فخر شمال جواری خاتون

گلگت بلتستان کی خواتین تمام اجتماعی امور میں حصہ لیتی ہیں اور دولت پیدا کرنے کے کاموں میں پوری طرح مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ یہ گھر کے باہر گلہ بانی اور کھیتی باڑی میں بھی مردوں کے ساتھ کام کرتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی تمام گھریلو کام بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہے۔ ایسی خواتین بیک وقت بیوی، دایہ، ماں، کارکن اور دستکارہوتی ہیں۔

اس خاتون نے نہال گلستان کی طرح آزادی نشوونما پائی ہے۔ جو کہساروں کی قمریوں کی طرح پاکیزہ محبت سے سرشار ہے۔ یہ آہوان کوہ ( مشک نافہ والی ہرن) کی طرح عشق اور محبت سے بچے پیدا کرتی ہے۔ اور بچوں کو ماں کی مامتا سے نوازتی ہے۔ مادہ کبوتر کی طرح وہ اپنے شوہر اور گھر سے مخلص اور وفادار ہے۔ اپنے گھر کو خلوص اور وفا کے پھولوں سے سجاتی ہے۔ اور یہ سب اس لیے کرتی ہے۔ کہ وہ مخلص اور وفادار ہے۔ یہ خاتون قراقرم ہندوکش اور ہمالیہ کا وقار ہے۔ اسی نے 1947، 1965 و 1971 اور کارگل کے غازیوں اور شہیدوں کو جنم دیا جس پر شمالی قوم کو فخر ہے۔ ایسی ہی ایک مدبرہ خاتون جواری خاتون بھی تھی جس نے 32 سال ریاست گلگت پر حکمرانی کی ہے۔ جس سے معلق چند معلومات قارئین کی نذر ہیں۔

آپ گلگت کے طرہ خان خاندان کے اٹھائیسویں راجہ خاقان مرزا المعروف مرزا سوئم کی صاحبزادی تھیں۔ خاقان مرزا نے 30 سال کی عمر میں سولہ سو بتیس کو اپنے چاچا علی حیدر خان کے بعد عنان حکومت سنبھالی۔ ملکہ جواری اسکردو کے راجہ علی خان اعظم کے فرزند خود احمد خان سے بیاہی گئی۔ 1635 کوخاقان مرزا بمعہ اپنے 35 اکابرین گلگت راجہ کمال خان والیٔ ریاست نگر سے ملنے کے لئے نگر چلا گیا جہاں پر اپنے اکابرین کے ساتھ قتل ہوا۔ مرزا خان کی اور کوئی اولاد نہیں تھی لہٰذا طرہ خان خاندان راجگان گلگت کا تخت شاہی خاندان سے خالی رہا پس معتبران گلگت بمعہ وزیر رشو نے اپنی وفاداری اور مصلحت وقت کے پیش نظر فیصلہ کیا کہ جواری خاتون جو احمد خان کے مرنے سے بیوہ ہوئی تھی کو گلگت لایا جائے لیکن خاندان مقپون راجگان اسکردو کی یہ خاندانی روایت تھی کہ جو بھی خاتون بیاہنے کے بعد داخل حرم ہوتی وہ بیوہ ہونے کی صورت میں بھی واپس میکے نہیں جا سکتی تھی۔

وزیر رشواور معتبران گلگت کی حقیقت پر مبنی کہانی سے راجہ اسکردو راضی ہوا اور بڑے احترام سے جواری خاتون کو گلگت روانہ کیا۔ جواری خاتون گلگت پہنچی۔ اگرچہ جواری خاتون ایک مدبر اور لائق حکمران ثابت ہوئی پھر بھی طرہ خان خاندان کا کوئی وارث جواری خاتون کے بعد نہیں تھا لہٰذا معتبران گلگت کے مشورے سے راجہ کمال خان والیٔ ریاست نگر کے پاس ایک وفد گلگت سے بطرف نگر برائے طلبی رشتہ فردوس خان پسر راجہ کمال خان روانہ ہوا۔ راجہ کمال نے اپنے بیٹا فردوس کے لئے جواری خاتون کا رشتہ قبول کیا۔ بعد ازاں رسم ورواج کے مطابق شادی کی رسومات انجام پذیر ہوئیں اور فردوس علی خان شاہی قلعہ گلگت میں وارد ہوا۔

عرصہ دو سال کے بعد جواری خاتون کے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہواجس کا نام حبی خان ( حبیب خان) رکھا گیا اس کے بعد اہلیان گلگت نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد فردوس علی خان کو شکار کے بہانے گلگت سے کنوداس بذریعہ گل بھوج پتر کی ٹہنیوں کے بنے ہوئے رسوں معلق پل لے گئے جب فردوس علی نے جونہی پل عبور کیا گلگت کی طرف سے کل کے رسے کاٹے گئے۔

