، ذرائع کے مطابق ایسی شادیوں کا ماسٹر مائنڈ چینی باشندہ فو اسلام آباد میں موجود ہے۔ اس کی ایجنٹ وزیرآباد میں میرج بیورو چلا رہی ہے، بچیوں کے والدین کو لاکھوں روپے دے کر جال میں پھنسایا جاتا ہے، وزیرآباد کے میرج بیورو نے گزشتہ 7ماہ کے دوران 10 کمسن لڑکیوں کی چینی باشندوں کے ساتھ شادیاں کروائیں جن میں اس خاتون کی اپنی 2 بیٹیاں بھی شامل ہیں تاہم انھیں چین نہیں جانے دیا گیا، ادھر چینی باشندوں سے شادیوں کے خلاف ایکشن بھی تیز ہو گیا ہے، اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران چینی باشندوں سمیت اب تک 79 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دوسری طرف معاملے کی چھان بین کیلیے بیجنگ سے ٹیم بھی پاکستان پہنچ گئی ہے جس نے یہاں حکام سے ملاقاتیں کیں اور ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا ہے۔یاد رہے کہ لاہور میں اب تک 21 چینی باشندے اور2 پاکستانی ملازم گرفتار ہو چکے ہیں، ایک لڑکی چین سے واپس لاہور پہنچ گئی، فیصل آباد سے33 چینی باشندوں سمیت 34 ملزمان گرفتار ہوئے ہیں جو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، گرفتار ہونے والوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ پیسے دے کر شادیاں کراتے تھے، اسلام آباد سے20 افراد گرفتار ہوئے جن میں14 افراد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں جبکہ 6 ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں، منڈی بہائو الدین میں بھی حساس ادارے اور پولیس نے کارروائی کی جس کے دوران شادیاں کرانے والی لاہور کی خاتون چینی باشندہ اور ایک سہولت کار کو گرفتار کرکے ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا، گوجرانوالہ کی 2 خواتین واپس گھر پہنچ گئیں۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.