حضرت سیّدنا اِمام حسین رضی اللہ عنہ حق پر تھے

 تحریر: علامہ منیر احمد یوسفی

سید الشہداءحضرت سیّدنا اِمام حسینؓ کی ولادتِ مبارک 5 شعبان المعظم 4 ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ نبی کریم نے آپ کے کان میں اذان دی‘ منہ میں لعاب دہن ڈالا اور آپ کے لئے دُعا فرمائی۔ پھر ساتویں دن آپ کا نام ”حسین“ رکھا اور عقیقہ کیا۔ حضرت سیّدنا اِمام حسینؓ کی کنیت‘ ابو عبداللہ اور لقب ”سبطِ رسول“ و ”ریحانِ رسول“ ہے۔ حدیث میں ہے‘ رسولِ کائنات نے فرمایا کہ حضرت ہارونؓ نے اپنے بیٹوں کا نام شبر و شبیر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا نام اُنہیں کے نام پر حسن اور حسین رکھا۔

حضرت علیؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ جب (سیّدنا) حسنؓ پیدا ہوئے تو آپ تشریف لائے اور فرمایا، میرا بیٹا مجھے دکھاو¿، آپ نے اِس کا کیا نام رکھا ہے؟ حضرت علیؓ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا ”حرب“ نام رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”حرب“ نہیں بلکہ اِس کا نام ”حسن“ ہے۔ پھر جب سیّدنا اِمام حسینؓ پیدا ہوئے تو آپ نے فرمایا، مجھے میرا بیٹا دکھاو¿ آپ نے اِس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا ”حرب“ نام رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں‘ اِس کا نام ”حسین“ رکھو۔ جب تیسرے شہزادے پیدا ہوئے تو آپ نے فرمایا: مجھے میرا بیٹا دکھاو¿، آپ نے اِس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا ”حرب“ نام رکھا ہے۔ نبی کریم نے فرمایا: ”حرب“ نہیں بلکہ اِس کا نام ”محسن“ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا”میں نے اِن کے نام (حضرت) ہارونؑ کے بیٹوں کے نام پر رکھے ہیں۔ اُن کے نام شبر، شبیر اور مبشر تھے۔“ (الادب المفرد، کنزالعمال، تہذیب تاریخ دمشق لا بن عساکر)

اِسی لئے حسنین کریمینؓ کو شبر و شبیر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سُریانی زبان میں شبر و شبیر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ حدیث میں ہے کہ ”حسنؓ اور حسینؓ جنتی ناموں میں سے دو نام ہیں۔“ عرب کے زمانہ جاہلیت میں یہ دونوں نام نہیں تھے۔ (صواعق محرقہ : ص 118)

حسنین کریمینؓ سے محبت:

حضور نبی کریم نے واشگاف الفاظ میں خبر غیب سے اُمّت کو حضرات حسنین کریمینؓ کی جنت کے جوانوں کی سرداری کی نوید سے نوازا۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم نے فرمایا ”بے شک (حضرت) حسن اور (حضرت) حسین دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔“ (بخاری، فتح الباری، عمدة القاری، مشکوٰة) مسند احمد) حضرت انسؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسول کریم سے عرض کیا گیا کہ اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ پیارا کون ہے؟ تو حضور نے فرمایا: حسنؓ اور حسینؓ ۔ رسولِ کریم خاتونِ جنت بی بی فاطمة الزہرہؓ سے فرماتے تھے: ”میرے پاس بچوں کو لا¶ پھر اُنہیں سونگھتے تھے اور اپنے ساتھ لپٹاتے تھے۔“ (مشکوٰة، ترمذی، درمنثور، فتح الباری)

 سیّدنا اِمام حسینؓ کی شہادت خواب کی تعبیر

سیّد الشہداءحضرت اِمام حسینؓ{ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت کی بھی شہرت عام ہو گئی۔ حضرت علیؓ{‘ سیّدہ فاطمة الزہرائؓ{ اور دیگر صحابہؓ{ و اہلبیتؓ{ کے جاں نثار سبھی لوگ آپ کے زمانہ شیر خوار گی ہی میں جان گئے تھے کہ یہ فرزندِ ارجمند ظلم و ستم کرنے والوں کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک دن میں نے دوپہر کے وقت خواب میں رسولِ کریم کو دیکھا کہ بال مبارک بکھرے ہوئے ہیں اور گرد و غبار بھی پڑا ہوا ہے اور آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے‘ میں نے عرض کی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ‘یہ کیا ہے؟ فرمایا: یہ (اِمام) حسینؓ اور اُن کے ساتھیوں کا خون ہے آج میں اِس خون کو اُٹھاتا رہا (حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں) میں وہ وقت خیال میں رکھنے لگا میں نے یہ وقت قتل کا پایا۔“ (مشکوٰة، مسند احمد، دلائل النبوة، البدیة والنہایة)

