سعودی عرب لیوی ٹیکس:غیر ملکی بے چین، اہل خانہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ

ریاض ( نیوز ڈیسک ) سعودی عرب میں موجود غیر ملکی باشندوں کے اہل خانہ پر عائد لیوی ٹیکس کے سبب غیر ملکیوں میں بے چینی پھیل گئی، غیر ملکیوں نے اہل خانہ کے اقامہ میں توسیع کے بجائے انہیں واپس اپنے وطن بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت نے غیر ملکی باشندوں کے اہل خانہ پر 100 ریال ماہانہ فی فرد کے حساب سے لیوی ٹیکس کی مد میں وصولی کا فیصلہ کیا ہے، یہ وصولی ان سے اقامہ (ریذیڈنٹ پرمٹ) کی تجدید کے وقت وصول کی جائے گی۔

ٹیکس عائد کرنے سے ان غیر ملکی باشندوں میں سخت بے چینی پھیل گئی ہے جن کے اہل خانہ سعودی عرب میں موجود ہیں اور ان کا اقامہ ختم ہونے کے قریب ہے۔ متعدد غیر ملکیوں نے اپنے اہل خانہ کو سعودی عرب میں رکھنے کے بجائے انہیں وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ فیملی ٹیکس کی ادائیگی سے بچیں جو کہ ان پر غیر معمولی مالی بوجھ ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جدہ کے پاسپورٹ آفس کے کمپیوٹر سسٹم میں خرابی ہوئی جس کے باعث متعدد غی ملکیوں نے فیملی ٹیکس ادا کردیا لیکن وہ کمپیوٹر پر ظاہر نہیں ہوا یا جن پر ٹیکس لاگو نہیں وہ بھی اس ضمن میں آگئے۔

سعودی گزٹ کے مطابق ٹیکس وصول کرنے والے کمپیوٹر سسٹم میں خرابی کے سبب ادائیگیاں کرنے والے بہت سارے غیر ملکی باشندے متاثر ہیں۔ بہت سے غیر ملکیوں نے یکم جولائی سے قبل ہی دو ماہ کے ایگزٹ ری انٹر ی ویزا کی مد میں ادائیگیاں کردی ہیں لیکن کمپیوٹر سسٹم دکھا رہا ہے کہ ان کی فیملی کا ویزا ختم ہوچکا ہے۔

ریاض میں موجود ایک غیر ملکی نے بتایا کہ اس نے جون میں دو ماہ کا سنگل انٹری ایگزیٹ ری انٹری ویزا حاصل کیا، ویزا ختم ہونے سے ایک ماہ قبل سعودی عرب واپس آگیا، زوجہ کے یاد دلانے پر اس کا ویزا مقیم ویب سائٹ پر چیک کیا تو یہ دیکھ کر دھچکا لگا کہ اس کے ویزے کی میعاد جو کہ 20 اگست تک تھی وہ زائد المیعاد(ایکسپائر) ہوچکی تھی۔ ’’میں فیملی ٹیکس ادا کرچکا ہوں مگر کئی دن گزرنے کے بعد بھی زوجہ کے ویزا اسٹیٹس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ویزا ایکسپائر کا پیغام ملنے کے بعد سے میں پریشانی کا شکار ہوں۔‘‘

جدہ کے ریجنل پاسپورٹ آفس میں غیر ملکی باشندوں کا بہت ہجوم ہے جو اپنی فیملی کا ٹیکس جمع کرانے آئے ہیں اور وہاں موجود ہر غیر ملکی باشندے کی اپنی کہانی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق کچھ غیر ملکیوں نے فائنل ایگزیکٹ کا پروسس یکم جولائی سے قبل مکمل کرلیا وہ بھی پاسپورٹ آفس کے بعد اپنا موقف واضح کرنے کی کوشش میں نظر آئے کہ وہ فیملی ٹیکس ادا کرچکے ہیں لیکن ویزا سسٹم میں ظاہر نہیں ہوا۔

جدہ میں ایک کلینک پر کام کرنے والے بھارتی شہری محمد فیاض نے بتایا کہ ایگزٹ ویزا کا اسٹیٹس چیک کرنے کی مد میں جدہ پاسپورٹ آفس میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ فیاض نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اہل خانہ کا فیملی ٹیکس ادا نہیں کرے گا اور خود بھی واپس جائے گا جب کہ وہ دو ہفتے قبل ہی اپنی بیوی اور بچے کو فائنل ایگزٹ کرکے وطن واپس بھیج چکا ہے تاکہ فیملی ٹیکس سے بچ سکے۔

فیاض نے بتایا کہ اس کے مالک نے اسے ایگزٹ ویزا دلانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا، میری فیملی سعودی عرب چھوڑ چکی مگر فیملی ٹیکس مجھ پر لاگو ہے، پاسپورٹ آفس پہنچا اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ میری بیوی اور بچہ یکم جولائی سے قبل ہی سعودی عرب چھوڑ چکے ہیں مگر پتا چلا کہ اس بات کی تصدق ہونے تک فیملی ٹیکس تو ادا کرنا پڑے گا۔ جس کے بعد اب فیاض ایگزٹ ویزا حاصل کرنے کا اہل اسی وقت قرار پایا جب اس نے بیوی اور بچے کی مد میں فیملی لیوی ٹیکس ادا کیا۔

About VOM URDU

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful