سپریم کورٹ کا گلگت بلتستان کے آئینی و بنیادی حقوق اورعدالتوں کے دائرہ اختیار کے بارے میں لاجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ

چیف جسٹس آف پاکستان نے گلگت بلتستان کے آئینی و بنیادی حقوق اور وہاں کی عدالتوں کے دائرہ اختیار کے بارے میں کیس کی سماعت کے لئے لاجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے سات رکنی لاجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے سماعت پیر 15اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے گلگت بلتستان کے حوالے سے مقدمات بروز منگل سماعت کے لئے کاز لسٹ میں شامل ہونے کو تکنیکی غلطی قرا ر دیتے ہوئے کہا کہ” گلگت بلتستان کا معاملہ بہت اہم ہے اس لئے لاجر بینچ تشکیل دے رہے ہیں ہم نے مشاورت کی تھی کہ یہ کیس لاجر بینچ سنے گا تاہم آفس یا میری غلطی کی وجہ سے کاز لسٹ میں اس طرح لگ گیا”۔چیف جسٹس نے عدالتی معاون سینئر قانون دان خواجہ حارث سے کہا کہ اپ بتا دیں سارے لوگ موجود بھی ہیں تو یہ کیس کب سنا جائے۔اگر کہتے ہیں توآج( منگل کو) ہی بریک کے بعد سن لیتے ہیں تاہم بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ فائل بک صرف تین ہیں تو سات رکنی بینچ کو سننے میں مشکلات ہوگی۔سماعت شروع ہوتے ہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالتی معاون سنئیر قانون دان اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے تمام وکلا اور اٹارنی جنرل سمیت فریقین سے مشاورت کے بعد کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے پیر کو باقاعدہ طور پر وکلا  کو دلائل دینے کی ہدایت کی ۔منگل کے روز اس کیس کی سماعت کرنے والی بینچ میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار ، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس فیصل عرب شامل تھے ۔
گلگت بلتستان کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے موقع پر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیپٹن ریٹاڈ محمد شفیع سمیت گلگت بلتستان کے متعدد قوم پرست اور سیاسی رہنما موجود تھے ۔سپریم کورٹ کی کاز لسٹ کے مطابق اس کیس کے اہم فریق وہاں کے قوم پرست رہنما ڈاکٹر غلام عباس ہیں۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.