سی پیک سے گلگت بلتستان کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا، چینی سفیر

اسلام آباد میں گلگت بلتستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (جی بی سی سی آئی) کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ ‘چین کی حکومت گلگت بلتستان اور سنکیانگ کے مابین تجارتی تعلقات کی بنیاد پر ترقی کی خواہاں ہے‘۔

چینی سفیر نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان کے خطے میں ہائیڈرو پاور منصوبے، گلگت چترال روڈ سمیت قراقرم ہائی وے کی مرمت اور توسیع کا کام شروع ہو چکا ہے۔

یو جنگ کا کہنا تھا کہ دونوں حکومتوں کے مابین ‘گرین چینل’ کے ذریعے تازہ اور خشک میوہ جات کی درآمدی منصوبہ تشکیل طے پاچکا ہے لیکن پاکستانی کسٹمز حکام منصوبے پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چینی شہریوں کے لیے ویزا امور پر غور جاری ہے جبکہ وہ درہِ خنجراب کے راستے پاکستان میں داخل ہو سکیں گے۔

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ خنجراب میں پاکستان اور چین کی سرحد ہر سال یکم اپریل سے 30 نومبر کھلے گی جبکہ گلگت بلتستان کی رہائشی پاس کے ذریعے چین کے صوبے سنکیانگ میں جا سکیں گے۔

 ڈان نیوز کے مطابق انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ چین میں تعلیم کے حصول کے لیے کوشاں پاکستانی طلباء کو ویزا میں خصوصی رعایت کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستانی تاجروں کی چینی بیویوں کی حراست کا معاملہ زیر غور ہے اور تمام خواتین سے چینی شہریوں کی حیثیت سے پوچھ گچھ کی جاری ہے’۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ ‘یہ مسئلہ اتنا سنجیدہ نہیں ہے تاہم سنکیانگ صوبے کی انتظامیہ نے ان تمام خواتین سے تحقیقات کا عمل شروع کیا جنہوں نے غیر ملکیوں سے شادی کی ہیں اور انہیں تفتیش کے بعد چھوڑ دیا جائے گا’۔

انہوں نے وضاحت دی کہ ‘خواتین سے تفتیش سیکیورٹی مقاصد کے لیے کی جارہی ہے’۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.