جب فردوس علی خان کو سازش کا علم ہوا تو کنوداس سے پکار کر اپنا بیٹا حبی خان طلب کیا، اس کے جواب میں ایک شخص نے با آواز بلند کہا ”کیل چھالی ملو نوش“ یعنی پہاڑی بکری کے بچے کا باپ نہیں ہوتا ہے۔ یعنی وہ بکری سے منسوب ہوتا ہے۔ یہاں پر ایک بات کی وضاحت نہایت ضروری ہے۔ یہ کہ راجہ کمال خان والیٔ ریاست نگر نے جواری خاتون کے باپ خاقان خان مرزا کو بمع اس کے ساتھیوں کے قتل کرایا تھا پھر بھی اپنے باپ کے قاتل کے بیٹے کے ساتھ شادی پر راضی کیسے ہوئی؟

بات یہ ہے کہ طرہ خان خاندان راجگان گلگت عموماً خالص شاہی خاندان کے ساتھ رشتہ جوڑتے تھے۔ ان کی نگاہ میں راجگان ہنزہ راجگان یاسین وغیرہ ارگون تھے۔ اسی وجہ سے جواری خاتون نے اپنے باپ کے قاتل کے بیٹے کے ساتھ شادی کرنا بہ نسبت ارگون کے پسند کیا۔ جب تخت کا وارث حبی خان پیدا ہوا تو اپنے باپ کے قاتل کے بیٹے کو بڑی بے رحمی سے واپس کر دیا۔

گلگت کے شاہی خاندان طرہ خان نے گلگت پر تقریبا چونتیس پشتوں تک حکومت کی۔ اس ہزار سالہ دور میں بہت نامور جنگجو راجہ گزرے ہیں لیکن آج ان کا ذکر صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود ہے۔ ان کو اب کوئی نہیں پہچانتا اور نہ ہی کسی کے نام سے کوئی واقف ہے۔ البتہ رانی جواری خاتون جس نے تقریبا تیس بتیس سال حکومت کی اس مدبرہ خاتون نے مہم جوئی کے بجائے دل جوئی کے کام کیے، اپنی رعایا کو بیگار کی لعنت سے آزاد رکھا، اپنے درباریوں، مدبروں، نمبر داروں اور سپاہیوں کو ریاستی اور روایتی جبر سے روکا، رعایا خوشحالی اور امن و آشتی سے زندگی گزارنے لگی۔

اس کا 32 سالہ دور بیرونی حملہ آوروں سے بچا رہا اس لئے کہ علی شیر خان انچن والیٔ اسکردو نے گلگت سے چترال تک راجوں کو ورطۂ حیرت میں ڈالا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ راجہ شاہ کمال خان والیٔ ریاست نگر کی پشت پناہی حاصل تھی چنانچہ ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رانی جواری خاتون نے گلگت کی آبادکاری کی طرف توجہ دی۔ جواری خاتون کے دور حکومت سے پہلے گلگت کے موضع جات جوٹیال، خومر کلچنوٹ اور برمس کاکچھ حصہ اور نو پور آباد تھے باقی رقبہ غیر آباد تھا۔

صرف کل فردوسیہ تک روزمرہ استعمال کے لیے پانی کی ایک چھوٹی کوہل (نہر) نالہ سے جوٹیال نالہ قلعہ فردوسیہ نکالی گئی تھی اس کوہل کے پانی سے قلعہ کے ردگرد رقبہ آباد ہوا تھا۔

دوسری اہم بات یہ تھی کہ دفاعی اعتبار سے افرادی قوت کو گلگت میں یکجا کرنا بھی ضروری تھا چنانچہ رانی جواری خاتون نے داریلی مزدوروں کے ذریعے کار گاہ نالہ سے دو نہریں تعمیر کروا کر کارگاہ نالہ سے سونیکوٹ تک پانی پہنچایا اور گلگت کوسرسبز بنایا۔ اہل حرفت کی حوصلہ افزائی کی مالیہ جات میں اور بیگار میں اصلاحات کیں جس سے رعایا خوشحال رہی۔ ان غیر معمولی اصلاحات اور آباد کاری کی وجہ سے رانی جواری خاتون دادی جواری کے نام سے مشہور ہوئی۔ چنانچہ موجودہ وقت میں بھی گلگت بلتستان کے چھوٹے بڑے سب ہی دادی جواری کے نام سے واقف ہیں۔

اس کو بطور حاکم نہیں بلکہ دادی کے حوالے سے پہچانتے ہیں۔ اس کی رعایا نے اس کی غریب پروری اوررعایا پروری کی وجہ سے دادی تسلیم کیا۔ چنانچہ آج بھی اس کو دادی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ دادی جواری خاتون کے بارے میں مشہور ہے۔ کہ آپ پاک باز باعصمت اور عبادت گزار خاتون تھیں۔ آپ کا زیادہ وقت دیہی خواتین کے ساتھ گزرتا تھا آپ بہادر اور شمشیر زن بھی تھیں۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.