خواتین یونیورسٹی اور معیار تعلیم

وزیرتعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا ہے کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ تعلیم ہے گلگت بلتستان کی پہلی خواتین یونیورسٹی دنیور سلطان آباد میں بنے گی تعلیم میں صرف طلباء اور اساتذہ کا کردار نہیں ہوتابلکہ تعلیم میں والدین کا بھی اہم اور نمایاں کردار ہوتا ہے والدین بچوں کی تعلیمی تربیت پر توجہ دیں۔ معیاری تعلیم ہماری بنیادی ضرورت ہے معیاری وجدید تعلیم کا سخت فقدان ہے’معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے صوبائی حکومت اپنی پوری کوشش کررہی ہے بچوں کو تعلیم کے ساتھ بہتر ماحول بھی دیا جائے تو اس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت نے ابتدا سے ہی تعلیم کے شعبے پر توجہ دی ہے یہی وجہ ہے کہ آج این ٹی ایس جیسے اداروں کے ذریعے قابل اساتذہ کو بھرتی کرایا اور سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال کرایا آئندہ سال بچوں کو مفت کتابوں کے ساتھ مفت بستہ اور وردی سمیت دیگرضروریات بھی ملیںگے ۔گلگت بلتستان میں پہلی یونیورسٹی کیلئے سلطان آباد میں قیام کا عندیہ خوش کن ہے ‘گلگت بلتستان میں دو تین خواتین یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جانا چاہیے کیونکہ جس گھر میں تعلیم یافتہ عورت موجود ہو وہ گھر بذات خود ایک یونیو رسٹی ہے۔ماں کی گود سے ہی علم کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ جاہل اور علم سے عاری ماں علم کی شمع کیسے روشن کر سکتی ہے جبکہ وہ خود اندھیرے میں ہے’ تعلیم انسان کیلئے اسی طرح ضروری ہوتی ہے جیسے آکسیجن زندگی کی حیات کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان بالکل حیوان کی مانند ہے، یہ تعلیم ہی ہے جو انسان کو عقل و شعور سے مالا مال کرتی اور زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ کرتی ہے اور بغیر علم کے انسان کبھی بھی سیدھی راہ پر نہیں چل سکتا، علم ہی انسان کو راہ حق کی طرف لے جاتا ہے،تعلیم کی اہمیت کے بارے میںتقریبا سبھی لوگ بخوبی واقف ہیں اور اسی وجہ سے سبھی لوگ تمام زندگی حصول علم کے لئے صرف کر دیتے ہیں ۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جو بھی ملکی تعمیرو ترقی کے لئے کوشاں ہے وہ اپنی اس ترقی کے سفر میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی شمولیت کا بھی متلاشی ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے اور خواتین جو اس سلسلے میں اپنا کردار سرانجام دے رہی ہیں اس کی اہمیت سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا خواتین بھی مردوں کی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور ان کے ساتھ شانہ بشانہ کام کررہی ہیں۔ یہ صرف اس وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ وہ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہیں، ویسے تو حصول علم پر مرد و زن کا حق ہے لیکن مردوں کی نسبت خواتین کے لئے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے، کیونکہ انہوں نے آنے والی نسل کی تربیت کرنا ہوتی ہے۔آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت ایک پڑھی لکھی ماں ہی بہتر طور پر سرانجام دے سکتی ہے پاکستان میں خواتین کل آبادی کا تقریبا 51فیصد ہیں اسی وجہ سے ان کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ پڑھی لکھی مائیں اپنے بچے کی صحت و تعلیم و تربیت کا زیادہ بہتر طور پر خیال رکھ سکتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کے بچے زیادہ توانا اور تعلیم کے میدان میں کامیاب ہوتے ہیں، اس کے برعکس ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی خواتین اپنے بچوں کا ویسا خیال نہیں رکھ سکتیں جس طرح سے ان کی دیکھ بھال کرنی چاہئے، ان کے ساتھ ساتھ ان کے بچے زیادہ بیماریوں کا شکار رہتے ہیں، کیونکہ وہ حفظان صحت کے مطابق اپنے بچوں کی پرورش نہیں کرتیں،جبکہ پڑھی لکھی مائیں شروع دن سے ہی بہتر خیال رکھتی ہیں اور خوراک کی وجہ سے صحتمند بھی رہتی ہیں۔