حراستیں اور جیل بھرو تحریک

حراستیں اور جیل بھرو تحریک
تحقیق و تحریر :توقیر کھرل
پاکستان کے مختلف شہروں سے 50اسیران تاحال سیکورٹی اداروں کی حراست میں ہیں وہ کس حال میں ہیں اور کس جیل یا کال کوٹھری میں قید میں اس حوالے سے سال گزرے کے باوجود ورثاء کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ۔ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے پر ملت تشیع پاکستان نے اسیران کی رہائی کی اس تحریک کو ملک بھر میں اس مووومنٹ کو قومی تحریک کی شکل دی ہے ۔ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے متاثرین کے اہلخانہ میں جو مایوسی پائی جاتی تھی اب امید بن کر ابھر رہی ہے اس سلسلے میں کراچی میں محرم الحرام کے پہلے عشرہ میں جید علماء کرام نے احتجاج کیا اور اب جمعہ میں ملک کے اہم مقامات پر جیل بھرو تحریک کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے اس تحریک میں تمام شیعہ تنظیموں کے کارکنان کی جانب سے گرفتاری پیش کی جائے گی ۔تنظیمی کارکنان سمیت گمشدہ جوانوں اور علماء کرام نے بھی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گرفتاری پیش کرنے کا اعلان کردیا ہے۔۔سندھ میں انسانی حقوق کمیشن کے نائب چیئرپرسن اسد بٹ کے مطابق’کراچی اور دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے بیشتر شیعہ نوجوانوں کو عراق سے وطن واپسی پر اٹھایا گیا۔ ان پر شامی جنگ میں شرکت کا شبہ ہے حالانکہ ان کے پاسپورٹس پر شام میں داخلے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔جن لوگوں پر شامی جنگ میں شرکت کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے ان میں بیشتر کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔ ان لوگوں کو انٹرنیٹ اور سماجی میڈیا کی ویب سائٹس پر غیرمصدقہ دعووں اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر پکڑا جا رہا ہے’اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘حراست میں لیے گئے بہت سے شیعوں کو بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ اگر ان کے خلاف ذرا سا بھی ثبوت موجود ہوتا تو ان کی قسمت کچھ اور ہوتی ۔مجلس وحدت مسلمین کے رہنما ناصر شیرازی نے بتایا کہ یہ پوری ملت تشیع پاکستان کا مسئلہ ہے جس کیلئے سب کو جیل بھرو تحریک میں شامل ہوکر جبری گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنا ہوگا۔انہوںنے اپنا مطالبہ کے بارے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں کو ملکی قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسیران کو عدالتوں میں پیش کریں، ان پر فردجرم عائد کریں، ثبوت لائیں اور قانون کو فیصلہ کرنے دیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی نوجوانو ں کی ایک بڑی تعداد نے جیل بھرو تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے ان میں ایک بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر رابطہ کی سماجی ویب سائٹ فیسبک پر جیل کے پیچھے اپنی تصویر لگا کر پروفائل تصویر لگا جبری گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا ہے ۔ٹویٹر پر بھی سماجی کارکنان کی جانب سے بھی اسیران کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے ٹویٹر پر سلمان حیدر جن کو سال کے شروع میں ریاستی اداروں نے جبری طور پر گرفتار کیا تھا نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ شیعہ نوجوانوںکو فوری طور پر رہا کیا جائے ۔

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful