رجب طیب اردگان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو دھمکی

لبنانی اخبار ’’الدیار‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب قطر کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا تو ترکی سعودی عرب پر فوجی حملہ کرے گا۔

اخبار کا مزید کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل (قطر کے بائیکاٹ کا معاملہ شروع ہونے کے بعد) امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی ترکی کے سرکاری دورے پر گئے تھے ،جہاں ان کی اردگان کے ساتھ 4 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی تھی،ملاقات کے دوران امیر قطر نے اردگان کو آگاہ کیا کہ سعودی عرب اور امارات کے لڑاکا طیارے قطر پر حملے کی تیاری میں مصروف ہیں ،قطری امیر کی بات غور سے سننے کے بعد اردگان نے تیمیم کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ترکی اچھی طرح جانتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔

’’الدیار‘‘ اخبار کے بقول امیر قطر کی ترکی سے روانہ ہونے کے بعد ترک صدر نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو فون کیا اور دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ان سے کہا گیا کہ سعودی فرمانروا بیمار ہیں اور فون پر گفتگو نہیں کر سکتے ،البتہ کچھ دیر بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اردگان کو فون کیا۔

کال کے دوران اردگان نے بن سلمان سے واضح طور پر کہا کہ میں ترکی ،ترک عوام اور ترک فوج کی طرف سے کہہ رہا ہوں کہ اگر سعودی عرب نے قطر پر بمباری کی تو ہم بغیر رحم کیے سعودی عرب پر حملہ کردیں گے،یہ سنتے ہی بن سلمان نے جب وضاحت کرنے کی کوشش کی تو اردگان نے مزید بات چیت کرنے سے انکار کرتے ہوئے فون لائن بن سلمان کے منہ پر ہی بند کردی۔

لبنانی اخبار کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ نے اس معاملے میں مداخلت کی کوشش کی تھی جس کے جواب میں ترکوں کا کہنا تھا کہ تم لوگ علاقے میں سات سالوں سے کھیل رہے ہو اور ترکی ایک عظیم اور تاریخی ملک ہے اور علاقے میں سب سے بڑی فوج اسی کی فوج ہے اور ہم اب خاموش نہیں رہیں گے ،بہت کھیل کود ہوگیا ہے۔

آپ سب کو یاد دلاتا چلوں کہ ترکی اور قطر کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ 19 دسمبر 2014ء کو ترکی میں طے پایا گیا تھا ،جس کے تحت دونوں ممالک عسکری شعبے میں ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں گے۔

قطر کے خلاف فوجی کارروائی کی سعودی اور اماراتی منصوبہ بندی سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودیوں اور اماراتیوں نے قطر کو ایک آسان ہدف سمجھ رکھا تھا اور سوچا کہ اگر قطر کے خلاف دونوں فوجی کارروائی کرتے ہیں تو کوئی بھی قطر کی مدد کیلئے نہیں آئے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔

ترکینے اس معاملے میں آنے کے بعد سعودیوں کو تو دھمکی دی تھی مگر اس دھمکی کی گونج اماراتیوں کو بھی سنائی دے گئی ہے۔ترکی کے اس اقدام کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے وہ علاقے میں امریکہ اور اس کے دیگر متعدد اتحادی ممالک کی سازشوں اور پالیسیوں سے تنگ آچکا ہے اور ان سازشوں کو روکنے کے درپے ہے۔

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful