سعودی حکومت کی جانب سے جمال خاشقجی کے قتل کا اعتراف

جمال خاشقجی کا آخری کالم: ’عرب سپرنگ سے امید کی کرنیں جلد ہی دم توڑ گئیں، بلکہ اندھیرا اور گہرا ہو گیا‘

خاشقجیتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کا آخری کالم شائع کر دیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ عرب دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ آزادیِ اظہار ہے۔

اخبار کی ایڈیٹر کیرن عطیہ نے لکھا ہے کہ یہ کالم انھیں خاشقجی کے مترجم کی جانب سے تین اکتوبر کو موصول ہوا تھا لیکن انھوں نے اسے ابھی تک اس لیے شائع نہیں کیا تھا کہ وہ شاید خاشقجی واپس آ جائیں لیکن اب انھیں احساس ہو گیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔

ادھر امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ اسے وہ ریکارڈنگ فراہم کرے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں ٹھوس ثبوت ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم نے ترکی سے وہ ریکارڈنگ مانگی ہے، اگر اس کا وجود ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی وہ سعودی عرب کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

استنبول، سعودی قونصل خانہتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

جمال خاشقجی نے آخری کالم میں کیا لکھا؟

  • عرب ملکوں میں آزادیِ اظہار نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان ملکوں کے باسی یا تو لاعلم رہتے ہیں یا انھیں سرکاری میڈیا کی جانب سے غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں
  • عرب سپرنگ سے امید کی کرن پھوٹی تھی کہ شاید عرب معاشرے کو آزادی ملے، لیکن یہ کرنیں جلد ہی دم توڑ گئیں بلکہ اندھیرا اور گہرا ہو گیا
  • میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن سے بین الاقوامی برادری کی جانب سے کوئی ردِعمل بھی دیکھنے میں نہیں آتا، جس کی وجہ سے عرب ملکوں نے میڈیا کو لگام ڈالنے کے عمل کو تیز تر کر دیا ہے، کیوں کہ ان ریاستوں کا وجود ہی معلومات کنٹرول کرنے پر منحصر ہے
  • قطر اور تیونس اس صحرا میں نخلستان کی طرح ہیں جہاں بین الاقوامی کوریج دی جاتی ہے مگر یہاں بھی عرب دنیا کے متنازع معاملات پر مکالمہ نہیں ہوتا
  • عرب دنیا بھی اسی طرح کے آہنی پردے کے پیچھے قید ہے جو سرد جنگ کے زمانے میں کمیونسٹ یورپ پر طاری تھا
  • عرب دنیا کو ریڈیو فری یورپ کی طرز کے کسی ادارے کی ضرورت ہے
  • بین الاقوامی میڈیا کسی حد تک کوریج کرتا ہے لیکن عربوں کو خود ان کی زبان میں آزاد میڈیا کی ضرورت ہے
  • ہمیں ان عرب آوازوں کو پلیٹ فارم مہیا کرنے کی ضرورت ہے جو پروپیگنڈا کے ذریعے نفرت پھیلانے والی قوم پرست حکومتوں کے تسلط سے آزاد ہوں

خیال رہے کہ خاشقجی کو آخری مرتبہ استنبول میں سعودی قونصل خانے میں دو ہفتے قبل دیکھا گیا تھا۔ ترک حکام کا دعویٰ ہے کہ جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا ہے، جبکہ سعودی حکام تاحال اس الزام کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

ترک سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں مزید شواہد ملے ہیں کہ صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا ہے۔

استنبول، سعودی قونصل خانہتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

ریکارڈنگز میں کیا ہے؟

ترک میڈیا نے خبر دی ہے کہ ایسی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ خاشقجی کو انتہائی سفاکانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔

ایک ترک اخبار کے مطابق ریکارڈنگ میں سعودی قونصل جنرل محمد العتیبی کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے۔ اخبار ینی سفک نے لکھا ہے کہ ریکارڈنگ میں العتیبی کہہ رہے ہیں کہ ‘یہ کام باہر جا کر کرو۔ تم مجھے بھی مشکل میں ڈال دو گے۔’

العتیبی منگل کو استنبول سے ریاض واپس چلے گئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپتصویر کے کاپی رائٹEPA

ٹرمپ کی پوزیشن کیا ہے؟

سعودی عرب واشنگٹن کا ایک اہم اور قریبی اتحادی رہا ہے تاہم جمال خاشقجی کی گمشدگی نے ٹرمپ انتظامیہ کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے ترکی سے ریکارڈنگ مانگنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’میں اس حوالے سے پر اعتماد نہیں ہوں کہ آیا ریکارڈنگ موجود ہے، شاید ہے، شاید نہیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں اس حوالے سے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی رپورٹ کی توقع ہے جو اس وقت سعودی عرب اور ترکی میں موجود ہیں۔

امریکی صدر نے مزید کہا ’اس ہفتے کے اختتام تک سچ سامنے آ جائے گا۔‘

انھوں نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ وہ سعودی عرب کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ’نہیں، قطعی نہیں، میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہو کیا رہا ہے۔‘

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر ترک صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی۔

دوسری جانب سعودی عرب ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کو قتل نہیں کیا گیا اور وہ عمارت سے نکل گئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بارے میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوشوغلو نے کہا ہے کہ ’یہ ملاقات فائدہ مند اور باثمر رہی ہے۔‘

منگل کو امریکی وزیر خارجہ نے ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی سربراہان جمال خاشقجی کی گمشدگی میں ملوث ہونے کی ’شدید مذمت‘ کرتے ہیں۔

جمال خاشقجیتصویر کے کاپی رائٹEPA

اسی معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا۔

جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے تو وہ اسے ‘سخت سزا’ دیں گے۔

تاہم دو دن پہلے انھوں نے اپنے سخت موقف میں ‘نرمی’ لاتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔

تحقیقات کیسے جاری ہیں؟

استنبول، سعودی قونصل خانہتصویر کے کاپی رائٹEPA

تحقیات کے دوران ترکی میں سعودی قونصل خانے کی 200 میٹر دور واقع رہائش گاہ کی بھی تلاشی لی۔

خاشقجی کی گمشدگی کے روز کئی سعودی سفارتی گاڑیاں قونصل خانے کی عمارت سے نکل کر رہائش گاہ کی طرف گئیں۔

روئٹرز نے ایک ترک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ انھیں قتل سے متعلق ‘ٹھوس شواہد ‘ ملے ہیں تاہم کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس صوتی ثبوت موجود ہیں جن سے خاشقجی کے قتل کے اشارے ملتے ہیں۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful