ریاست گلگت بلتستان کے عوام نے جنگ نہ لڑی ہوتی تو آج مودی کے ظلم کا شکار ہوتے

آزاد ریاست گلگت  بلتستان کی یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے ڈوگر راج کے خلاف جنگ لڑی اور آزادی حاصل کی، گلگت بلتستان کے جوانوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور گلگلت کے عوام نے جنگ نہ لڑی ہوتی تو آج مودی کے ظلم کا شکار ہوتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت نے 3 ماہ سے کرفیو لگایا ہوا ہے، نریندر مودی 5 اگست کو اپنا آخری پتا کھیل چکا ہے، کشمیریوں کا انسانوں نہیں جانوروں کی طرح رکھا ہوا ہے، کرفیو ہٹتے ہیں انسانوں کا سمندر باہر نکلے گا، لوگ اپنی آزادی مانگیں گے اور  کشمیر کو آزاد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، میں کشمیریوں کو یقین دلاتا ہوں آپ کا سفیرہوں، دنیا بھر میں کشمیریوں کا وکیل بھی بنوں گا، کشمیریوں کو پیغام دیتا ہوں ساری پاکستانی قوم آپ کے پیچھے کھڑی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موت کا خوف ختم ہو تو انسان بڑا انسان بن جاتا ہے، مرنے کا خوف انسان کو غلام بنا دیتا ہے، مسلمان میں موت کا خوف ختم ہو جاتا ہے، کلمہ پڑھنے والا انسان کبھی کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا، مسلمانوں نے 10 سال میں اس وقت کی دو سپرپاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ساری دنیا دیکھی ہے لیکن گلگت بلتستان جیسی خوبصورتی کہیں نہیں دیکھی، گلگت بلتستان چین اور پاکستان کو جوڑتا ہے، ان علاقوں میں کئی گنا زیادہ سیاح آئیں گے، آپ دیکھیں گے ہماری قوم دنیا میں ایک مثال بنے گی، ہماراملک عدل و انصاف کی بنیاد پر اٹھے گا، پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں گے، یہ عظیم قوم بنے گی۔

اس سے قبل وزیرِاعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر گلگت پہنچے جہاں وہ  آزادی پریڈ کی تقریب میں بطورمہمان خصوصی شریک ہوئے، وزیراعظم مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، دورے کے دوران وزیرِاعظم گلگت بلتستان میں یادگارِ شہدا پر پھول چڑھائیں گے جب کہ وزیراعظم کی گورنر گلگت بلتستان، وزیرِاعلیٰ اور کابینہ ممبران سے بھی ملاقات ہوگی۔ وزیرِ اعظم گلگت بلتستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح  اور جلسہ عام سے خطاب بھی کریں گے۔

About وائس آف مسلم

Avatar
وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