خطے میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا دوہرا کردار

تحریر: محمد ابراہیم رضائی

1989ء کے بعد پہلی بار ایک اعلی سطحی سعودی حکومتی عہدیدار کی سربراہی میں بڑے وفد کی جانب سے عراق دورے کی افواہ کئی پہلووں سے قابل غور ہے۔ اگرچہ اس اعلی سطحی سعودی حکومتی عہدیدار کا نام واضح نہیں کیا گیا لیکن بعض رپورٹس اور اخباری ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص خود سعودی ولیعہد محمد بن سلمان ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے عراق سے تعلقات میں بہتری لانے کی کوششیں خطے سے متعلق اس امریکی پالیسی کے تحت انجام پا رہی ہیں جس کا مقصد عراق میں ایران کا اثرورسوخ کم کرنا ہے۔ اس پالیسی کی رو سے امریکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اور عراق سے ان دو ممالک کے تجارتی معاہدوں کے ذریعے عراق کی سیاست اور معیشت میں ایران کا اثرورسوخ کم کرنے کے درپے ہے اور چاہتا ہے کہ ایران کی جگہ ابوظہبی اور ریاض عراق میں موثر کردار کے مالک بن جائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ابھی عراقی عوام سعودی عرب کی دولت سے پرورش پانے والے تکفیری دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر بیگناہ شہریوں کا قتل عام نہیں بھول پائے جبکہ عراقی حکومت نے بھی سعودی حکام کی جانب سے عراق کو اسلامی مزاحمتی بلاک خاص طور پر ایران سے دور کرنے اور خطے میں اپنی پالیسیوں سے ہمسو کرنے کی کوشش پر سبز جھنڈی نہیں دکھائی ہے۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان عراق کے علاوہ چند اور ممالک کے دوروں کا پروگرام بھی بنا چکے ہیں جن کا مقصد ان سے تعلقات مضبوط بنا کر مستقبل میں ان کا تعاون حاصل کرنا ہے۔ دوسری طرف موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور اس میں رونما ہونے والی تقریباً تمام تبدیلیاں آل سعود رژیم کے نقصان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ یمن، بحرین، شام، لبنان اور حتی فلسطین کی صورتحال نے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کو وحشت زدہ کر ڈالا ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے سعودی حکام کو شدید دھچکہ پہنچا ہے۔

اسی خوف اور وحشت کے باعث سعودی حکام بعض اوقات خطے کے بعض ممالک کے خلاف کھوکھلے اور مضحکہ خیز دھمکی آمیز بیانات دیتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ سب سے زیادہ اسلامی جمہوریہ ایران سے خوفزدہ ہیں کیونکہ خطے میں ایران کے روز بروز بڑھتے ہوئے اثرورسوخ نے انہیں شدید پریشان کر رکھا ہے۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ وقتاً فوقتاً سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے انجام پانے والے مضحکہ خیز اقدامات کا مقصد عالمی برادری اور بڑی طاقتوں کو اسلامی مزاحمتی بلاک خاص طور پر ایران سے مقابلہ کرنے پر اکسانا ہے۔ بن سلمان انتہائی بچگانہ انداز میں اپنے اقدامات اور بیانات کے ذریعے خطے کے ممالک کی سیاسی اور سفارتی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ دوغلے سیاسی اقدامات کے باعث سعودی عرب کا سیاسی مستقبل تیزی سے زوال کی جانب گامزن ہے کیونکہ سعودی عرب نے آج تک حتی ایک بار بھی عوامی سطح پر انتخابات کا انعقاد نہیں کروایا۔ اسی طرح سعودی حکام نے مختلف ایشوز جیسے انسانی حقوق، جمہوریت، آزادی اظہار وغیرہ کے بارے میں دوغلی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔

سعودی حکام کی دوغلی پالیسیوں کا ایک واضح مصداق ان کی جانب سے خطے میں موجود سکیورٹی مسائل اور مشکلات کا الزام ایران پر عائد کرنا ہے۔ دوسری طرف خود سعودی حکام خفیہ طور پر عراق اور شام میں سرگرم تکفیری دہشت گرد عناصر کی مالی اور فوجی امداد کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک جہاں بھی موجود ہوتے ہیں اس کا بغیر کسی خوف کے کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں۔ سعودی رژیم کی مسلسل ناکامیوں کے باعث خود سعودی سلطنتی خاندان میں بھی اختلافات اور ٹکراو اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے۔ یمن میں شدید شکست کے نتیجے میں سعودی فرمانروا ملک سلمان مسلح افواج کے سربراہان کو اپنے عہدوں سے ہٹانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے ایسے ہی بچگانہ پالیسیوں اور اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ملک کی داخلی سطح پر بھی شدید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful