’سشما سوراج کو او آئی سی کی دعوت، کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف‘

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر میں مسلمان مسلسل جبر و تشدد سے تکلیف میں ہیں۔

جموں اور کشمیر پر تمام اخلاقی، انسانی اور جمہوری قدروں کے خلاف قبضہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کشمیری عوام پر ظلم و استبداد، قتلِ عام، تشدد، گولیوں، پیلٹ گنز ریپ اور استحصال کا نہ تھمنے والا سلسلہ عام ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام تر ظالمانہ کارروائیوں کی ناکامی پر اب بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل آبادی کی تعداد کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

سید علی گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ 57 مسلمان ممالک آج تک مسلم امہ کو بچانے نہیں آئے اور ان کی نمائندہ تنظیم کشمیری مسلمانوں کے رستے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ہمارے قاتلوں کا خیر مقدم کے لیے تیار ہے۔

سشما سوراج کو او آئی سی اجلاس میں مدعو کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو دعوت دینا جن کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہیں ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

سید علی گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ تنطیم کے سرگرم اراکین کی جانب سے بھارت کو واضح الفاظ میں پیغام جانا چاہیے کہ یہ کسی طور بھی مسلم امہ کے سرپرستوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے دہلی کو بھی اپنے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ او آئی سی کو ’مسلم دنیا کی مجموعی آواز‘ تصور کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد مسلم امہ کے مفادات کا عالمی سطح پر تحفظ کرنا اور دنیا کے دیگر لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

ماضی میں او آئی سی کی جانب سے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کی جاچکی ہے۔

واضح رہے کہ او آئی سی کا اجلاس ابوظہبی میں یکم اور 2 مارچ کو منعقد ہوگا جس میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید بن النہیان نے بھارتی وزیر خارجہ کو ’اعزازی مہمان‘ کے طور پر مدعو کیا ہے۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.