ان تمام دلیلوں سے یہ ظاہر ہے کہ بہترین قوم اس وقت بنتی ہے جب مائیں پڑھی لکھی باشعور اور سمجھدار ہوں، آج جب انٹرنیٹ، کھیل اور ویڈیو گیمز بھی بچوں کے اخلاق کو بگاڑتے ہیں تو باشعور ماں ہی ہے جو اِن تمام اثرات سے اپنے بچوں کو بچا سکتی ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت درست طور پر کر سکتی ہیں کیونکہ تعلیم یافتہ باشعور ہونے کی وجہ سے وہ اچھے برے کی تمیز بہتر طور پر کر سکتی ہے جو اس کے بچوں کو ایک اچھا انسان اور ایک اچھا شہری بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔پاکستان کے دوردراز پسماندہ علاقوں میں خواتین کی شرح خواندگی افسوس ناک حد تک کم ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہاں تعلیمی اداروں کا فقدان ہے وہاں پر تعلیمی ادارے تو ہیں مگر وہاں کے گھر کے سربراہان خواتین کو تعلیم دلوانے کا رجحان نہیں رکھتے ،کیونکہ ان کے خیال میں تعلیم کے حصول کے بعد وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے اور پڑھ لکھ کر خاندان کی بدنامی کا باعث بنیں گی، ان علاقوں کی خواتین تعلیم کی خواہشمند ہیں، مگر خاندانی رسم و رواج کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہیں، اس کے ساتھ ساتھ گھر والے بھی لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے پر توجہ نہیں دیتے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں مختلف اقدامات کرے تاکہ یہ خواتین بھی تعلیم حاصل کر سکیں اور آئندہ آنے والے وقت میں آنے والی نسلوں اور ان کی بہترین نشوونما کر سکیں نیز اپنی صلاحیتوں کو بھی استعمال میں لاسکیں۔گزشتہ چند سال میں خواتین میں تعلیم کے حصول کا شعور اجاگر ہوا ہے جس کی وجہ سے اب پہلے کی نسبت کافی تعداد میں خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعلیم حاصل کررہی ہیں اور بعد ازاں نوکری کر کے ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی کفالت بھی کررہی ہیں خواتین گھر کے سربراہ کی ناگہانی موت کی صورت میں یا اس کے کام کاج کے قابل نہ رہنے کی بنا پر گھر کا نظام چلانے کی ذمہ داری بھی بخوبی سنبھالتی ہیں، ہر خاتون کو تعلیم جتنی بھی ہو سکے ضرور دینی چاہئے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار صورت حال میں اپنے پائوں پر خود کھڑی ہو سکیں اور کسی دوسرے پر بوجھ نہ بنیں۔جہاں تک معیار تعلیم کا تعلق ہے معیاری تعلیم کی گتھی کو سلجھانے کیلئے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ معیار تعلیم کا تعلق تعلیم کی کسی ایک یا دو جہتوں سے ہے، جبکہ معیاری تعلیم ہمہ جہت نوعیت کی ہے۔ معیار تعلیم معاشرے کو طبقاتی نظام کی طرف لے جاتا ہے لیکن اس کے برعکس معیاری تعلیم ایک ہی معیار کے تحت سب کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کا نام ہے۔معیار اور معیاری کی اس بحث میں اہمیت اس بات کی ہے کہ مقصد کیا ہونا چاہئے؟ اگر ہمارے نظام تعلیم کا مقصد افراد کو تعلیم یافتہ بنانا ہے تو یقینا معیار تعلیم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہم یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں، جو آج تک ہوتا چلا آیا ہے اور اسی وجہ سے نہ صرف سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان دوڑ چل رہی ہے بلکہ ایک ہی نوعیت کے مختلف تعلیمی ادارے بھی اس دوڑ میں شریک ہیں۔ دوسری جانب اگر ہمارے نظام تعلیم کا مقصد اجتماعی طور پر ایک تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل ہے، تو ہمیں معیاری تعلیم پر توجہ دینا ہوگی تاکہ صرف فرد ترقی نہ کرے بلکہ ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جاسکے، جیسا کہ بعض ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے۔فرد ومعاشرے کی ترقی کے حوالے سے یہ عنوان بھی زیربحث ہے کہ افراد ہی معاشرہ تشکیل دیتے ہیں لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ معاشرہ بذات خود فرد کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔گویا معیار اور معیاری تعلیم کے فرق کو پہچاننے کیلئے ہمیں فرد اور معاشرے کے رشتے کو سمجھنا ہوگا جس کیلئے ہمیں پہلے معاشرے کی اکائی کیلئے، جوفرد ہے، نہ صرف تعلیم بلکہ تربیت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ فرد، معاشرہ، تعلیم، اور تربیت، یہ وہ پہلو ہیں جن پر توجہ دیئے بغیر تعلیم کے فوائد کو عام انسان تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔دنیا میں وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جو اپنی تعلیم سے عام فرد کے معیار زندگی کو بلند کرنا جانتے ہیں۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful