دلکش اور حسین گلگت بلتستان

گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں گلگت جانے کا اتفاق ہوا۔ رخت سفرباندھااور صبح چاربجے نورخان بیس پہنچ گئے۔ طویل انتظار کے بعد یہ پتا چلا کہ موسم کی خرابی کے باعث سی – 130 جہازکاغان سے ہی واپس ہو گیا ہے۔ چونکہ فوجی افسران کی چھٹیاں بہت ہی گنی چنی ہوتی ہیں تو ہم نے وقت ضائع کئے بغیر ایک پرائیویٹ گاڑی کا بندوبست کیا۔ جس کی بدولت ہمیں ایبٹ آباد‘ مانسہرہ‘ بالاکوٹ‘ ناران‘ کاغان‘ بابوسر کی برف پوش چوٹی اور چلاس کے حسین اور دلکش نظارے دیکھنے کا موقع ملا۔ 13سے 14گھنٹے کے اس سفر میں ہم کوہستان کے خشک اور خوفناک پہاڑوں سے ہوتے ہوئے گلگت بلتستان کی بہشت میں داخل ہوئے۔

اگر کوئی ناسمجھ بہشت بریں کا مفہوم جاننے میں ناکام رہ گیا ہو تو ہمارے مشورے پر عمل کرتے ہوئے وہ گلگت بلتستان کے دو اضلاع ہنزہ اور نگر کے اندر واقع علاقے چھلت‘ رابٹ‘ بر‘ بولوداس‘ سکندر آباد‘ تھول اور غلمٹ جیسی جنت نظیر جگہیں دیکھ لے۔

دو دن گلگت سٹی میں گزارنے کے بعد ہم چھپروٹ کے محلہ چکبر میں قیام پذیر ہوئے۔ گھر کے آنگن سے نظر آنے والی ’’راکاپوشی‘‘ کی برف پوش چوٹی کا دلفریب منظر مزاج میں خوشگوار احساس پیدا کر دیتا ہے۔ یہاں کے صحن میں لگے مخصوص قسم کے چولہے ہیں جن پر لکڑیوں کی مدد سے کھانا پکتا ہے، یہ لکڑیاں گرمیوں کے موسم میں پہاڑوں اور جنگلوں سے لا کر جمع کی جاتیں ہیں اور پھر سردیوں میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس علاقے کے تقریباً تمام تر لوگ زمیندار ہیں‘ محنت کشی اور مہمان نوازی ان کے خون میں شامل ہے۔ اپنی زمینوں پر خوشبودار اور نایاب پھل مثلاً چیری‘ سیب‘ خوبانی‘ ناشپاتی ‘ آڑو‘ انگور اور سبزیوں میں آلو‘ پیاز‘ ٹماٹر اور مٹر وغیرہ نہایت ہی مہارت سے اُگاتے ہیں۔ ایک ہی درخت سے نکلی دو مختلف شاخوں پرایک طرف ہرے رنگ کے سیب اور دوسری شاخ پر لال رنگ کے سیب علاقائی لوگوں کے اس ہنر کی مہارت کا ثبوت دیتے ہیں۔
یہاں کی کاشتکاری اور مال مویشیوں کی دیکھ بھال میں عورتوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہ لوگ اپنی زمینوں پر اگنے والے ان پھلوں اور سبزیوں کا کچھ حصہ فروخت کرکے آمدن حاصل کرتے ہیں۔وہاں کی خواتین اپنی زمینوں کی بھرپور دیکھ بھال کرتی ہیں۔ بچوں کو سکول بھیج کر محنت کش عورتیں اپنی اپنی زمینوں پر نکل جاتی ہیں جہاں وہ کام کے ساتھ ساتھ علاقے کی دوسری عورتوں سے میل ملاقات ‘ باتیں کرتیں تازہ پھلوں سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور اپنے اپنے کام ختم کر کے واپس گھروں کو لوٹ جاتی ہیں۔یہی وہ روزانہ کا معمول ہے جو وہاں کی عورتوں کو چست و توانا رکھتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق شہر کی 40سالہ کی عورت بھی اتنی تروتازہ اور چست نہ ہو گی جتنا کہ وہاں کی 80سالہ عورت ہوتی ہے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ اب یہاں کے لوگوں میں بھی اس بات کا شعور آ رہا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ لڑکیاں شہر جا کر کالج اور یونیورسٹیوں میں داخلے لے رہی ہیں۔ ایک مخصوص قسم کی کڑھائی اور دست کاری کا ہنر بھی ان عورتوں کے پاس ہے۔

گلگت بلتستان میں قیام کے دوران ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوا کہ یہاں کی زندگی میں خوبانی کا بڑا عمل دخل ہے۔ کھانے پینے اور علاج معالجے کے لئے خوبانی کی کوئی نہ کوئی شکل ضرور شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اخروٹ‘ بادام‘ چلغوزے بھی اس علاقے کی جان سمجھے جاتے ہیں۔ اس علاقے کے مشہور پکوان میں ڈاؤڈو‘ شب شرو اور ممتوح شامل ہیں۔ جو کہ چینی کھانوں سے ملتے جلتے ہیں۔ روٹیوں کی بھی کافی اقسام قابل ذکر ہیں جن میں ’’پھٹی‘گولیے اور شرکے‘‘ شامل ہیں۔ ہر قسم ذائقے کے اعتبار سے اپنی اپنی جگہ منفرد ہے۔
گلگت کے اس دس روزہ دورے میں ہمیں عطاآباد جھیل اور ہنزہ میں واقع التت فورٹ جانے کا بھی موقع ملا۔ اگر ہم یہ کہیں کہ قدرت نے گلگت بلتستان کا مجموعی حُسن سمیٹ کر محض نمونے کے طور پر فقط ایک ہنزہ نگر میں سمو ڈالا ہو تو یہ بے جا نہ ہو گا۔ یہاں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کوملی۔ دلکشی کے اعتبار سے سوئیٹزر لینڈ کے حسن کو شرمندہ کرنے کے لئے فقط پاکستان کا یہ بالائی حصہ کافی ہے۔ پورے سفر کے دوران چھوٹے بڑے آبشار ہماری توجہ کا مرکز رہے۔ جو آگے جا کر اچھے خاصے دریاؤں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور ان کا سفیددودھیا پانی سرسبز لینڈ اسکیپ پر جادو بکھیرتا نظر آتا ہے۔
گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان شینا ہے جو کہ وہاں کی آبادی کا 38فیصد حصہ عام بول چال میں استعمال کرتا ہے۔ شینا بولنے والوں کی اکثریت گلگت، دیامیر، چلاس اور اس کے قریبی علاقوں میں زیادہ ہے جبکہ اسکردومیں بلتی اور ہنزہ‘ نگر‘ علی آباد‘ یاسین و یلی میں بروشسکی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

جشن بہاراں یعنی نوروز کا تہوار یہاں کے رہائشی نہایت ہی جوش و خروش اور دلکش انداز میں مناتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی رنگارنگ تقاریب کا اپنا ہی ایک انداز ہے۔ علاقائی زبانوں میں تیار کئے گئے گانوں اور دھنوں پر وہاں کی ثقافتی ٹوپی (کھوئی) پر ایک ’’پر‘‘ (جھورونے) لگا کر رقص کیا جاتا ہے۔ مردوں کی طرح عورتوں کی بھی ایک ثقافتی ٹوپی ہے جس کو وہاں کی عورتیں خود کڑھائی کر کے بناتی ہیں اور اس کو’ سلسلہ‘ کہتے ہیں۔ رقص کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے مداح ان کی ٹوپیوں میں پیسے اٹکاتے جاتے ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے اچھی خاصی رقم بن جاتی ہے جس کو وہ بطور انعام قبول کرتے ہیں۔
آخری منزل گلگت ایئرپورٹ ٹھہرا جو کہ بظاہر کسی عام سی بس سروس کا ٹرمینل دکھائی دیتا تھا۔ یہاں پر زیادہ تر چھوٹا جہاز آتا جاتا ہے اور اس کی سواریوں کی تعداد کسی بڑی بس کی سوار یوں سے کم ہی ہوتی ہے۔ سنا ہے کہ کراچی سے شروع ہونے والی ایک پرائیویٹ ایئرلائن عنقریب کراچی تا اسکردو براستہ اسلام آباد ایک ’’آل ویدر‘‘ فلائٹ چلانے والی ہے یعنی یہ موسم کے اچھے یا برے ہونے سے یکسر بے نیاز ہو ا کرے گی۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ گلگت سکردو کے حوالے سے ہر دوسرے دن فلائٹس منسوخ ہونے کا یہ سلسلہ اب ختم ہونے کو ہے۔

ویسے ایک سیاح کے لئے فلائٹ کا منسوخ ہونا کسی مصیبت سے کم نہیں۔ یعنی ایک تو آپ کی چھٹیاں ہی گنی چنی ہوتی ہیں اوپر سے علی الصبح اٹھ کر تیار ہونا اور آنکھیں ملتے ملتے ایئرپورٹ پہنچنا اور عین راستے میں ایئرلائن کی طرف سے فلائٹ منسوخ ہونے کی کال آنا اور آپ کا سخت مایوسی کے عالم میں گاڑی موڑ کر واپس ہو جانا کسی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہوتا اور تو اور آپ کے عزیزواقارب یا ہوٹل سٹاف آپ کو خداحافظ کہتے ہوئے کسی غیر معمولی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ فلائٹ ان کی خواہش کے عین مطابق زیادہ تر منسوخ ہی ہو گی اور ہمارا اترا ہوا چہرہ دوبارہ دیکھیں گے۔
خیر ہماری دعا ہے کہ مذکورہ ایئرلائن فوری طور پر یہ نیک کام شروع کرے اور بہت سوں کا بھلا ہو سکے اس سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا اور اس خطے میں آپ کو بڑی تعداد میں مقامی اور غیر مقامی ٹورسٹ ملنے لگیں گے۔

تحریر: کیپٹن فاطمہ مبارک

hunza-valley

11204943_1034465623243880_7474450662622599077_n

DSC_1810-4

apricot-3

ghizer-river-main

Gilgit-Baltistan-Unity-Gala4

Gilgit-Baltistan

Chaprote glacier,Nagar

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful