حقوقِِ زنان اور معاشرے میں عورت کا کردار

تحریر آصف حسین

معاشرے کی ترقی و خوشحالی عورت کے بغیر ممکن نہیں مگر اس میں حقیقت کے باوجود مقام افسوس ہے دنیا بھر میں عورت اآج بھی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے عورتوں کے حقوق کے حولے سے اس وقت کوئی ملک رول ماڈل نہیں ۔ حالاکہ دنیا کے سامنے اآنے والے تمام چارٹرز میں سے فضیلت اسلام کو ہی حاصل ہے مگر یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارا ملک جمہوریہ اسلام ہونے کے باوجود ہماری خواتین اآج بھی نہ ٖاپنی حقوق سے محروم ہے ، بلکہ بے تحاشہ مسائل میں گھری ہوئی ہے سب سے بڑی مسائل ہمارے ملک ؐمیں عورتوں کو اب بھی تعلیمی میدان میں بہت پیچے پھوڑا ہے۔

جب ہم عورتوں کی حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم اپنے ذہن میں ایک ہی بات جنم دیتا ہےکہ ہم اپنے عورتوں کو مغربی عورتوں کی طرح بے پردگی کرنا اس کو عورت کی حقوق سمجھتا ہے خود مغرب کی خواتین سے پوچھیں کی اس وجہ سے ان کو کتنی مسائل کا سامنا ہے اس بات کی اندازہ اس سے لگاسکتا 1980 سے پہلے عورتوں کو ووٹ لگانے کا حق بھی حاصل نہیں تھی مغربی دنیا خواتین کو صرف مردوں کے لیے ایک انٹر ٹیمنٹ سمجھتا ہے جس کی وجہ سے امریکہ کی 50 ریاست میں سے 25 ریاست میں اب تک شادی کا کوئی نظام نہیں یہی وجہ ہے کہ وہ عالمی خواتین یوم منا کر دنیا کے نظر سے عورتوں کی ظہاری ہمدردی دیکھنا چاہتا ہے اپنے ماں ، بہنوں کو حقوق دینے کا مطلب ان کو تعلیمی میدان میں ، معاشرے مٰیں ہر میدان میں مردوں کے برار حقوق دینا ہے جس کے لیے ہمیں کو ئی قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہیں اسلام نے تمام حقوق ٹفصیلا دیا ہوا ہے۔

رہبرے معظم سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں

اپنی خواتین پر مجھے فخر ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی دعوی عمل کے مرحلے کے نزدیک پہنچ جاتا ہے تب اسے اس کی حقیقی اہمیت حاصل ہوتی ہے ہم ایک طرف تو خواتین کے مسئلے میں ااور دوسری طرف علم وسائنس کے مسئلے میں جبکہ دوسرے پہلو سے انسانیت کی مسئلے میں خاص نقطہ نظر اسلام کے تناظر میں ہے ،۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے ایک اچھے انسانی معاشرے میں عورتیں اس بات کی صلاحیت رکھتی ہہیں اور انہیں ااس کا موقع بھیی ملنا چاہیے کہ اپنے طور علمی ،سماجی ، تعمیری اور انتظامی شعبوں میں اپنی کوشش اور بھر پور تعاون کریں ۔ اس زاوئے سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیئے ، ہر انسان کی تخلیق کا مقصد پوری انسانیت کی تخلیق کا مقصد ہے یعنی انسانی کمال تک رسائی ایسی خصوصیات اور صفات سے خود کو آراستہ کرنا جن سے ایک انسان اآراستہ ہو سکتا ہے ۔اس سلسلے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ ااس کی سب سے واضح علامت پہلے مرحلے میں تو حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہ اآسمان انسانیت اآفتاب کی مانند ضوفشاں ہیں کوئی بھی ان سے بلند وبر تر نہیں ہے ۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ آ پ نے ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے اپنے ااندر یہ صلاحیت پیدا کی کہ خود کو انسانیت کی اوج پر پہنچا دیں لہذا مرد عورت میں کوئی فرق نہیفں ہے شائد یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے قراآن کریم میں جب اچھے اور برے انسانوں کی مثال دی ہے تو عورت اور مرد دونوں کی مظظثا؛ پہش کی ہے ۔ ایک جگہ فرعون کیی بیوی کا ےزکرہ فرمایا ہہے تو دوسرے مقام پر حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیوی کا ذکی فرمایا ہے
ترجمہ اور ،منونوں کے لیے ( ایک ) مثال ( تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی ،

اس کے مقابلے میں برے انسانوں کے لیے حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ کی بیویوں کی مثال دی ہے ۔
اسلام چاہتا ہے کہ تاریخ میں عورت کے سلسلے میں جو غلط تصور قائم رہا اس کی اصلاح کرے ۔ مجھے حیرت ہے کہ متعد دے چند مثالوں کے علاوہ ایسا ککیوں ہے ؟

کیوں انسان نے ہمیشہ عورت کے مسئلے میں ہمیشہ غلط طرز فکر اختیار کیا اس پر وہ مصر رہا ۔ اآپ انبیا کی تعلیمات سے ہٹ کر دیکھیں تع عورتوں کے سلسلے میں جو نظریات قائم کئے گئے ہیں ان میں مرد اور عورت کا مقام حقیقت سے دور ہے اور مرد عورت کے درمیان جو نسبت بیان کی گئی ہے وہ غلط ہے ۔ عورت کے سلسلے میں جو تصور و نظریہ ہے وہ غلط ہے درست نہیں ہیں میں تفصلات میں نہیں جانا چاہتا ، آپ خود ہی اس سے واقف ہیں اور خود جائزہ لے سکتے ہیں آج بھی دنیا کی وہی حالت ہے آج بھی عورتوں کی حمایت کی جو دعوے اور اس ذات کے انسانی پہلو پر تاکید کے نعروں کے باوجود عورتوں کے سلسلے میں جو نظریہ ہے وہ غلط ہے چونکہ یورپی مملک ، مسلم مملک کی مقابلےمیں ذرا تاخیر سے اس بحث میں شامل ہوئے ہیں اس لیے خواتین کے مسئلے میں ذرا دیر سے جاگےےے ہیں ۔ آپ جنتے ہیں کہ گزشتہ صدی کے عشرے تک یورپ میں کہیں بھی کسی بھی خاتون کو اظہار رائے کا حق نہیں ہوتا تھا جہاں جمہوریت تھی حتی وہاں بھی عورت کو اپنا مال خرچ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا تھا ۔ بیسوی صدی کے عشرے سے یعنی 1916یا1918 سے رفتہ رفتہ یورپی مملک میں فیصلہ کیا گیا کہ عورتوں کو اپنے سرمائے کے سلسلے میں اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا اختیار دیا جئے اور سماجی امور میں مردوں کے مساوی حقوق حاصل کرے ۔ اس بنا پر یورپ بہت تاخیر کے ساتھ خواب غفلت سے جاگا اور بڑی دیر سے وہ اس مسئلے کو سمجھا اور اب ایسا لگتا ہے کہ وہ کھوکھلے دعووں کا سہارا لیکر اپنے اس پسماندگی کی تلافی کرنا چاہتا ہے یورپی کی تاریخ میں کچھ عورتیں ملکہ اور شہزادیاں گزری ہیں لیکن کسی ایک خاتون ، ایک گھرانے ، خاندان یا قبیلے کی عورتوں کا مسئلہ عوتوں کے عام مسئلے سے الگ ہے ۔ تفریق ہمیشہ رہی ہے ۔ کچھ عورتیں ایسی بھی تھیں جو اعلی مقام تک پہنچیں کسی ملک کی حاکم بن گئیں اور انہیں حکومت وراثت میں مل گئی ، لیکن معاشرے کی سطح پر عورتوں یہ ممقام نہیں ملا ااور ادیان الہی کی تعلیمات کی بر خلاف کہ جن میں اسلام کی تعلیمات سب سے زیادہ معتبر ہیں عورت ہمیشہ اپنے حق سے محروم رکھی گئی ۔ اآپ اج بھی دیکھ رہے ہیں کہ مغرب کہ مہزب دنیا ، عورتوں کے سلسلے میں اپنی شرمناک پسماندگی کی تلافی کرنے کے درپے ہے اور اس کے لیے ایک نیا طریقہ اختیارر کر رہی ہے ، میرا خیال ہے کہ یہ لوگ عورتوں کے انسانی پہلو کو سیاسی ، اقتصادی اور تشہیراتی مسائل کی نذر کر دیتے ہیں ۔ یورپ میں روز اول سے یہ صورت حال رہی ۔ اسی وقت سے جب خواتین کو ان کی حقوق دینے کے مسئلہ اتھا ، انہیں غلط معیاروں کا انتیخاب کیا گیا

اسلام کے پا ایک آئیڈیل معاشرے کی تشکیل بنیادیں اور ضروری عناصر موجود ہیں وہ ان بنیادوں اور ستونوں کے سہارے ایک مثالی سماجی نظام اور معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے ۔ ہمیں چاہیئے کہ تمام شعبوں میں بالخصوص عللم ود انش کے شعبے میں خواتین کے تعلق سے یہ ثابت کریں کہ اسلام میں اس کی صلاحیت ہے.

اسلام کا رول ماڈل میڈیا کا بنا ہوا ماڈل نہیں ہے ہمارا میڈیا جو رول ماڈل کر رہا ہے وہ بلکل اسلام کے بر خلاف ہے وہ مغربی تہذیب جس میں خود مغرب بری طرح فسا ہوا ہے اسلام میں خواتیں کے لیے رول ماڈل فاطمہ زہرا سلام علیہ ہے حضرت مریم ہے ، جناب زینب سلام علیہ ہے حضرت آمنہ ہے نہ صنم بلوچ نہ وینہ ملک ان کے رول ماڈل سیکولیزم کی عکسی کر رہی ہے اپنے ماں بہن کو دینی تعلیم سے آراستہ کرے تاکہ دنیا اسلام کو پہچان سکے

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful