سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان پر موبائل سروس معطل وہ چیز جسے دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیدیا

اسلام آباد(نیو زڈیسک)سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں دو روز کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی میں فضائی حدود بند، موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل اور جڑواں شہروں میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بھی ممنوع ہوگا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سیکورٹی پلان تشکیل دیتے ہوئے دو روز تک راولپنڈی اور اسلام آباد کے مخصوص علاقوں میں موبائل فون سروس معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اہم شاہراہوں پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بھی بند رہے گا، سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران اسلام آباد کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رہے گی۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دو روزہ دورے پر 16 فروری کو پاکستان پہنچ رہے ہیں اور ان کے ہمراہ شاہی خاندان کے اہم افراد کے ساتھ ساتھ وزرا اور کاروباری شخصیات سمیت ایک بڑا وفد بھی پاکستان آئے گا جس کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سیکورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔انتظامیہ کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں ایک ہزار سے زائد سیکیورٹی چیک پوائنٹس بنائے جائیں گے اور اہم شاہراہوں پر بڑی گاڑیوں کا داخلہ 2 روز کے لیے بند رہے گا۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ راولپنڈی اسلام آباد کی فضا میں تربیتی پروازیں معطل رہیں گی اور ڈرون یا اس جیسے ہیلی کاپٹروں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق جڑواں شہروں کی میٹروبس سروس راولپنڈی تک محدود رہے گی اور مخصوص علاقوں میں موبائل سروس بھی بند رہے گی دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا ائیرسپیس مکمل طور پر بند کردیا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جڑواں شہروں کی اہم شاہراہوں پر تعینات کیے جائیں گے۔وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ ایکسپریس ہائے وے کو وی وی آئی پی موومنٹ کے لیے بند کی جائے گی تاہم پشاور، کہوٹہ، مری سے آنے والی ٹریفک کو متبادل راستے فراہم کیے جائیں گے،ایکسپریس ہائی وے کورال چوک سے فیصل ایونیو 15 یوٹرن تک محدود وقت کے لیے بند کی جائے گی اور مری روڈ فیض آباد انٹرچینج سے سیرینا چوک تک بند رہے گی۔محمدبن سلمان کے دو روزہ دورے میں شاہراہ دستور ریڈیو پاکستان سے سیرینا ہوٹل، سہروردی روڈ تک بند رہے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ کوشش کی جارہی ہے کہ سیکورٹی انتظامات کے دوران شہریوں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے تاہم ان اوقات میں اسکول اور دفاتر جانے والے افراد وقت سے پہلے گھر سے نکلیں۔سعودی ولی عہد کے دورے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی معاہدوں اور مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط ہوں گے جس میں سرمایہ کاری، فنانس، توانائی، انٹرنل سیکیورٹی، میڈیا، ثقافت اور کھیلوں سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔عرب نیوز نے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ سعودی ولی عہد پہلے ریاستی مہمان ہوں گے جو وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ میں ٹھہریں گے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد کی ذاتی سیکیورٹی وزیراعظم ہاؤس کا تحفظ کرے گی جس کے ساتھ پاکستانی سیکیورٹی عہدیدار بھی شامل ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق ولی عہد کے دورے کے دوران سعودی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس عہدیدار متوقع طور پر وفاقی دارالحکومت میں دوروز تک موجود ہوں گے۔سعودی کابینہ مفاہتمی یادداشتوں پر دستخط کرے گسعودی کابینہ میں شامل توانائی، صنعت، معدنیات کے وزیر اور ان کے نائب مذاکرات کو حتمی شکل دیں گے اور پاکستانی حکام کے ساتھ مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کریں گے۔سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر اور ان کے نائب کے ساتھ پاکستان کی جانب سے توانائی کے منصوبوں، سرمایہ کاری، پیٹرولیم اور معدنیات کے شعبے کے عہدیدار دستخط کریں گے۔گزٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی کمیشن برائے سیاحت و قومی ورثہ کو بھی باہمی تعاون کے لیے مذاکرات اور معاہدوں پر دستخط کی منظوری دی گئی ہے۔سعودی ولی عہد کے دورے کا شیڈول سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ملاقات صدر مملکت عارف علوی اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی متوقع ہے۔محمد بن سلمان کے ہمراہ آنے والے سعودی وزرا بھی اپنے ہم منصبوں سے ملیں گے اور مذکورہ شععبوں میں باہمی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔سعودی کاروباری شخصیات بھی پاکستانیوں سے ملاقاتیں کریں گے اور دونوں ممالک میں نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع ڈھونڈے جائیں گے۔وزیراطلاعات فواد چوہدری نے عرب نیوز کو بتایا سعودی ولی عہد کے اعزاز میں پریزیڈنٹ ہاؤس میں استقبالیہ دیا جائے گا جہاں وزیراعظم، آرمی چیف، تمام وزرا، بیوروکریٹس اور ملک کی اہم شخصیات کے ساتھ ساتھ وفد میں شامل شاہی خاندان کے افراد بھی شریک ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سائنس، انفارمیشن اور میڈیا سمیت مختلف جوائنٹ گروپس کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد بھارت، چین، ملائیشیا اور انڈونیشیا جائیں گے۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.