Abdul Hussain Azad journalist

جمال خاشقجی کا قتل ،سعودی عرب میں صحافی غیر محفوظ عبدالحسین آزاد

جمال خشوگی کاشمار سعودی عرب کے مایا ناز صحافیوں میں ہوا کرتا تھا ۔جن کے قلم میں حق اور سچ کو واضح لکھنے کی صلاحیت تھی ۔وہ شاہ خاندان کی غلط پالیسوں کو ہدف تنقید کا نشانہ بناتے تھے ،یہی وجہ تھی کہ جمال خاشقجی شاہ سلمان کو پسند نہ تھے ۔یوں تو سعودی عرب میں چند گنے چنے صحافی ہیں جو سعودی بادشاہت پر تنقیدکرتے ہیں ،شاہ سلمان خاندان کی بدعنوانیوں اور غلط پالیسوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور ان پالسیوں پر تنقید کرتے ہیں ،سعودی عرب میں شاہی خاندان کی پالسیوں پر تنقید کامقصد اپنی جان کو خطر ے میں ڈالنا ہے،نہ صرف جان کو خطر ے میں ڈالنا ہے بلکہ جیل کی سلاخوں یا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے مترادف ہے ۔ایسے میں حق اور سچ لکھنے کی ہمت جمال خشوگی جیسے عظیم اور فرض شناس صحافی ہی کرسکتے ہیں ۔جمال خشوگی کا قتل یہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلے صحافی کا قتل نہیں بلکہ اس سے پہلے کئی صحافیوں کو جیل کی سلاخوں میں پابند سلاسل کیا گیا اور کئی ایک تو لاپتہ ہوگئے اور کئی صحافی اپنی جان کی حفاظت کیلئے دیگر ممالک میں قیام پزیر ہوئے ۔جمال خشوگی بھی انہی صحافیوں میں سے ایک تھے ،جو خود ساختہ جلاوطنی کی سزا کاٹ رہے تھے ۔2017میں جمال خشوگی نے محسوس کیا کہ اب سعودی عرب کی سرزمین اس کیلئے تنگ کر دی گئی ہے ۔تب جمال خشوگی مجبورا سعودی عرب کو الوداع کہ کر امریکہ منتقیل ہوئے اور امریکہ میں مشہور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لئے کالمز لکھنے لگے ۔یہی وجہ تھی جب جمال کی قتل کی مشتبہ خبریں چل رہی تھی تو واشنگٹن پوسٹ میں جمال خشوگی کی تصویر کے ساتھ عین اسی جگہ جہاں جمال خشوگی کا کالم چھپتا تھا ،خالی جگہ چھاپی اور دنیا کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی کہ آج اگر جمال زندہ ہوتا تو اس کا کالم یہاں شائع ہوتا اور ساتھ ہی یہ بھی پیغام دیا گیا کہ کیوں صحافیوں پر زندگی اجیرن بنائی جاتی ہے ۔جمال خشوگی اس سے پہلے سعودی عرب میں کئی اخبارات کے مدیر رہ چکے تھے اور مختلف اخبارات کیلئے لکھا بھی کرتے تھے ۔جمال خشوگی نے2003میں سعودی عرب کی مشہور اخبار الوطن کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالیں ،مگر صرف دو ماہ کے بعد آپ کو اخبار سے نکال دیا گیا ،جرم بس اتنا تھا کہ آپ نے ایک کہانی شائع کیا تھا جس میں سعودی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنا یا تھا ۔برطرفی کے بعد وہ لندن اور امریکہ گئے ۔2007میں ایک بار پھر الوطن کی ادارت کی سنبھالیں اور تین سال تک مدیر بنے رہے ۔2010میں آپ کو ایک بار پھر ملازمت سے نکال دیا گیا ،کیونکہ آپ حکومت پر تنقید کررہے تھے ۔2012ء میں آپ کو سعودی عرب کی پشت پناہی میں چلنے والے العرب نیوزکی صدارت کیلئے چنا گیا۔2015میں جب اس نیوز چینل کی نشریات بحرین میں شروع ہوئی اور 24گھنٹے کے اندر اس نیو زچینل کو بند کیاگیا کیونکہ اس نیوز چینل نے پہلے دن ہی حز ب اختلا ف کے کسی سیاسی لیڈر کا انٹر ویو کیا تھا ۔جمال خاشقجی سعودی عرب کے حالات اور حکمرانوں کی پالیسی کے مطلق اپنی خدمات مختلف بین الاقوامی میڈیا چینلز کو فراہم کرتے رہتے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ سعودی شاہی حکمرانوں کو جمال بلکل پسند نہ تھے ۔جمال خاشقجی 2017کے بعد مکمل طور پر سعودی عرب کو خیر باد کہ چکے تھے اور امریکہ میں قیام پذیر تھے ۔وہ سعودی عرب کے مستقبیل کے بارے میں پریشان تھے اور ساتھ ہی وہ باد شاہی نظام سے سخت تنگ تھے ۔