گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے ایکٹ آف پارلیمنٹ کا مسودہ تیار

سینٹ اور قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو نمائندگی نہیں مل سکتی ہے. علی امین گنڈاپور

وفاقی وزیربرائے امورکشمیرو گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو وہ تمام بنیادی حقوق دیئے جائیں گے جو آئین پاکستان کے تحت کسی بھی صوبے کے شہریوں کو حاصل ہیں تاہم مسئلہ کشمیر کے باعث گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بنایاجاسکتا۔ پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ چونکہ گلگت بلتستان فی الوقت صوبہ نہیں بن سکتا اس لئے سینٹ اور قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو نمائندگی نہیں مل سکتی ہے تاہم قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)، مشترکہ مفادات کونسل(سی سی آئی) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)سمیت دیگرآئینی اداروں میں بطور مبصرو نان ووٹنگ ممبر نمائندگی دی جائے گی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع مشاورت کے بعدنیا ڈرافٹ تیار کرلیا ہے، جسے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ڈرافٹ کو قومی سلامتی کمیٹی میں بھی پیش کیاتھا۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بھی گلگت بلتستان کو حقوق کی فراہمی سے متعلق کیس میں یہی فیصلہ دیا تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، لہٰذا صوبہ بنائے بغیر حقوق دیئے جارہے ہیں جبکہ دفتر خارجہ کو بھی کشمیر کاز کے باعث گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر تحفظات تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عدالت میں نظرثانی کی درخواست دائر کررکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کوعدالتی ڈرافٹ میں مزید ترامیم کرنے کی اجازت دی جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کو بااختیار بنایا جائے اور ان کی ستر سالہ محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ سابقہ ادوار میں گلگت بلتستان کو جتنے بھی حقوق دیئے گئے وہ محض صدارتی آرڈرز کے ذریعے دیئے گئے جو وہاں کے عوام کو اب قابل قبول نہیں، وہاں کے عوام اب آرڈرز سے نفرت کرتے ہیں، اس لئے ہماری حکومت نے اس کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ نئے ایکٹ میں گلگت بلتستان کیلئے گندم پر سبسڈی، ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔دریں اثناء وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی گولہ باری سے شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصانات سے اقوام عالم کو آگاہ کرنے کیلئے نجی مالی معاونت سے ایک جامع فلم کی تیار ی کا عمل شروع ہوچکا ہے، فلم کا سکرپٹ تیار ہوچکا ہے،فلم کو عالمی فلم میلہ میں پیش کیا جائے گا۔رانا شمیم احمد خان کی سربراہی میں منعقدہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں اب تک مکمل ناکام ہے، اقوام متحدہ ستر برسوں میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں کامیاب نہ ہوسکی ہے، عالمی برادری خاموش ہے،اس کی وجہ انڈین لابی کا بہت ہونامضبوط ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ہندوستان کے لڑاکا طیارے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے، اگلے روز پاکستان نے انڈیا کے دو جہازوں کو پاکستانی حدود میں مارگرایا، مگر کسی بھی عالمی طاقت نے انڈیا کی اس حرکت کی مذمت تک نہیں کی۔عالمی برادری کو چاہئے تھا کہ بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی پر انڈیا کی مذمت کرتے لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ محض اتنی کوششیں ہوئیں کہ دونوں ملک کو جنگ سے بچایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔اجلاس میں سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان نے وزارت اور اس کے تمام ماتحت اداروں کی کارکردگی اور ورکنگ سے متعلق کمیٹی ممبران کو بریفنگ دی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھی اصلاحات کیلئے مشاورت جاری ہے، اگر تیرہویں ترمیم پر متفق نہ ہوتو اس کو ختم کرکے چودہویں ترمیم لیکر آئیں گے۔وفاقی وزیر امور کشمیرکا کہنا تھا کہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دیا جارہا ہے، ترقیاتی فنڈز میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔اجلاس میں رکن کمیٹی نثار احمد جٹ نے کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف مذمت اور کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے قرارداد بھی پیش کی جسے تمام ممبران نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.