ارضِ طَف

مُّ المو¿منین سیّدہ عائشہؓ صدیقہ سے روایت ہے‘ فرماتی ہیں‘ نبی کریم نے فرمایا: ”مجھے (حضرت) جبرائیلؑ نے خبر دی کہ میرا بیٹا حسین میرے بعد ”ارضِ طف“ میں شہید کیا جائے گا۔ (حضرت) جبرائیلؑ نے مجھے اُس مقام کی یہ مٹی لا کر دی ہے اور بتایا ہے کہ یہ زمین (اِمام حسین کی) شہادت گاہ بنے گی۔“ (طبرانی، کنزالعمال) ۔ اَحادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حضور شہادت کی جگہ کربلا کے چپہ چپہ کو پہنچانتے تھے اور اُنہیں خوب معلوم تھا کہ شہداءکربلا کے اُونٹ کہاں باندھے جائیں گے، اُن کا سامان کہاں رکھا جائے گا اور اُن کے خون کہاں بہائے جائیں گے؟ نبی کریم اگر چاہتے تو دُعا فرما کر تقدیر میں تبدیلی کروا سکتے تھے مگر آپ مشیتِ ایزدی پر راضی تھے اور راضی برضا تھے۔ کیونکہ میدانِ کربلا میں یزیدی فوجوں کے مقابلے میں اِمام حسینؓ کا ڈٹ جانا سچائی‘ تقوے اور حقانیت کی دلیل ہے اور یہ فرمانِ خداوندی ہے کہ ”اور نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو“ (المائدة : 2)

شہادت حضرت سیّدنا اِمام حسین :

حضرت اِمام حسینؓ کی شہادت کا ذکر بذریعہ وحی حضرت جبرائیلؑ اور دیگر فرشتوں کے ذریعے نازل ہوا۔ اس کاوقت اور زمانہ بھی بتا دیا گیا ۔ 60ھ کے آخر اور 61ھ کے شروع میں واقعہ کربلا پیش آیا

 جب اِمام حسینؓ کو اس مقام پر شہید کیا گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اَلَی±ہِ رَاجِعُو±نَo حضرت سیّدنا اِمام حسینؓ کے ساتھ 16 اہل بیت شہید ہوئے جبکہ کل 72 افراد شہید ہوئے۔ آپ کی شہادت کے واقعہ کے بعد سات دن تک اندھیرا چھایا رہا۔ دیواروں پر دھوپ کا رنگ زرد پڑ گیا تھا اور بہت سے ستارے بھی ٹوٹے، آپ کی شہادت 10 محرم 61 ہجری کو واقع ہوئی۔ آپ کی شہادت کے دن سورج گہن میں ا ٓگیا تھا، مسلسل چھ ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے، بعد میں رَفتہ رَفتہ وہ سرخی جاتی رہی۔ البتہ اُفق کی سرخی جس کو شفق کہا جاتا ہے آج تک موجود ہے یہ سرخی شہادت حسینؓ سے پہلے موجود نہیں تھی۔

قصر ِامارتِ کوفہ:

ثعالبی، عبدالملک بن عمر اللیثی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے کوفہ کے دارالامارت میں دیکھا کہ اِمام حسینؓکا سر عبیداﷲ بن زیاد کے سامنے ایک ڈھال پر رکھا ہوا تھا۔ پھر اِسی قصرِ امارت میں کچھ دنوں کے بعد عبیداﷲ بن زیاد کا سر مختاربن عبید کے سامنے رکھا ہوا دیکھا پھر کچھ عرصہ بعد مختار بن عبید کا سر مصعب بن زبیر کے سامنے اِسی قصر میں رکھا ہوا دیکھا اور کچھ مدت کے بعد مصعب بن زبیر کا کٹا ہوا سر عبدالملک کے سامنے رکھا ہوا پایا۔ جب میں نے یہ قصہ عبدالملک کو سُنایا تو اُنہوں نے اِس دارالامارت کو نحس سمجھ کر چھوڑ دیا۔ (تاریخ الخلفائ)

حضرت اِمام حسین ص کی شہادت پر جنات بھی روئے ۔جب حضرت سیّدنا اِمام حسینؓ اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ شہید ہو چکے تو ابن زیاد نے اُن تمام شہدا کے سروں کو یزید کے پاس دارالسلطنت میں بھیج دیا۔ یزید اِن سرہائے بریدہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.