کیونکہ شاہی حکومت جس کو بھی اپنی حکومت اور اقتدار کیلئے خطرہ محسوس کرتی تھی اس کو کسی بھی طرح اپنے راستے سے ہٹا لیتی تھی ۔جمال خاشقجی نئے سعودی ولی عہد کی پالیسوں کو سعودی عربیہ کیلئے خطرہ قراردیتے تھے ۔جمال خاشقجی یمن میں سعودی جارحیت کے سخت مخالف تھے اور بحرین میں سعودی مظالم کو خود سعودی عرب کیلئے خطرناک قراردے رہے تھے ۔تو ساتھ ہی شام میں سعودی عرب کی امریکہ کے ساتھ مل دہشتگردوں کی پشت پناہی کے بھی سخت مخالف تھے ۔ان کا خیال تھاکہ ،ایسی پالیسوں سے سعودی عرب دنیا میں تنہا ہو کر رہ جائے گا اور دنیا میں سعودی عرب دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک میں شامل ہے ۔وہ سعودی عرب کی بیرونی جنگوں میں فریق بننے کے سخت مخالف تھے ۔وہ شاہ خاندان پر زور دیتے تھے کہ وہ بیرونی جنگوں کی بجائے عوام کی ترقی اور فلاح بہبود پر زیادہ توجہ دیں ۔یہی تنقید جان لیو اثابت ہوئی ۔جمال خاشقجی کے وجود سے شاہی خاندان سخت متنفر تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ جمال کو ترکی میں بھی سکون سے رہنے نہیں دیتے تھے اور آخر کار اس کانٹے کو اپنی راہ سے ہٹا ہی لیا ۔
جمال کے قتل کی خبر جنگل میں لگی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی اور ساتھ ہی جلد بدیر سعودی شاہی حکمرانوں نے اس کو تسلیم بھی کرلیا ۔جب عالمی طاقتوں کا پریشر بڑھا تو ترکی میں سعودی سفارت سمیت 11افسران کو گرفتا ر بھی کیا اور الزام عائد کیا کہ جما ل کے قتل میں ملوث ہیں ۔سعودی عرب عالمی برادری کو اپنے ان اقدامات کے ذریعے یہ بتانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ جمال کے قتل میں سعودی شاہی حکمرانوں کا ہاتھ نہیں ۔بلکہ یہ ایک حادثہ ہے ۔جب جمال خاشقجی سعودی سفارت خانے میں داخل ہوئے اور وہاں موجود عملہ کے ساتھ ان کی کسی بات پر لڑائی ہوئی اور یوں ایک حادثاتی طور پر قتل ہوئے ۔مگر اب کی بار سعود ی شاہی حکمرانوں کی یہ حیلہ بازیاں نہیں چلیں گی ۔سعودی شاہی خاندان نے دنیا کو بہت دھوکہ دیا ۔کبھی بے گناہ لوگوں کا سر قلم کرکے تو کبھی بغاوت کے نام پر بادشاہت مخالف قوتوں کو پابند سلاسل کرکے تو کبھی علمائے کرام کا قتل عام کرکے ۔مگر اب کی بار سعودی شاہی حکمرانوں کا گناونا چہرہ کھل دنیاکے سامنے آشکار ہوا ۔جمال کا ناحق قتل رنگ لایئے گا اور سعودی ظالم حکمرانوں کو ان کے کئے کی سزا ملنی چاہیے ۔اس حوالے سے اقوام متحدہ ،ترکی سمیت امریکہ اور دیگر ممالک کا حقائق کو سامنے لانے کا مطالبہ اور سعودی عرب پر پابندیوں کا اشارہ نیک شگون ہے ۔مگر حد درجہ افسوس کی بات یہ ہے بہت سے اسلامی ممالک اس حوالے سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کسی کے اندر سعودی اس اقدام کی مذمت کرنے کی بھی ہمت نہیں ۔ملک عزیز کے حکمران بھی خاموش ہیں ۔کیونکہ ایک تو وہ سعودی ریال کے ہر وقت منتظر رہتے ہیں ۔جمال خاشقجی کے قتل نے یہ ثابت کردیا کہ سعودی شاہی خاندان کو اپنی رعایا کی کوئی پرواہ نہیں ۔بس فکر ہے تو اقتدار کی ۔سعودی عرب کے اند ر اٹھنے والی تحریکوں کو مدنظر رکھ کر اور شاہی مظالم کو سامنے رکھ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انقریب شاہی خاندان کے تخت کا مظالم سمیت خاتمہ ہوگا ۔جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب میں صحافی اور غیر محفوظ ہیں ۔لہٰذا اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو اس پر سخت نوٹس لینا چاہیے اور ان کے خلاف سخت اقداماتاٹھانا چاہیے ۔جمال خاشقجی کے قتل میں او ۔آئی ۔سی کی خاموشی بھی معنی خیز ہے ۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful