راولپنڈی میں دو ہزار تیرہ میں مسجد پر حملے میں را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس ملوث تھی۔ #ISPR

راولپنڈی ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آپریشن خیبر فور آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں،اس دوران 52 دہشتگرد ہلاک جبکہ 31 زخمی ہوئے، جبکہ 4 نے خود کو فورسز کے حوالے کر دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ارفع کریم ٹاور حملہ کیس کے ملزمان وزیر اعلیٰ پنجاب پر حملہ کرنا چاہتے تھے، چیئرمین سینیٹ کی ڈائیلاگ سے متعلق تجویز پر انہوں نے کہا کہ فوج ملکی نظام کا حصہ ہے جو بھی کردار ہو گا ادا کریں گے تاہم ملک میں سول ملٹری کی کوئی تقسیم نہیں سیاسی جماعتیں آپس میں باتیں کرتی ہیں تاہم پاک فوج کا کسی سیاسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آپریشن خیبر فور اور آپریشن ردالفساد کے حوالے سے میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر ویلی میں 15 جولائی کو شروع کئے گئے آپریشن خیبر فور کو مکمل کرلیا گیا ہے جس کے دوران 2 جوان شہید اور 6 زخمی ہوئے۔یہ آپریشن خیبر فور پاک فوج کے مشکل ترین آپریشنز میں سے ایک تھا اور وادی راجگال اور اس کے قرب و جوار کا 253 مربع کلو میٹر علاقہ کلیئر کرا لیا گیا ہے، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں اور اس پورے آپریشن میں 2 سپاہی شہید جبکہ 6 زخمی ہوئے۔

ترجمان کے مطابق آپریشن کے دوران 52 دہشت گرد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے جب کہ ایک گرفتار اور 4 نے خود کو فورسز کے حوالے کردیا۔ ترجمان کے مطابق آپریشن کے دوران سیکڑوں بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں، آپریشن میں تیار آئی ای ڈیز بھی برآمد ہوئیں جب کہ آئی ای ڈی بنانے کے ایک مواد پر میڈ ان انڈیا کا لیبل ملا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 3300 آپریشن کیےگئے، آپریشن شروع ہوا تو فاٹا کے بہت سے لوگ آئی ڈی پیز بن گئے تاہم آپریشن کے بعد 95 فیصد آئی ڈی پیز واپس گھروں کو چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران 152 باردوی سرنگیں ناکارہ بنائی گئی ہیں، 250 مربع کلومیٹر علاقہ کلیئر کرالیا گیا ہے، راجگال وادی میں 91چیک پوسٹیں قائم کردی گئیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر فور آپریشن کے دوران افغانی فورسز سے مشاورت بھی کی گئی ہے۔ سامان ہیلی کاپٹر کے ذریعے فراہم کیا گیا،

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فاٹا میں 147 اسکول ،17 ہیلتھ یونٹس ،27 مساجد قائم کی گئیں، فاٹا کے بہت سے کیڈٹس پاک فوج میں تربیت لے رہے ہیں جب کہ فاٹا کے نوجوانوں کی رجسٹریشن بھی کی جائے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق راولپنڈی میں 2013 کے دوران مسجد پر حملے کا نیٹ ورک پکڑا گیا جب کہ مسجد میں آگ لگانے والوں کا مقصد فرقہ واریت کو ہوا دیناتھا۔ شیعہ سنی فساد کا لنک را اور این ڈی ایس سے ملتا ہے، 2017ء میں راولپنڈی میں سنی مسجد پر دہشتگرد حملہ ہوا، حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، وہ سنی ہی تھے مگر انہوں نے شیعہ بھیس میں حملہ کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ٹارگٹ کلنگ میں نمایاں کمی ہوئی ہے، پاکستان رینجرز پنجاب نے خفیہ اطلاعات پر 1728 آپریشنز کئے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یوم آزادی پر واہگہ بارڈر پر ایشیا کا سب سے بڑا پرچم لہرایا جس کے حوالے سے بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ جاسوسی کے لئے لگایا گیا ہے تاہم انٹیلیجنس حاصل کرنے کے لئے ہمیں جھنڈا لگانے کی ضرورت نہیں، ہماری انٹیلی جنس صلاحیت بہت بہتر ہے۔

کراچی آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی پولیس مضبوط ہو گی تو سٹریٹ کرائمز کم ہونگے لیکن بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ کمی آئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ ارفعہ کریم ٹاور کے قریب ہونے والے خودکش حملے کا ٹارگٹ وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، اس دن ان کا ارفعہ ٹاور کا دورہ بھی شیڈول تھا لیکن عین وقت پر دہشتگردوں کا منصوبہ تبدیل ہوا اور انہوں نے پولیس کو ٹارگٹ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ پر دہشتگردوں کے مزید حملے کا بھی منصوبہ تھا جن تک ہماری ایجنسیاں پہنچ چکی ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان سب کا ہے، جب تک ہم اکٹھے ہیں پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، سرحد کے اندر رہتے ہوئے اختلافات ہو سکتے ہیں، سرحد کے باہر ہم سب ایک ہیں، مشرف سیاسی بات ذاتی حیثیت سے کرتے ہیں، فوج کے حوالے سے پالیسی بیان آرمی چیف ہی دے سکتے ہیں، امریکہ کی افغان پالیسی کا اعلان کل ہو گا، دفتر خارجہ ہی اس حوالے سے بیان جاری کرے گا، سخت پالیسی آئے گی تو ہم نے پہلے پاکستان کا مفاد دیکھنا ہے، ضرب عضب میں آپریشن بلاتفریق کیا گیا، تمام علاقوں کو کلیئر کرا لیا گیا ہے، فاٹا کے 95 فیصد لوگ واپس جا چکے ہیں باقی شاید جانا نہیں چاہتے، یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، آئی ڈی پیز کو کیمپوں میں ہر قسم کی سہولت دی، کسی کو زبردستی واپس نہیں بھیجا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کا کوئی مسئلہ نہیں، ڈان لیکس رپورٹ پبلک کرنا حکومت کی صوابدید ہے۔ جو بھی چاہتا ہے ڈان لیکس انکوائری منظرعام پر آئے وہ حکومت سے درخواست کرے، ڈان لیکس انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کااختیار حکومت کا ہے اور رپورٹ حکومت کو کھولنی ہے فوج کو نہیں۔سول ملٹری تعلقات میں کوئی اختلاف نہیں ہم ایک پیج پر ہیں، اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اسے سول ملٹری تعلقات سے نہ جوڑیں۔

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful