جنرل راحیل شریف آجکل اسلامی لشکر کے سپہ سالار کا عہدہ چھوڑنے پرغور کررہے ہیں

جنرل راحیل شریف آجکل سنجیدگی سے غور کررہے ہیں کہ اسلامی لشکر کے سپہ سالار کا عہدہ چھوڑ کر واپس پاکستان منتقل ہوجائیں۔
ہوا یوں کہ آج سے صرف 77 ماہ قبل دنیا کی واحد مسلمان اور ساتویں ایٹمی قوت کے سب سے طاقتور شخص جنرل راحیل شریف کو پچھلے مہینے سعودی منسٹری آف ڈیفنس کے کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ کے کلرک کی طرف سے مراسلہ ملتا ہے کہ فلاں تاریخ کو صحاب بہادر یعنی سعودی وزیردفاع کی زیرقیادت ایک اہم میٹنگ ہورہی ہے جس میں آپ کی شرکت ضروری ہے۔
جنرل صاحب یہ مراسلہ دیکھ کر بہت سیخ پا ہوئے۔ انہیں یہ گلہ تھا کہ سعودی وزیردفاع نے انہیں خود کال کرکے میٹنگ کی مشاورت کیوں نہ کی۔
خیر، میٹنگ میں پہنچے تو پتہ چلا کہ امریکی صدر کی آمد کے سلسلے میں ایک جامع سیکیورٹی پلان ترتیب دینا تھا۔ جنرل راحیل شریف سے کہا گیا کہ وہ سعودی آرمی چیف کی بنائی ہوئی ٹیم کے ممبر ہیں اور اس ٹیم کا ٹاسک ہے کہ وہ ایک فول پروف سیکیورٹی پلان وضع کرکے صاحب بہادر کو پریزینٹ کریں۔
راحیل انکل کو ایک مرتبہ پھر بہت غصہ آیا کہ یہ کیا بات ہوئی؟ وہ کیوں سعودی آرمی چیف کے نیچے بننے والی ٹیم کے ایک ممبر کی طرح کام کریں۔ لیکن ‘ نوکر کی تے نخرہ کی’ کے مصداق جنرل صاحب کو حامی بھرنا ہی پڑی۔
ایک ہفتے کی عرق ریزی کے بعد جب ایک جامع سیکیورٹی پلان بن گیا تو اگلے دن پریزنٹ کرنے صاحب بہادر کے محل پہنچ گئے۔ منصوبے میں کچھ ترامیم پروپوز کرکے اسے منظور کرلیا گیا۔ پھر صاحب بہادر اپنے ساتھ سعودی آرمی چیف کو لے کر امریکی سفارتخانے چلے گئے تاکہ یہ منصوبہ انہیں دکھا کر داد وصول کرسکیں۔
راحیل شریف کو ایک مرتبہ پھر بہت ٖغصہ آیا کہ سارا کام انہوں نے کیا لیکن امریکی سفارتخانے میں انہیں نہیں لے جایا گیا۔
اگے دن انہیں اطلاع دی گئی کہ ان کا بنایا ہوا منصوبہ امریکی سفارتخانے نے رد کردیا کیونکہ سی آئی اے اور پینٹاگون والے پہلے سے ہی ایک منصوبہ تیار کرچکے تھے۔ یہ منصوبہ سعودیوں کے زریعے راحیل شریف صاحب کو تھما دیا گیا تاکہ وہ اس پر عملدرامد کرسکیں۔
امریکی صدر کے تین دن قیام کے دوران راحیل شریف صاحب کی دوڑیں لگی رہیں۔ انہیں چیف سیکیورٹی گاارڈ کی طرح ہر چیز پر نظر رکھنا تھی، جبکہ پاکستان میں یہ کام وہ ایک میجر یا کرنل لیول کے رینک سے لے لیا کرتے تھے۔
امریکہ سے جب سعودی عرب نے 1100 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی خرید کی ڈیل سائن کرلی تو ایک جونئر سعودی افسر خوش خوش جنرل راحیل شریف کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اب میں اور آپ اس ٹریننگ کا حصہ ہوں گے جو جدید امریکی ہتھیار خریدنے کے ساتھ امریکی ماہرین ہمیں دیں گے۔
یہ سن کر راحیل شریف صاحب نے باقاعدہ اپنا سر پیٹ لیا۔
تمام سیاستدانوں، بیروکریٹس، حاضر سروس اور ریٹائرڈ جنرل صاحبان کیلئے اس واقعے میں ایک سبق پوشیدہ ہے جو شاعر کئی دہائیاں پہلے ہی کہہ گیا تھا کہ،
فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرن دریا کچھ نہیں
جناب عالیان، یہ پاکستان ہی ہے جو آپ کو یہ عزت اور مقام عطا کرتا ہے ورنہ دنیا میں آپ جہاں مرضی چلے جائیں، جتنا مرضی کما لیں، عزت اور رتبہ آپ کو اپنے ملک میں ہی مل سکتا ہے، باہر نہیں۔
اس ملک کی قدر کریں۔ اگر خدانخواستہ اسے کچھ ہوتا ہے تو آپ کی اپنی عزت میں کمی آئے گی۔ اگر یہ مضبوط ہوتا ہے تو آپ ہی کا نام اور وقار بلند ہوگا۔
ہمارا کام صرف مخلصانہ مشورہ دینا تھا، اب یہ آپ کا کام ہے کہ اس پر عمل کریں یا نظر انداز کردیں۔ سانوں کی

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful