رحیم یار خان: تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 73 ہو گئی

کراچی سے لاہور جانے والی تیز گام ایکسپریس میں رحیم یار خان کے قریب سلنڈر پھٹنے سے آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہوگئی، 10 لاشوں کی شناخت ہوگئی، 17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔ بہاول پور، رحیم یارخان کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ریلوے ذرائع کے مطابق تیزگام ایکسپریس کراچی سے راولپنڈی جا رہی تھی جس میں سلنڈر پھٹنے سے تین بوگیوں میں آگ لگی۔ آگ نے 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسافر ٹرین میں سلنڈر سے انڈا بوائل کررہے تھے کہ اچانک آگ بھڑ ک اُٹھی، متعدد افراد نے کود کر جان بچائی۔

ڈی سی او ریلویز کراچی جنید اسلم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ متاثر ہونے والی تین بوگیوں میں 207 افراد سوار تھے جبکہ ان میں زیادہ تر مسافر حیدرآباد سے ٹرین میں چڑھے تھے۔

جنید اسلم کے مطابق ایک بوگی میں 78 افراد اور دوسری بوگی میں 77 افراد کی بکنگ تھی جبکہ بزنس کلاس کی بوگی میں 54 افراد کی بکنگ تھی۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باقر حسین نے بتایا کہ 10 لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ دیگر جاں بحق افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے مطابق ٹرین کی اکانومی کلاس میں آگ لگی۔ تبلیغی جماعت کے لوگ اجتماع میں جارہے تھے۔ شیخ رشید نے کہا کہ زیادہ ہلاکتیں مسافروں کےچلتی ٹرین سےچھلانگ لگانے کی وجہ سے ہوئیں جبکہ شدید زخمیوں کو رحیم یار خان منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھاریاں اور ملتان میں برن یونٹس ہیں۔ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ مسافروں کےدو سلنڈر پھٹنے کے باعث بوگیوں میں آگ لگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ریلوے کی غلطی نہیں، مسافروں کی غلطی ہے۔ مسافر ٹرین میں سلینڈر کیسے لے کر پہنچے ، اس کی تحقیقات کی جائے گی۔

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کہ ٹرین سانحےمیں جاں بحق افرادکے اہل خانہ کے غم میں شریک ہیں۔ یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ٹرین سانحے میں جاں بحق افراد کےناموں کی فہرستیں آویزاں کی جائیں، سی ای او بہاولپور اور سی ای اورحیم یار خان زخمی افراد کے علاج کی نگرانی کریں۔ وزیر صحت پنجاب نے کہا کہ ضلع بہاولپور اور رحیم یارخان کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ایمرجنسی نافذ کرنے کا مقصد زخمی افراد کے بہترین علاج کو یقینی بنانا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ آفیسر باقر حسین کا کہنا ہے کہ دو بو گیوں میں لگی آ گ بجھا دی گئی ہے جبکہ تیسری بوگی کی آگ کی شدت میں بھی کمی آ گئی ہے۔ باقرحسین نے بتایا کہ آگ لگنے کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہوگئی ہے۔ ریلوے ذرائع کے مطابق جلی ہوئی بوگیاں الگ کر کے متاثرہ تیز گام کو روانہ کر دیا گیا ہے۔

سی ای او ریلوے اعجاز احمد نے بتایا کہ متاثرہ بوگیوں میں دو اکنامی اور ایک بزنس کلاس بوگی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس سانحے سے کوئی ٹریک متاثر نہیں ہوا، ٹرینیں چل رہی ہیں۔ ڈی سی او ریلویز کراچی جنید اسلم کا کہنا ہے کہ تیز گام کی 3، 4 اور5 نمبر کی بوگی میں آگ لگی۔ تینوں متاثرہ بوگیوں کےزیادہ تر ٹکٹ ایک ہی مسافر کے نام پر بک کرائے گئے تھے۔ جنید اسلم نے کہا کہ ایک ہی مسافر کے نام پر ٹکٹ جاری ہونے سے انفرادی نام نکالنے میں مشکل ہورہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے غمزدہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اور سانحے میں زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے سانحہ تیزگام ایکسپریس میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر غم کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کےاہل خانہ کےلیے صبر جمیل کی دعا کی۔ صدر عارف علوی نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جاں بحق مسافروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کیا، کہا کہ ہماری تمام تر ہمدردیاں جاں بحق افراد کے لواحقین کےساتھ ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے زخمی مسافروں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کردی اور اس افسوسناک سانحے سے متعلق انتظامیہ سے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ تیز گام پر گہرے صدمے کا اظہارکیا ہے اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے عہدیدار اور کارکن زخمیوں کی بھرپور مدد کریں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت جاں بحق افراد کو معاوضہ ادا کرےاور زخمیوں کے بہتر علاج کا بندوبست کرے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعابھی کی۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ٹرین سانحے پر دلی دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں تبلیغی جماعت اور دیگر مسافروں کے حادثے پر بہت رنج ہے۔ شہباز شریف نے زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

About وائس آف مسلم

Avatar
وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